تنویر جہاں سے چند باتیں!
وجاہت مسعود اسلام آباد میں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ سیمنار ہال سے کچھ وقت کے لیے میرے ساتھ وہ باہرآئے۔ ہم نے بمشکل کوئی پندرہ سے بیس سیڑھیاں چڑھی ہوں گی لیکن وجاہت صاحب کو سانس کی درستی میں پانچ سے سات منٹ لگ گئے۔ ان سے باتیں کرنے کے دوران میرے ذہن میں وکٹر جی کیرنن کی ایک محبت بھری تشویش سے بھرپور تنبیہ چل رہی تھی جو انہوں نے فیض کے قریبی دوستوں کو کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا، "فیض کے دوستوں کو ہر ہفتے کے خاتمے پر ان سے دریافت کرتے رہنا چاہیے کہ انہوں نے کتنے صفحات لکھ لیے ہیں اور ہر روز شام کو معلوم کرتے رہنا چاہیے کہ انہوں نے کتنے سگریٹ کم پیے ہیں’
میں فیض صاحب اور وجاہت صاحب کی تخلیقی قوت اور طبیعت میں ٹھہراؤ کا موازنہ نہیں کروں گا کہ یہ وجاہت صاحب کے لیے اتنا ہی تکلیف دہ ہو گا جتنا منکسر المزاج فیض صاحب کے لیے ان کا اور اقبال کا موازنہ شرمندہ ہونے کا باعث بنتا تھا۔ لیکن ان کی سب سے قریبی دوست تنویر سے بغیر نفسیات کی تکنیکی اصطلاحات کے چند گزارشات تو کر سکتا ہوں۔
تخلیقی قوت ایک خاص ہیجان پیدا کرتی ہے۔ ہیجان کسی صورت عمومی کیفیت نہیں ہے۔ جہاں یہ ہیجان تخلیق کار کو معمول سے زیادہ کام کرنے پر اکساتا ہے وہاں مسلسل ایسی کیفیت صحت پر برے اثرات ڈالتی ہے۔ تخیلقی قوت کے پیدا کردہ ہیجان میں توجہ کا بڑا حصہ تخلیق کرنے یا تخلیق کی ستائش پر مرتکز رہتا ہے جس کی وجہ سے تخلیق کار عام زندگی کے معمولات میں کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہیجان ایک ایسا "نشہ” ہے کہ عمومی حالت جو کہ موزوں حالت ہوتی ہے اس طرف آتے ہی انسان ‘خالی’ محسوس کرتا ہے۔ مسلسل ہیجان میں رہنے سے ‘نارمل مرکز’ کسی قدر ہیجانیت کی جانب شفٹ ہو جاتا ہے۔
یہاں پر ایک دقت پیدا ہوتی ہے۔ آپ پینڈولم کے مرکز سے اس سائیڈ یا ہیجان والی سائیڈ پر ہوں یا دوسری سائیڈ افسردگی غم کی جانب ہوں فورا سگریٹ ‘وغیرہ’ کی طلب ہوتی ہے۔ نارمل کیفیت سے ادھر ادھر ہوتے ہی سگریٹ کی طلب کیوں ہوتی ہے شاید یہ بات اس وقت ہمارے موضوع سے مطابقت نہیں رکھتی۔
تنویر جہاں صاحبہ اگر میرے گھر میں کوئی ایسا تخلیق کار پیدا ہو جائے تو میرا اس کے ساتھ رویہ کیسا ہوگا ؟ میرا رویہ جانچنے کے لیے آپ کو 2017 کی ایک فلم ‘گفٹد” ضرور دیکھنی چاہیے۔ بلکہ ہر اس شخص کو دیکھنے چاہیے جس کے آس پاس کوئی ایسا فرد ہو جو ‘تخلیق کے تسلط’ کا شکار ہو جائے۔ ایسے فرد کو تسلط سے نجات دینے کے لیے بار بار دخل اندازی کرنا پڑتی ہے۔ شاید تعلقات میں تلخی کا بھی اندیشہ در آئے لیکن اس کی پرواہ کیے بغیر اس فرد کو ‘تخلیق کے تسلط’ سے نجات دلانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
وجاہت مسعود ‘ہم سب’ کی ادارت کے حوالے سے بیٹھے رہتے ہیں۔ لکھتے رہتے ہیں، پڑھتے رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی ایسا فرد جس میں غیر معمولی تخلیقی قوت ہو وہ زد پذیری یا یوں کہیے کہ انتہائی ‘غیر محفوظ کیفیت’ میں رہتا ہے۔ جیسے ہی کوئی اچھا فقرہ تخلیق ہوا، سگریٹ سلگا لیا، جیسے ہی کسی لکھنے والے کا اچھا اور معیاری مضمون موصول ہوا، سگریٹ ‘وغیرہ’ کی جانب دوڑے۔ اندازہ لگائیے کہ مسلسل ایسی ‘غیر محفوظ کیفیت’ میں رہنا کس قدر نقصان دہ ہے۔
میں کوئی تخلیق کار نہیں ہوں لیکن ہیجانی یا افسوس کی کیفیت سے تو دو چار رہتا ہوں۔ جب بھی مجھے احساس ہو کہ اب اس کیفیت میں زیادہ دیر بیت گئی ہے تو چاہے کتاب کھولی ہو یا کچھ لکھ رہا ہوں، چاہے پروڈکشن کا کوئی کام ہو یا فلم دیکھ رہا ہوں فوری طور پر اس مصروفیت کو ترک کر کے وقاص یا عمر ماہ یار کے ساتھ وقت گزارنا شروع کر دیتا ہوں۔ وقاص کے ساتھ ریل کی پٹڑی پر چلا جاتا ہوں اور ہم دونوں گھنٹوں ٹرین کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ میں ایسا کیوں کرتا ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں انسانی جسم کا احترام کرتا ہوں۔ انسانی جسم کے احترام کے کئی زاویے ہو سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم میرے نزدیک یہی زاویہ ہے۔ اگر عمر کی مناسبت سے دو کلو بھی وزن بڑھ جائے تو روزانہ سائیکل چلاتا ہوں۔ جسم بشمول ذہن سے بڑی تخلیق تو اس کائنات میں ابھی تک نظر نہیں آئی تو اس کے ساتھ ‘کھلواڑ’ اتنی بڑی تخلیق کی توہین کے سوا کچھ نہیں۔
چاہے "ہم سب” کے معمولات میں فرق آتا ہے تو بھلے آئے لیکن ان کو کمپیوٹر سے زبردستی اٹھائیے۔ باہر کسی پارک یا سڑک پر چہل قدمی کے لیے لے جائیے۔ خیال رہے کہ یہ موبائل فون گھر پر چھوڑ کر آئیں۔ ان کے نیند کے معمول پر نظر رکھئے کہ مسلسل کم نیند سے ‘دماغ اپنے آپ کو کھانا شروع کر دیتا ہے’۔ ان کو کسی پارک میں کسی چئیر پر بٹھائیے اور پابندی لگائیے کہ یہ پورا گھنٹہ آپ نے یہاں بیٹھنا ہے۔ چاہے بور ہوں، چاہے سر پیٹیں لیکن ان کو اٹھنے نہیں دینا۔ چاہے آپ کو یہ اس طرح کے واسطے دیں کہ ملک و قوم کے مستقبل کا سوال ہے، مجھے گھر جا کر کمپیوٹر پر بیٹھنے دو۔ آپ نے ان کو نہیں جانے دینا بلکہ کہنا ہے کہ آپ کا یہاں ایک گھنٹہ بیٹھنا بھی ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔ پانی پینے کے معمول پر نظر رکھیں۔ سگریٹ وغیرہ کا کوٹہ مختص کر دیں۔ (ایک ڈبیا بھی بہت زیادہ ہے)۔ یہ سب کچھ آپ اس وقت تک کریں جب تک کہ وجاہت مسعود کا چار کلومیٹر تیز چلنے کے باوجود سانس نہ پھولے۔
آپ شریک حیات سے کہیں زیادہ ان کی دوست ہیں۔ دوستوں کے کہے کی لاج رکھی جاتی ہے لیکن پھر بھی اگر آپ یہ محسوس کریں کہ ‘مریض’ تعاون نہیں کر رہا ہے تو لاہور میں دوستوں سے مدد طلب کیجئے۔ میں ہر وقت آنے کو تیار ہوں۔ ید بیضا، عاصم بخشی، فرنود عالم، لینہ حاشر اور جناب حاشر مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہیں۔ وسی بابا کو آخری اور فیصلہ کن کمک کے طور پر ایک آپشن رکھیں۔ میرا خیال ہے کہ وجاہت مسعود صاحب خود بھی نہیں چاہیں گے کہ معاملات اس حد تک آگے چلے جائیں کہ وسی بابا کو دخل اندازی کرنی پڑے۔
بقول افتخار عارف اگر یہ دنیا اک سؤر کے گوشت کی ہڈی کی صورت کوڑھیوں کے ہاتھ میں ہے تو ہماری انگشتری پر بھی یا علی کندہ ہے۔ ہم نے کب کہا ہے ہم فاتح ہوں گے۔ ہماری نظر میں منزل سے زیادہ سفر کی حرمت ہے۔ سفر سے محبت ہو تو سفر کٹتا رہتا ہے لیکن کسی کٹھن منزل کو سوچتے ہی ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ امکانات پیدا ہو جاتے ہیں کہ انسان مایوس ہو کر بیٹھ جائے۔ اس سفر کے لیے ہمیں اپنے صحت مند جسم اور ذہن کی معاونت درکار ہے۔ اگر یہ سفر مبارک نہ ہوتا تو میں کبھی تنویر جہاں سے ایسی چند باتیں نہ کرتا۔ پھر تو کون کب آئے جائے کیا فرق پڑتا ہے۔ کوئی اپنے جسم کا احترام کرے نہ کرے کیا معنی رکھتا ہے۔
وجاہت مسعود کے ذمہ کچھ ادھورے کام ہیں۔ زیادہ ہیں لیکن کرنے تو ہیں۔
ابھی وجاہت مسعود نے خضدار کے اس بچے کی بہتی ناک پونچھنی ہے جو سخت سردی میں ننگے پیر گھومتا ہے۔
ابھی وجاہت مسعود نے مزدوری کی مشقت سے تھک کر چلچلاتی دھوپ سے بے پرواہ بجری پر سوئے ہوئے مزدوروں کو جگا کر ٹھنڈا پانی پلانا ہے۔
ابھی وجاہت مسعود نے بیٹیوں پر ظلم کے بین تاریخ کا حصہ بنانے ہیں۔ اگر وجاہت مسعود نے سستی کی تو وارث شاہ کے سامنے کس منہ سے جائیں گے۔
ابھی وجاہت مسعود نے میدانوں میں کلکاریاں ماتے بچوں کو تتلیاں پکڑ کر دینی ہیں۔
ابھی وجاہت مسعود نے ہمیں اس نامعلوم دیس کا پتہ دینا ہے جہاں ‘میری جھوک وسے’ میرا ویر وسے’
ابھی وجاہت مسعود نے سات سالہ اس بچی کی قبر پر بیٹھ کراسکی عمر کا حساب جاری رکھنا ہے جس کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا اور جسم (لاش کہنے سے دل ڈوبتا ہے) کماد کے کھیت میں پڑا رہا۔ آج سے دو سال بعد جب میں وجاہت مسعود سے پوچھوں کہ ایمان فاطمہ کی عمر کتنی ہے تو وہ فورا بتائیں نو سال اور دو مہینے۔ ۔ ہم اپنے بچوں کی عمر پانچ بج کر سترہ منٹ پر نہیں روکیں گے۔
ابھی وجاہت مسعود نے ڈھول پرناچنے والوں کی ایڑیوں سے اٹھنے والی مقدس دھول کو کسی ڈبیا میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنا ہے۔
ابھی وجاہت مسعود نے صبح اٹھنے والے نوبیاہتے شرمیلے جوڑوں کو دعائیں اور تحائف دینے ہیں۔
ابھی وجاہت مسعود نے پیچھے رہ جانے والوں کے درمیان میں چل کر ان کو امید دلاتی ایسی کہانیاں سنانی ہیں کہ ان کا سفر بھی جاری رہے اورخون آلودہ چپلوں کی جانب ان کو توجہ بھی نہ جائے۔
ابھی ہمیں ایک ایسے چوپال کی ضرورت ہے جہاں وجاہت مسعود جیسا جہاندیدہ ، کہانیوں کا آٹا گوندتے ہوئے عقل کا نمک ڈالنا نہیں بھولتا۔ بد بخت قحط کے شکار گاؤں کے افراد کے لیے وجاہت مسعود کا تادیر چوپال میں بیٹھا رہنا ضروری ہے۔



