فلسطین میں ایک پاکستانی

پچھلی ہزارویں کے آخری دنوں میں، اس سے بالکل پہلے جب میلینیم بگ کے بارے میں یہ پیش گوئی کی جا رہی تھی کہ وہ ہمارے کمپیوٹر کی تمام میموری اڑا دے گا، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی قابل یقین افواہیں چل رہی تھیں۔
اس منڈلاتے ہوئے امن کا ثبوت میرے پاسپورٹ پر موجود تھا۔ لندن کے اسرائیلی سفارت خانے نے میرے پاکستانی پاسپورٹ پر رپورٹنگ ویزا دے دیا تھا۔ وہ اتنے سمجھدار تو تھے ہی کہ انہوں نے پاسپورٹ پر ویزے کی مہر نہیں لگائی۔ میں ایک ایسے سبز پاسپورٹ کو تھامے بڑا ہوا تھا جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا ”دنیا کے تمام ممالک میں سفر کے لئے کارآمد ماسوائے کیوبا اور اسرائیل کے“۔
مجھے اس وقت یہ یقین ہو گیا کہ قیام امن ہونے والا ہے جب میں نے یروشلم میں واقع ڈائرکٹوریٹ آف سینسرز میں حاضری دی اور یہ جانا کہ اس کا تمام عملہ ہڑتال پر ہے۔ پاکستان میں مختلف اقسام کی سینسر شپ کے زیر سایہ رہنے کے سبب (آدھی رات کو دروازہ کھٹکھٹائے جانے سے لے کر تمہارے انکل تمہاری تحریر کے متعلق کیا سوچیں گے)، میرے یہ انتہائی فرحت بخش تھا: جب ڈائرکٹوریٹ آف سینسر شپ ہی ہڑتال پر چلی جائے تو پیچھے کون بچے گا جس سے خوف کھائیں؟
کئی گھنٹوں بعد، کھانا تلاش کرتے ہوئے میں خوفزدہ تھا۔ ایک ایسے معصوم سیاح کی طرح جو یہ سمجھتا ہے کہ کسی شہر کو جاننے کا بہترین طریقہ اس میں کھو جانا ہے، میں مختلف دکانوں، کیفے اور مے خانوں میں گھسنے کی کوشش کرتا رہا۔
جب میں نے مغربی یروشلم کے مہنگے علاقے میں ایسا کرنے کی کوشش کی تو مجھے دروازے پر ہی روک دیا گیا۔ آپ کا نام؟ شناخت؟ میں نے اپنا پاسپورٹ اس امید پر آگے کر دیا کہ جواب میں مجھے سننے کو ملے گا ”اوہ، یہ پاکستان کہاں ہے؟ آپ کو ہمارے ملک میں کیا شے کھِینچ لائی ہے؟ “ لیکن مجھے یہ سننے کو ملا ”ہم اجازت نہیں دے سکتے“۔
میں یہ کہنے لگا تھا کہ ”لیکن میں فلسطینی نہیں ہوں“ لیکن مجھے یہ احساس ہوا کہ دونوں لفظ یعنی پاکستان اور پیلسٹین (فلسطین) ایک جیسے ہی سنائی دیتے ہیں۔ میں یروشلم ہوٹل کی حفاظت میں لوٹ گیا جہاں تین موبائل فون والا ایک ٹور آپریٹر مجھ جیسے بھٹکے ہوئے لوگوں کو تھکے ماندے انداز میں ہدایات دے رہا تھا۔
میں نے مشرقی یروشلم تک محدود رہنے اور ایک محفوظ فاصلے سے امن کو دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں امریکی کالونی ہوٹل افطار اور کرسمس کی سجاوٹ کا بندوبست ایسے لوگوں کے پتھراؤ سے محفوظ رہ کر کر سکتا تھا جو افطار یا کرسمس کے خلاف ہیں۔ القصبہ تھیٹر ”بے مقصدی ڈراموں“ کی ریہرسل کرا سکتا تھا اور اداکار اپنے کھیلوں کو ”بے مقصدی“ ڈراموں کے بین الاقوامی میلوں میں لے جانے کا خواب دیکھ سکتے تھے۔
ہفتے کو یوم سبت پر اسرائیلی لڑکے ڈرائیو کرتے ہوئے رام اللہ جا کر آئس کریم کھاتے اور کسی کو قتل کیے بغیر ڈرائیو کرتے ہوئے واپس چلے جاتے۔ میں رام اللہ میں رات گئے ہونے والے کنسرٹس میں گیا۔ میں نے آئس کریم کھائی۔ میں نے فلسطینی اتھارٹی کی کرپشن کے بارے میں داستانیں سنیں۔ جب لوگ کھدی ہوئی سڑکوں اور ٹریفک جام کی شکایت کرنے لگیں تو آپ جان جاتے ہیں کہ ترقی کا سفر جاری ہے۔
رملہ میں دیسی
کچھ دن بے مقصد پھرنے کے بعد میں نے رملہ جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے سنا تھا کہ ادھر بہت سے انڈین رہتے ہیں۔ یہ ایسی کہانی لگ رہی تھی جو میں بیچ سکتا۔ ”سنو سنو، ارض موعود میں انڈین باشندے رہتے ہیں“ قسم کی کہانی۔
میں ہنوکا کے جشن کی شام کو ایک سیناگوگ پہنچا۔ ادھر انڈین صحافیوں کا ایک گروپ ایک آفیشل ٹرپ پر اسی وقت پہنچا جب میں سیناگوگ میں داخل ہوا۔ رملہ ان ہی خلیجی شہروں جیسا محسوس ہوا جہاں برصغیر کے آدمی نیم غلامی کی حالت میں جا کر رہتے ہیں تاکہ ان کے خاندانوں کو ٹائلٹ اور ایل سی ڈی مل سکے۔
سیناگوگ کے اندر بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ ایک چھوٹے بھارتی شہر کی شادی کی تقریب ہو۔ یا پھر ایک پاکستانی شادی۔ بندہ فرق کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ بھڑکیلے لباسوں میں ملبوس خاندان، مٹھائیاں اور مانوس سی خوشبوئیں۔ مجھے انڈین وفد کا صحافی سمجھ کر ہار پہنائے گئے۔ مجھے خیال آیا کہ انڈین اس معاملے میں اپنی فطرت کے ہاتھوں بے بس ہیں۔ اگر آپ ایک اجنبی کے طور پربھی ایک یہودی گاؤں میں پہنچیں تو وہ آپ کے گلے میں ہار ڈال دیں گے اور آپ سے توقع کریں گے کہ آپ ایک تقریر کریں۔
ایک ایک کر کے بھارتی وفد کے اراکین کھڑے ہوئے اور مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہ لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ وہ بھارتی غربت اور ذات پات کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور ان کو اسرائیل اور اس کے نظریے کا وفادار رہنا چاہیے۔ مجھے بھی تقریر کرنے کا کہا گیا۔
میں نے وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ ”میں اس وفد کا حصہ نہیں ہوں لیکن میں وہاں موجود ہونے پر شاداں ہوں، ہاروں کے لئے شکریہ، مٹھائیوں کے لئے نوازش، میں وہاں ان کی کہانیاں سننے آیا ہوں۔ اور ہاں، میں انڈیا سے نہیں ہوں، میں کراچی سے ہوں“۔ میں نہیں جانتا کیوں لیکن میں نے لفظ ”پاکستان“ استعمال نہیں کیا، جیسے یہ مجھے دشمنوں کی صف میں کھڑا کر دے گا۔ جیسے ہی میں نے لفظ ”کراچی“ ادا کیا تو مجمعے میں کسی نے بآواز بلند سسکی بھری۔
تقریروں کے بعد ایک ادھیڑ عمر آدمی میری طرف بڑھا۔ وہ کراچی کا دانیال تھا۔ وہ ان جگہوں کی یادوں میں گھرا ہوا تھا جو اب وجود نہیں رکھتی تھیں۔ وہ ایرانی ریستوران؟ ختم؟ منروا سینما؟ گرا دیا؟ وہ کراچی میں اپنے سیناگوگ کو ”کراچی میں ہماری مسجد“ کہہ کر یاد کرتا رہا۔
وہ مرحوم ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کا مداح تھا۔ وہ ہمارے اس وقت کے ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے بارے میں نہایت خوش گمان تھا۔ وہ اپنے لیڈر ایریل شیرون سے خوش تھا۔ ”ہماری قوم کو مرد آہن کی ضرورت ہے“۔ میں نے یہی سمجھا کہ ”قوم“ سے اس کا مطلب کراچی کے لوگ ہیں۔ اس کا خاندان ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں منتقل ہوا تھا۔ ”کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر ہمارا خاندان بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں نقل مکانی کر گیا“۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اس کا خاندان کامیاب ہوا؟
وہ مجھے ایک طرف لے گیا اور اس نے مجھے رملہ کی اندرونی سیاست کے بارے میں ایک چھوٹا سا لیکچر دیا۔ ”آپ جانتے ہیں کہ یہاں ہم واحد پاکستانی خاندان ہیں۔ باقی سب انڈین ہیں۔ حتی کہ میرے سسرال والے انڈین ہیں۔ مگر تم انڈینز کو جانتے ہو، وہ کبھی بھی ہم پاکستانیوں کو اپنے برابر کا قبول نہیں کرتے۔ وہ ہمیں کچھ اچھا کرتے ہوئے برداشت نہیں کرتے۔ تو یہ ایک بڑا مسئلہ ہے“۔ مجھے یہ جان کر ایک خوشگوار سی حیرت ہوئی کہ یہ دیسی یہودی بھی انڈیا پاکستان تقسیم کا شکار ہیں۔ ہم میں سے کچھ ارض موعود جا سکتے ہیں مگر ہم اپنے دشمن بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔
امن آ رہا ہے
میں نے اس قبضے کو صرف ایک فاصلے سے ہی دیکھا تھا۔ شاعری میں، اخبارات میں اور کبھی کبھار ٹی وی پر۔ یہ تصور کرنا ہی مشکل تھا کہ آپ کس طرح بیک وقت قبضہ اور امن برقرار رکھ سکتے ہیں۔ میں الاقصی کے مفتی اعظم سے ملاقات کے لئے گیا اور یہ دیکھا کہ چند اسرائیلی پولیس افسران ان کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ چائے پی رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ کیا وہ امن کی بات چیت کر رہے تھے؟
میں نے اپنے میزبان سے ترجمہ کرنے کا اصرار کیا۔ اس نے نیم دلی سے بتایا کہ وہ آثار قدیمہ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ایک ماہر آثار قدیمہ ایک نقشہ لے کر آیا اور بے بسی کے عالم میں اپنے ہاتھ لہرانے لگا۔ میرے میزبان نے بتایا کہ ایریل شیرون وہاں آنا چاہتا تھا۔ اور یہ امن کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔ ماہر آثار قدیمہ نقشے کی طرف اشارے کر کے تنبیہ کرتا رہا۔ اسرائیلی پولیس والے چائے پیتے رہے۔ مفتی صاحب ایک بے ضرر سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے رہے۔
شیرون کچھ عرصے تک دورہ نہیں کرے گا اور امن کا فریب کچھ عرصے تک برقرار رہے گا۔ آپ کو ثبوت چاہیے؟ فلسطینی اتھارٹی کے تحت بننے والے نئے کیفے گن لیجیے۔ اگر جنگ کا خدشہ ہو تو آپ نئے کیفے نہیں بناتے۔ وہ اگلے برس آئے گا اور پھر امن کے خواہاں صم بکم رہ جائیں گے۔
بیت لحم میں کلیسا المہد کے عین مقابل ایک فلسطینی خاندان اپنا مستقبل تعمیر کرنے میں مصروف تھا۔ وہ حال ہی میں امریکہ سے آئے تھے اور انہوں نے ایک پوش ریستوران بنایا تھا۔ انہوں نے یسوع مسیح کی دو ہزارویں سالگرہ سے چند دن پہلے ریستوران کا افتتاح کیا۔ یہ ایک دلربا خاندانی کاروبار تھا۔ مالک، اس کے ٹین ایج لڑکے اور لڑکیاں دوسرے بیروں کے پہلو بہ پہلو کام کرتے تھے۔
جب یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سیاحوں کے جم غفیر کے درمیان پلیٹوں کو سنبھالتے تو مجھے یہ گمان ہوتا کہ کئی نسلیں اس سے روزی کمائیں گی۔ امن کا مطلب ہے خوشحالی، میرے ذہن میں خیال گزرا۔ جب تقدس معیشت سے ملتا ہے تو سب کی جیت ہوتی ہے۔
بیت لحم میں کون گڑبڑ کرے گا، وہاں تو کلیسا المہد موجود ہے۔ وہ فلسطینیوں کے ساتھ گڑبڑ کر سکتے ہیں لیکن بیت لحم کے ساتھ نہیں۔ اس کا تعلق تو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے اربوں مسیحیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ فضا میں اس قدر رجائیت دیکھ کر میرے کھانے میں ایک ملکوتی سا ذائقہ گھل گیا۔
صرف ایک برس بعد بہت دور اپنی میز پر بیٹھے ہوئے میں نے کلیسا المہد پر اسرائیلی فوج کی گولہ باری کا منظر دیکھا۔ مجھے یسوع مسیح کی جائے پیدائش کی کچھ خاص فکر تو نہیں تھی لیکن میرا دل یہ دیکھ کر پارہ پارہ ہو گیا کہ اس کے گرد واقع ریستوران اور دکانیں ملبے کا ڈھیر بن رہی تھیں۔
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اربوں مسیحی اس ایک چھوٹی سی جگہ کو نہ بچا پائے جو زائرین کو خوش ذائقہ کھانا فراہم کر رہی تھی۔ اور صرف یسوع مسیح کی جائے پیدائش پر ہی کیوں رکا جائے جب کہ آپ جد الانبیا کی ابدی قیام گاہ پر جا کر بھی یہی سب کچھ کر سکتے ہیں؟
(جاری ہے)
ترجمہ: عدنان خان کاکڑ
فلسطین میں ایک پاکستانی – آخری حصہ


Comments are closed.