فلسطین میں ایک پاکستانی – آخری حصہ


پہلا حصہ: فلسطین میں ایک پاکستانی

جد الانبیا کا سائیں سائیں کرتا شہر

اس بات پر سب متفق ہیں، کم از کم وہ سب جو خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں، کہ حضرت ابراہیم توحید پرست مذاہب کے جد الانبیا ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کہیں کوئی چھوٹا موٹا مذہبی فرقہ ہو گا جو یہ سوچتا ہو گا کہ وہ کچھ خاص اہم نہیں تھے، لیکن تمام مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کے لئے وہ ایک عظیم بزرگ ہیں۔

سنہ 1999 میں میں الخلیل شہر گیا۔ الاقصی کے جنگ بھگتنے والے عبادت گزاروں یا دیوار گریہ کے سامنے دیکھی جانے والی شوریدگی کے مقابلے میں الخلیل میں ایک بڑے دیہاتی میلے کا سا سماں تھا۔

ایک آہنی جنگلے نے حضرت ابراہیم کی قبر کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ مسجد ابراہیمی کا قتل عام ہو چکا تھا اور بظاہر حضرت ابراہیم کے پوتوں کو ایک دوسرے سے محفوظ رکھنے کے لئے اسرائیلی حکومت نے اپنا پسندیدہ انتظامی قدم اٹھایا تھا یعنی ایسی تقسیم جس کے نتیجے میں ایک طرف یہودی اور دوسری طرف مسلمان اور دوسرے عقائد کے لوگ ایک ہی قطار میں لگے بغیر جا کر نذرانہ عقیدت پیش کرنے لگے۔

منقسم قبر سنگدلی کی نشانی تھی لیکن باہر ایک نان سٹاپ شاپنگ کا میلہ سجا ہوا تھا۔ یہاں دکاندار آپ کے مذہب یا نسل کی پروا نہیں کرتے تھے۔ مجھے یک گونہ تسلی ہوئی کہ بہت سی نسلوں کو جنم دینے اور بہت سے مذاہب کی داغ بیل ڈالنے کے باوجود جد الانبیا نے معاش کی تلاش میں ہم سب کو یکجا کر رکھا ہے۔ مول تول سے ملنے والی سستی چیزوں نے میرے عقیدے کو توانا کیا۔

ہزاروں برس سے تینوں مذاہب کو ماننے والے ان کی اس آخری آرام گاہ پر آتے رہے ہیں۔ یہ ان بابرکت جگہوں میں سے ہے جہاں معیشت کا مرکز ایک مزار ہے۔ آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ ایک کھوکھا لے کر اسے مذہب سے وابستہ سامان سے بھر ڈالیں اور پھر بھولے بھالے لوگوں کے آنے کا انتظار کریں۔

ان دکانوں میں آپ کو ہاتھی دانت کی صلیبیں، یسوع مسیح کے درجن بھر انداز والے مجسمے، مقدس پانی کی ننھی ننھِی بوتلیں، مقدس مٹی کی چھوٹی چھوٹی شیشیاں، خنجر، تلواریں، پرانی طرز کے گلدان، اور کسی نامعلوم وجہ سے وہ بیلٹیں جو بیلی ڈانسرز پہنتی ہیں، مل جاتے ہیں۔ اشیا کی اس بہت بڑی ورائٹی اور خریداروں کے ایسے ہجوم کے باعث جو دنیا کی دو تہائی آبادی پر مشتمل ہے، الخلیل کا دھندا کبھی مندا نہیں پڑے گا۔

دس برس بعد میں پیل فیسٹ (فلسطینی ادبی میلے) کے ساتھ دوبارہ الخلیل گیا۔ نہ صرف یہ کہ اس کا کاروبار ختم ہو چکا تھا، بلکہ میں نے پہلی مرتبہ ایک سائیں سائیں کرتا ہوا شہر دیکھا۔ کبھی ایک زندگی سے بھرپور اور روحانیت اور معیشت سے دھڑکتا ہوا مرکز اب مکمل طور پر بند ہو چکا تھا۔ مسجد اور تقسیم شدہ قبر پر تالے پڑے ہوئے تھے۔ مسجد کے گرد کا علاقہ مکمل طور پر قفل شدہ تھا۔ علاقے کے بیشتر رہائشی نقل مکانی کر چکے تھے۔ تمام جگمگاتی ہوئی چھوٹی دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ مذہبی معیشت دم توڑ چکی تھی۔

یہ سب اس لئے کیا گیا تھا تاکہ کینیڈا اور امریکہ سے نازل ہونے والے چند سو آباد کاروں کو پرسکون کیا جا سکے۔ پورے جنگی ساز و سامان سے آراستہ اسرائیل کے فوجی لڑکے سڑکوں پر گشت کرتے۔ وہ اپنی بندوقیں ہر ایسے شخص پر تان لیتے جو مسجد کے قریب جانے میں کامیاب ہو جاتا۔ یہ لڑکے بہت عرصہ قبل فوت ہونے والے اپنے جد امجد سے جنگ لڑنے آئے تھے اور توقع کے مطابق جیت گئے۔ میں نے اتنے خوفناک ٹین ایجر کبھی نہیں دیکھے ہیں۔

ایک ملک جسے ٹین ایجر چلاتے ہیں

آپ کے سر کی طرف بندوق لہراتے ہوئے یونیفارم میں ملبوس ٹین ایجر کو تھپڑ مارنے کی بے پناہ خواہش صرف اس کی ٹریگر پر موجود انگلی دیکھ کر ختم ہوتی ہے۔

میرا ان سے ہر بارڈر کراسنگ اور ہر چیک پوائنٹ پر سامنا ہوا۔ ان کو دیکھتے ہی پہلی چیز جو آپ پوچھنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ سکول میں کیوں نہیں ہیں۔ لیکن پھر آپ ان کے بچوں جیسے چہرے اور ان کے خودکار ہتھیاروں پر نظر ڈالتے ہیں اور اپنے سوالات خود تک ہی محدود رکھتے ہیں۔

ان میں سے ایک نے، جو یونیفارم بھی نہیں پہنے ہوئے تھا، مجھے دریائے اردن کی کراسنگ پر تپتے سورج میں ایک بینچ پر بٹھا دیا۔ اس نے میرے سن گلاسز لے لئے۔ دیکھنے کو کچھ بھی نہیں تھا سو میں اسے دیکھتا رہا اور وہ مجھے۔ اس نے اپنے سن گلاسز پہنے ہوئے تھے۔ میں نے اس کی بندوق پر اپنی نظروں کو مرکوز کر لیا۔

اس نے اپنی بندوق کے میگزین سے ایک اضافی میگزین ٹیپ سے لگایا ہوا تھا۔ میں نے کراچی کے گینگسٹرز کو بندوقوں کے ساتھ یہ کرتے دیکھا تھا، ممکنہ طور پر اضافی فائر پاور کے لئے۔ اور کس وجہ سے آپ ایک اضافی میگزین اپنی بندوق کے ساتھ چپکائیں گے؟ یہ اضافی میگزین کس طرح کام کرتا ہے؟

”تم کیا کرتے ہو؟ “ بعد میں امیگریشن پر ایک دوسرے ٹین ایجر نے پوچھا۔ میں ایک رائٹر ہوں۔
”تم کیا لکھتے ہو؟ “۔ کہانیاں۔
”کس قسم کی کہانیاں؟ “
رومانی کہانیاں۔ میں نے اس امید پر کہا کہ میری جان جلدی چھوٹ جائے گی۔
”کس قسم کی رومانی کہانیاں؟ “

سو یہ سلسلہ چلتا رہا حتی کہ مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی ذات کے متعلق ایک تخیلاتی کردار گھڑ رہا ہوں۔ ایک ایسا کردار جو یہ یقین کرتا ہے کہ اسرائیلی لڑکے درحقیقت ادبی ناقدین ہیں جن کو ادب کی صفات سے روشناس کرائے جانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد آپ ایک دوسرے اور پھر تیسرے تفتیش کار کے پاس بھیجے جاتے ہیں حتی کہ آپ ان ٹین ایجروں کی جابرانہ حکومت کے آگے سر خم کر دیتے ہیں۔

فلسطین کا پاکستانی مسئلہ

پیلفیسٹ (فلسطینی لٹریچر فیسٹیول) کے تحت میں رام اللہ میں تخلیقی تحریر کی ورکشاپ کا انعقاد کر رہا تھا۔ رام اللہ تاجروں اور ان سے نفرت کرنے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ لکھاری استاد کی رہائش گاہ ابھی تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے میری رہائش کا انتظام ایک اعلی درجے کے نئے نویلے کیفے اور بار کی بالائی منزل پر کیا گیا۔

وہ سچ مچ پوش تھا۔ چند ہفتے پہلے وہ سپینی راتیں منا چکے تھے۔ ”آپ کس وقت اسے بند کرتے ہیں؟ “ میں نے اس کے مالک اور اپنے میزبان سے پوچھا۔ ”آخری گاہک کے جانے کے آدھے گھنٹے بعد“۔

یہ نوجوان نیویارک میں اپنا ترقی کی جانب گامزن کیرئیر چھوڑ کر اس لئے رام اللہ آیا تھا تاکہ دنیا کے ذائقوں سے رام اللہ کو روشناس کرا سکے۔ کچھ راتیں یہ الجھن رہی کہ کیا میں وہ آخری گاہک ہوں جس کے اوپر جانے کے آدھے گھنٹے بعد وہ کاروبار بند کرے گا؟

یہ انکشاف ہوا کہ جو ورکشاپ میں نے پڑھانی تھی اس میں صرف لڑکیاں تھیں۔ ایک لڑکا تھا جس نے رجسٹریشن کروائی تھی۔ وہ پہلے دن آیا اور پھر غائب ہو گیا۔ دنیا سے جبری علیحدگی کے باوجود یہ قابل طالبات دنیا کو جانتی تھیں اور سیکھنے کی چاہ رکھتی تھیں۔ مجھے یہ احساس ہوا کہ جیسے میں انہیں دھوکہ دے رہا ہوں۔ میں ان کو وہ لکھنے کا حوصلہ دینے کی کوشش کر رہا تھا جو وہ پہلے ہی جانتی تھیں۔

ہماری تحریری مشقوں میں ایک ایف سولہ ایک اپارٹمنٹ کی کھڑکی کے باہر نمودار ہو جاتا تھا، ایک کیک بناتی ہوئی عورت کے سر میں ایک بھٹکی ہوئی گولی جا لگتی تھی، زیتون کے ایک باغ پر تیزاب کا سپرے کر دیا جاتا تھا۔ وہ کسی طلسمی دنیا کے بارے میں لکھنے کی کوشش نہیں کر رہے تھے۔ وہ اپنے اپنے خاندان کی زندگی کی کہانی سنا رہے تھے۔

بیشتر تحریری مشقوں میں گھر کے کسی بزرگ کی تضحیک کی منظر نگاری کی جاتی تھی۔ کبھی اسے برہنہ کر دیا جاتا تھا تو کبھی کوئی اسرائیلی فوجی لڑکا اسے گھر بھر کے سامنے تھپڑ مار دیتا تھا۔ وہ لکھنا چاہتے تھے اور شائع ہونا چاہتے تھے۔ ان کی کہانیاں محبت اور بہن بھائیوں کی آپسی مخاصمت کے قصوں سے شروع ہوتی تھیں مگر پھر ان میں گولیاں چلنے لگتی تھیں۔ یا پھر کسی کو اسرائیلی فوجی لڑکے سے تھپڑ پڑ جاتا تھا۔

ابتدائی چند دن کے بعد میں نے خود کو دھوکے باز محسوس کرنا چھوڑ دیا۔ میں نے خود سے سب کچھ اچھا دکھانے کا وعدہ کر کے پاکستان کے پس منظر میں کہانیاں لکھنی شروع کیں لیکن چھٹے صفحے تک ہی کوئی شخص ایک ہیبت ناک موت کا شکار ہو جاتا تھا۔

ہم اساسی سوالات کی طرف پلٹتے رہے۔ کیا ایک شخص کو وہ لکھنا چاہیے جو وہ جانتا ہے؟ اگر کوئی بھی وہ نہیں پڑھنا چاہتا جو میں جانتا ہوں تو پھر؟ اگر میں اس سے نفرت کرتا ہوں جو میں جانتا ہوں تو؟ ان میں قبضے کے خلاف ایک غصہ تھا۔ لیکن اس سے زیادہ غصہ اس بات پر تھا کہ ہم ہمیشہ ہی یہ کہانی کیوں سناتے ہیں؟

میرے بہت سے سٹوڈنٹس کا کوئی ایسا بزرگ تھا جس نے ستر کی دہائی میں پاکستان میں تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے پاکستان کے متعلق اچھی باتیں سن رکھی تھیں۔
اب ادھر ایسی کیا خرابی پیدا ہو گئی ہے؟ وہ پوچھتے تھے۔ اتنے زیادہ بم دھماکے کیوں؟ پاکستان ہمیشہ خبروں میں کیوں ہوتا ہے؟ وہ بھی ہمیشہ غلط وجوہات سے؟

میں نے خود کو مدافعانہ رویہ اختیار کرتے پایا۔ میں نے یہ بتانے کی بہت کوشش کی کہ ہم بہت اچھی حالت میں ہیں۔ ہم کسی مقبوضہ علاقے میں نہیں ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ علاقے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم قابضین میں سے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک قسم کی جمہوریت ہے۔ ہمارے پاس ووٹر لسٹیں اور الیکشن ہیں اور ہمارا ایک آزاد پریس ہے گو کہ ہم صحافیوں کو یہ آزادی اختیار کرنے پر باقاعدگی سے مار ڈالتے ہیں۔

آپ کو اپنا بیڑہ غرق کرنے کے لئے ایک اسرائیل کی ضرورت نہیں پڑتی، آپ خود ہی اپنا اسرائیل ثابت ہو سکتے ہیں۔ آپ خود اپنے بچے مار سکتے ہیں۔ آپ خود اپنی بدنما دیواریں تعمیر کر سکتے ہیں۔

ان میں سے ایک طالبہ خوش قسمت تھی۔ کلاس میں سے صرف اسی نے یورپ کا سفر کیا تھا۔ ”جب ہم باہر جاتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں کہ تم کہاں سے ہو۔ ہم کہتے ہیں فلسطین سے اور وہ کہتے کہیں کہ ’کیا؟ پاکستان؟ ‘ یہ غلطی کرنا آسان ہے، میں جانتی ہوں۔ لیکن اس کے بعد وہ ہمیں اضافی چھان بین کا نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے ساتھ ویسا سلوک کرنا شروع کر دیا ہے جیسا پاکستانیوں کے ساتھ کرتے ہیں“۔

مجھے نہیں پتہ کہ مجھے اس بات پر خوش ہونا چاہیے یا نہیں کہ ائیرپورٹ سیکیورٹی کی پاگل دنیا میں پاکستانیوں نے فلسطینیوں کو نیچا دکھا دیا ہے۔ یا پھر کچھ گہرا معاملہ ہے۔

سیفٹی بیلٹ

میں ایک فلسطینی منی بس میں بیت لحم سے رام اللہ جا رہا تھا۔ ایک اسرائیلی ٹریفک پولیس کی کار نے ہمارا تعاقب کر کے ہمیں روک لیا۔ انہوں نے ڈرائیور اور تمام مسافروں کو سیفٹی بیلٹ نہ پہننے پر چالان کر دیا۔ ہم میں سے کسی نے سیفٹی بیلٹ نہیں پہن رکھی تھی۔ مجھے نہیں پتہ کہ ہمیں منی بس میں سیفٹی بیلٹ پہننی چاہیے یا نہیں۔

تمام مسافروں نے جرمانہ بھرنے کے لئے پیسے جمع کیے۔ انہوں نے مجھ سے پیسے لینے سے انکار کر دیا کیونکہ میں ایک پاکستانی اجنبی تھا، بھلا مجھے اس بات کا کیا پتہ تھا؟ ہم سب نے سیفٹی بیلٹیں پہن لیں۔

جیسے ہی منی بس نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا اور اسرائیلی پولیس کی کار پیچھے رہ گئی تو تمام مسافروں نے ایک دوسرے کی طرف نگاہ اٹھائے بغیر اپنی اپنی بیلٹیں کھول لیں۔
میں نے بھی چند لمحے انتظار کیا اور ویسا ہی کیا۔ (ختم شد)
ترجمہ: عدنان خان کاکڑ

Facebook Comments HS