شیخ ایاز کے لال قلندر کی ارتھیاں ابھی تک کیوں پڑی ہیں؟



موہن جو داڑو کے دامن میں واقع کئی گاؤں مثلاً بنڈی، بلڑیجی اور اس کے گرد و نواح میں کئی دانشوروں، ادیبوں، محققوں، سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات رکھنے والے لوگوں کا جنم ہوا۔ جن میں سے ایک کامریڈ سوبھو گیان چندانی جیسا عظیم سپوت بھی شامل ہے۔ موہن جو داڑو اور سندھو دریا کے قریب جہاں ظلم و جبر کے ڈیرے تھے۔ جہاں غریبوں مزدوروں اور کسانوں کے ازلی دشمن، وڈیروں اور ڈاکوؤں کا راج ہوا کرتا تھا۔ وہیں پر اس ظلم و جبر کے خلاف آوازیں بھی بلند ہوتی رہی ہیں۔ اس قصبے سے مرد و خواتین نے سامراج کے خلاف اور مظلوموں اور محکوموں کے شان میں قصیدے بھی لکھے۔ سوبھو گیان چندانی جیسے کامریڈوں کی وجہ سے موہن جو داڑو کی سرزمین پر کمیونسٹ اور سوشلسٹ تحریکیں پروان چڑھتی رہیں اور کامریڈ سوبھو گیان چندانی کو دنیا ایک عظیم کمیونسٹ رہنما کے نام سے جاننے اور پہچاننے لگیں۔

سندھ کے پسے ہوئے طبقات کے حقوق دلوانے کے لیے کامریڈ سوبھو چندانی نے ایک طویل جدوجہد کر کے ان کو ان کے حقوق دلوائے اور ان میں اپنے حقوق کا شعور پیدا کیا۔ غریب لوگ سوشلزم، کمیونزم اور روس کی مثالیں دینے لگے کہ اس نظریے کے مطابق تو سب برابر ہیں امیر اور غریب کا کوئی فرق نہیں ہے اور وسائل کی تقسیم بھی برابر ہوتی ہے۔ یہی بات وڈیروں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو کھٹکنے لگی جس کی وجہ سے کامریڈ چندانی کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ کامریڈ سوبھو گیان چندانی رابندر ناتھ ٹیگور کے قابل فخر شاگرد تھے جنہوں نے شانتی نکیتن سے آرٹ کلچر اور فلسفہ کا علم حاصل کیا۔ کامریڈ سوبھو کو رابندر ناتھ ٹیگور نے موئن جو داڑو کے ماںھوں کا لقب دیا تھا اور سندھ کے انقلابی شاعر شیخ ایاز ان کو ’’ لال قلندر‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔

آپ نے لگ بھگ 1942 میں کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی، تقسیم ہند کے وقت جب لاکھوں لوگوں کو ہجرت کے دکھ سہنے پڑے تب کامریڈ سوبھو نے اپنی جنم بھومی کو چھوڑنے سے انکار کردیا اور تمام عمر اپنے وطن کے لیے وقف کردی۔ ہمیشہ کامریڈ سوبھو گیان چندانی نے جمہوریت، مساوی حقوق، ترقی پسندانہ سوچ، برابری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا پرچار کیا جس کے نتیجے میں ان کو کئی مرتبہ جیل بھی جانا پڑا مگر اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے ان کی جدوجہد آخری وقت تک جاری رہے۔ سن 2014 میں کامریڈ سوبھو گیان چندانی غریبوں کے حقوق کی جنگ لڑتے لڑتے اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔

سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں نے کامریڈ سوبھو کے وفات کے موقع پر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ جناح باغ لاڑکانہ میں ان کی سمادھی اور موہن جو داڑو پر ان کی یادگار بنوائیں گے مگر آج تک اس وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔ کامریڈ سوبھو گیان کے بیٹے نرمل داس کے مطابق ابھی تک ان کی ارتھیاں، سمادھی کے انتظار میں پڑی ہوئی ہیں۔

اگر موہن جو داڑو اور جناح باغ میں کامریڈ سوبھو گیان چندانی کی سمادھی اور یادگار بنوانے کا جو وعدہ فریال ٹالپر، قائم علی شاہ، نثار کھوڑو اور آغا سراج درانی نے کیا تھا اور جس کی طرف توجہ دلانے کے لیے سوبھو گیان کے بیٹے نرمل داس نے درخواست اپنے باپ کے نام پر بنائی گئی فاؤنڈیشن کے ذریعے کئی مرتبہ بھیجی اور بذات خود بھی ان رہنماؤں سے اس معاملے پر بات چیت کی مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔ اگر سندھ حکومت اپنے اس وعدے کو پورا کر دے تو یقنیاً ان کے اس اقدام سے سندھ حکومت کی تعریف کے ساتھ ساتھ کامریڈ سوبھو گیان چندانی کی شخصیت جن کی پوری زندگی غریبوں اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے لڑتے لڑتے ختم ہو گئی ان کی زندگی ایک تاریخی اور ثقافتی ورثہ کی طرح ہمارے مستقبل کے معماروں کے لیے محفوظ ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS