نواز شریف آج سعودی عرب روانہ ہوں گے: این آر او کے حوالے سے افواہیں


ن لیگ کی قیادت سعودی عرب میں کیا فیصلے کرے گی؟ ملکی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی؟ کیا ایک نیا این آر او ہونے جا رہا ہے؟ ہر طرف یہی سوال گونج رہا ہے۔

شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف آج دوپہر سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ مختلف شخصیات سے اہم ملاقاتیں کریں گے تاہم نواز شریف 2 جنوری کو وطن لوٹ کر احتساب عدالت میں پیش ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف آج غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز ایس وی 737 سے جدہ جائیں گے جبکہ نواز شریف کی اچانک سعوی عرب روانگی کے باعث 31 دسمبر کو کوٹ مومن سرگودھا میں ہونے والا جلسہ منسوخ کردیا گیا ہے۔ یہ جلسہ اب 7 جنوری کو منعقد ہوگا ۔

دوسر ی جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف آج سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ سے ریاض جائیں گے، جہاں وہ اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ریاض میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے جبکہ شہباز شریف کی سعودی شاہ سلمان سے بھی ملاقات متوقع ہے تا ہم وزیر اعلیٰ پنجاب اتوار کو وطن واپس پہنچیں گے۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا ہے کہ وہ این آر او کو تسلیم نہیں کریں گے۔ پاکستان میں کئی حلقے نواز شریف اور ایک ریٹائرڈ جنرل ناصر جنجوعہ کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ایک ملاقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جو پانچ گھنٹے جاری رہی۔

پی ٹی آئی کے رہنما فیصل جاوید خان نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ماضی میں بھی ن لیگ نے مقدمات سے بھاگنے کے لیے این آر او کیا اور اب بھی وہ اپنے بین الاقوامی دوستوں کے ذریعے این آر او کرنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کا دورہ ء سعودی عرب اسی سلسلے کی کڑی ہے، لیکن اب قوم ایسا نہیں ہونے دے گی اور ہماری پارٹی پنجاب اسمبلی میں شہباز شریف سے اس دورے کی وضاحت مانگے گی۔ شریف خاندان این آر او کر کے سانحہ ماڈل ٹاون اور کرپشن کے مقدمات سے نہیں بھاگ سکتا۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس خیال کی حامی ہے کہ مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ میں این آر او ہونے جا رہا ہے۔ پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیرمملکت برائے صنعت وپیداوار آیت اللہ درانی نے اس حوالے سے کہا، ’’نواز شریف کا تعلق پنجاب سے ہے۔ وہ پاکستانی سیاست کے برہمن ہیں اور چھوٹی قومیتوں کے لوگ شودر ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور نواز دونوں کا تعلق ایک ہی صوبے سے ہے، تو ان کے درمیان صلح صفائی کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ آج نوازشریف سے ایک ریٹائرڈ جنرل کی بھی ملاقات ہوئی ہے، جب کہ شہباز سعودی عرب گئے ہیں۔ یہ سارے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ این آر او ہو نہیں رہا بلکہ ہو چکا ہے۔ شہباز اس کو حتمی شکل دینے گیا ہے۔‘‘

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ کے خیال میں بھی این آر او طرز کی کوئی چیز ہونے جارہی ہے۔ ’’میرے خیال میں سعودی عرب شہباز شریف کو استعمال کرے گا اور اس کے بدلے نون لیگ کی مقدمات سے جان چھوٹ جائے گی۔ لیکن اگر اس بار نواز شریف نے مزاکرات کیے تو ان کو سیاسی طور پر بہت نقصان ہوگا۔‘‘

تاہم ن لیگ نے اس بات کی تردید کی ہے۔ پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی اسلم بودلہ نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پارٹی کے اجلاسوں میں کبھی کسی این آر اوکی بات نہیں ہوئی اور کوئی این آر او ہونے بھی نہیں جا رہا۔‘‘

معروف تجزیہ نگار میجر جنرل اعجاز اعوان کے خیال میں بھی کوئی این آر او ہونے نہیں جارہا۔’’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ این آر او کس سے ہوگا۔ عدلیہ ایسا کرے گی نہیں ۔ مرکز اور دو صوبوں میں ن لیگ کی حکومت ہے۔ تو پھر وہ این آر او کس سے کریں گے۔ میرے خیال میں شہباز شریف ممکنہ طور پر سعودی عرب سے کہیں گے کہ وہ طاہر القادری اور سانحہ ماڈل ٹاون سے ان کی جان چھڑائیں۔ سعودی عرب کا مذہبی حلقوں میں بہت احترام ہے تو ممکن ہے کہ وہ قادری کو اس بات پر قائل کر لیں کہ وہ خون بہا پر راضی ہوجائیں۔ تاہم قادری کے لیے یہ مشکل ہوگا کیونکہ وہ دوسری جماعتوں کو بھی تحریکِ قصاص میں شامل ہونے کا کہہ چکے ہیں۔‘‘

Facebook Comments HS