نوازشریف کی سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا

ہمارے دوست کی خبر پر اس وقت تصدیق کی مہر لگ گئی، جب ایک اور دوست جو سٹ کام رائٹر ہیں، نے میری طرف وٹس ایپ پیغام یوں بھیجا، جیسے ان کے ہاتھ کوئی خوشی کی خبر لگی ہو۔ خلاصہ اس پیغام کا یوں تھا، کہ نواز شریف نے افواج پاکستان کو دباو میں لانے کے لیے، بھارت سے مدد مانگ لی ہے۔ اس پیغام میں یہ بھی لکھا تھا کہ نواز شریف نے ملک میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ تاکہ مشرقی اور مغربی بارڈر خطرے کی زد پہ آجائیں، اور پاک فوج وہاں مصروف ہوجائے۔
یہ بہت خطرناک بات ہے۔ آپ خود سوچیے اگر دنیا کی بہ ترین فوج، یعنی پاک فوج کو بیرکوں اور بارڈر تک محدود کردیا گیا، تو پاکستانی عوام کی خبر گیری کون کرے گا؟ کون ہے جو ان ناچاروں کے دکھ درد بٹائے گا؟ کون زلزلے میں ان کی مدد کو آئے گا، کون انھیں سیلاب سے بچائے گا؟کون سیاست دانوں کے فون ٹیپ کرے گا، کون ایسے ان سائٹ اسٹوریز باہر لائے گا، کہ کون کون سا سیاست دان ملکی مفاد کے خلاف کام کرتا ہے؟ سیاست دان؟ جی نہیں! یہ اپنے آپ کو تو بچا نہیں پاتے، عوام کو خاک بچائیں گے۔
اس وٹس ایپ پیغام میں ایک یہی تسلی والی بات نکلی، کہ وہ زمانے گئے جب نواز شریف کے سعودی حکمرانوں سے اچھے تعلقات تھے، اب پاک فوج سعودی عرب کے دل کے قریب ہے؛ (الحمد للہ)۔ جن شہ زادوں کے ساتھ شریفوں کا کاروبار تھا، وہ سب ”اندر“ ہوچکے ہیں، آج کل وہاں جن شہ زادوں کا راج ہے، ان کے پاک فوج سے مثالی تعلقات ہیں۔ لہاذا، چوں کہ، چناں چہ؛ شہباز شریف کی سعودی عرب روانگی کے پس پردہ محرکات یا حقائق یہ ہیں، کہ انھیں سعودی عرب کے شہ زادوں نے یہ سمجھانے کے لیے بلایا ہے، کہ شریف برادران اپنے مذموم مقاصد سے باز آجائیں؛ مبینہ طور پہ شہباز شریف نے باز آنے سے انکار کیا تو، تس پہ ترکی کے صدر طیب بھائی جان نے اپنا وزیراعظم انھیں سمجھانے کے لیے سعودی عرب بھیج دیا ہے۔
وٹس ایپ پیغام میں یہ دعوا بھی کیا گیا تھا، کہ اس ہبڑ دبڑ، اس ہڑبونگ میں امریکا، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرلے گا۔ یہ پڑھ کے تو میری تو رُوح ہی کانپ گئی۔ ہم نے گھاس کھا کھا کے جس ایٹم بم کو بنایا، اسے امریکا کیک پیسٹری سمجھ کے لے جائے گا، تو کتنے افسوس کا مقام ہے۔ اب آپ مجھے وہ لطیفہ مت سنانے بیٹھ جائیے گا، جس میں اس شخص کا احوال کہا گیا ہے، جو ڈاکووں سے بچنے کے لیے پستول خریدتا ہے، اور اس کی ساری زندگی پستول کو ان ڈاکووں سے بچانے میں صرف ہوجاتی ہے۔
آپ کہیں گے جب ملک میں بے امنی کا راج ہو، بے روزگاری ہو، عزت نفس کی دھجیاں اڑائی جارہی ہوں، اور ملکی سیاست دانوں کے خلاف بات کرنے والے افراد نامعلوم کردیے جاتے ہوں، ایسے میں ہم نے ایٹم بم کا کیا کرنا، تو یاد رکھیے یہ ایٹم بم نہ ہوتا، تو امریکا اسامہ بن لادن کو یہاں سے زندہ پکڑ کے لے جاتا، یہ ایٹم بم کا خوف ہی تھا کہ امریکا نے اسامہ کو پہلے قتل کیا، پھر اسے یہاں سے لے کرگیا۔
یہ ایٹم بم ہی ہے کہ امریکا، پاکستان کی امداد نہیں روک پاتا، ورنہ ایٹم بم بنانے کے بعد بھی ہمیں گھاس ہی پر گزارا کرنا پڑتا۔ یہ ایٹم بم ہی کہ ملک پہ ایمرجینسی نافذ کرنے والے رٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کچھ بھی کہیں، کسی مقتدر ادارے کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ وہ اشتہاری ہونے کے باوجود دھڑلے سے کسی بھی نیوز چینل پر کچھ بھی کہ سکتے ہیں۔
یہ ایٹم بم ہی ہے کہ کبھی عوامی ووٹوں سے منتخب وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سیکورٹی رسک قرار پاتی ہیں، تو کبھی ان کی کابینہ کا وزیر داخلہ بھارتیوں کو سکھوں کی لسٹ فراہم کرے والا بتایا جاتا ہے۔ یہ ایٹم بم ہی کہ پہلے نواز شریف کو بھاری مینڈیٹ دلوایا جاتا ہے، اور پھر طیارہ سازش کیس میں ملوث کردیا جاتا ہے۔
یہ ایٹم بم ہی ہے، کہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے پاکستان بہترین ملک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں صحافی بنا روک ٹوک رپورٹنگ کرتے ہیں۔ مظلوم تھانے میں جاکے ظالم کے خلاف بڑی سہولت سے ایف آئی آر کٹواسکتا ہے۔ عدالتیں کھڑے پیر پر مظلوم کی دادرسی کرتی ہیں۔ ورنہ تو سولہ سولہ سال مقدمے چلتے اور انصاف تک نہ ہوتا۔
یہ ایٹم بم ہی تو ہے، کہ شہریوں کو ناکوں پہ رُسوا نہیں ہونا پڑتا۔ ایٹم بم نہ ہوتا، تو قبضہ گیر مظلوموں کی جائداد ہتھیا لے جاتے۔ جا بہ جا جرگے لگائے جاتے اور ملکی آئین و قوانین کا ٹھٹھا اُڑایا جارہا ہوتا۔ مملکت خدادا پاکستان میں جب جب دہشت گردوں کا جی چاہتا، دھماکے کرتے پھرتے۔
ایٹم بم کی وجہ ہی سے ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ صد شکر کہ اس ملک کی حفاظت کا ذمہ سیاست دانوں کے سر نہیں؛ سیاست دانوں کو ملک بنانا ہی آتا ہے، ملک بنادیا؛ ملک چلانا ان کے بس کا نہیں۔ تو اے دوستو! جب تک ایٹم بم ہے، نہ امریکا نہ بھارت اتنی جرات کرسکتا ہے، کہ نوازشریف کو بچانے کے لیے آئے۔ اس ملک میں انصاف ہی ہوتا ہے، انصاف ہی ہوگا۔ ایٹم بم زندہ باد! پاکستانی عوام پایندہ باد! اور ہاں، پاک فوج کو سلام!

