صنفی امتیاز، جنسی گھٹن اور ہمارا معاشرہ


اویس احمد ایک منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ میری ایک تحریر “خواتین کو جنسی گھٹن سے آزادی دلائیں” کے جواب میں انہوں نے ایک تحریر “مسئلہ جنسی گھٹن کا نہیں ہے” لکھی۔ اس تحریر میں انہوں نے جن نکات کی نشاندہی کی ہے، میرا ان سب سے اتفاق ہے۔ ہمارے معاشرے میں صنفی امتیاز خطرناک حد تک موجود ہے۔

صنفی امتیاز ہماری جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ صنفی امتیاز کی بڑھ چڑھ کر باتیں کرنے والے خود اپنے گھروں میں صنفی امتیاز کر رہے یوتے ہیں۔ اب بیٹیوں کو زمانہ جاہلیت کی طرح دفنایا نہیں جاتا۔ انہیں سکول، کالج اور یونیورسٹی تک میں بھیجا جاتا ہے۔ نوکری کی بھی اجازت ہوتی ہے مگر اس سب کے باوجود فرق کی بو ہوا میں سونگھی جا سکتی ہے۔ بیٹا مہنگے سکول میں جاتا ہے تو بیٹی ذرا کم مہنگے سکول میں، وجہ یہ کہ گھر کے قریب ہے۔ بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر بھیجا جاتا ہے تو بیٹی کو یہیں کسی قریبی یونیورسٹٰی میں بھیج دیا جاتا ہے، وجہ یہ کہ باہر کا ماحول خراب ہے۔ بیٹا نوکری سے آتا ہے تو پورا گھر اس کے آگے بچھ جاتا ہے بیٹی کو چائے بنانے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ بیٹے کی شادی کا سوچتے ہوئے پوچھ لیا جاتا ہے کہ کوئی پسند ہے تو بتا دو۔ بیٹیوں کو اجنبیوں کے سنگ رخصت کر دیا جاتا ہے کہ لو یہ تمہارا نصیب ہے جس کے نیک ہونے کی دعا تمہیں بچپن سے مل رہی ہیں۔ اب نیک نکل آیا تو تمہاری قسمت ورنہ ہماری عزت کی خاطر وہیں پڑی رہنا۔

صنفی امتیاز ہر معاشرے کا حصہ رہا ہے اور اب بھی کسی نہ کسی صورت میں دنیا کی ہر ثقافت میں موجود ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی ٹھہرے جبکہ ہمارے ہاں اسے سرے سے مسئلہ ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ہاں اگر صنفی امتیاز پر بات کی جائے تو مصنف کے حصے میں بس گالیاں ہی آتی ہیں۔ جب تک ہم اس مسئلے کو مسئلہ نہیں سمجھیں گے تب تک ہم اسے حل بھی نہیں کر سکیں گے۔ یہ مسئلہ بار بار اپنی شکل بدل کر ہمارے سامنے آتا رہے گا۔

شائد میں اپنے پچھلے بلاگ میں جنسی گھٹن کی صحیح سے وضاحت نہیں کر پائی۔ جنسی گھٹن سے میری مراد فطری خواہشات کی عدم تکمیل کے ساتھ ساتھ جنسی بنیادوں پر مرد اور عورت کی زندگی کی مختلف تشریح بھی کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد کی زندگی کا مقصد کچھ بننا ہے تو خواتین کی زندگی کا مقصد شادی کرکے اپنا گھر سنبھالنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب ہماری خوایتن خودمختار ہیں اور نوکری بھی کرتی ہیں مگر اس سب کے باوجود ان کی زندگی کا اصل ان کی شادی کو ہی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی نکتہ ہمارے معاشرے میں موجود جنسی گھٹن کا سبب ہے۔

علوینہ اور علینہ کے کیس میں بھی ایسا ہی ہوا۔ علوینہ اور علینہ کے مختلف لڑکوں سے تعلقات تھے۔ میں یہاں دوستی کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میرے نزدیک مرد اور عورت میں دوستی کا رشتہ قائم ہو سکتا ہے اور اس دوستی میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔ علوینہ اور علینہ کے کیس میں ان کی لڑکوں سے دوستی نہیں بلکہ افئیر تھے جو کہ عموماً گھر والوں سے چھپ کر چلائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ قیاس لگانا کہ شائد ان کے گھر میں لڑکیوں کی لڑکوں سے دوستی کو غلط نہیں سمجھا جاتا تھا میرے خیال میں غلط ہے۔ گرچہ والدین کو پتا ہوتا ہے کہ ان کے بچے کیا کر رہے ہیں مگر وہ خود اپنی زندگی میں اتنے الجھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اس سارے قصے کو کسی اہمیت میں نہیں لاتے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ کئی والدین کے نزدیک ان کے بچے سب سے کم اہمیت رکھتے ہیں۔ جب پانی سر کے اوپر سے گزر جاتا ہے تب وہ اس الجھن کو حل کرنے کے لیے یا تو بچے کی شادی کر دیتے ہیں یا غیرت کے نام پر قتل کر دیتے ہیں۔ یہ قتل بھی بس بیٹیوں کے ہی کیے جاتے ہیں، بیٹے کی غلطیوں کو جوانی کا جوش سمجھ کر بھلا دیا جاتا ہے۔

میرے نزدیک علینہ قتل کیس میں صرف علوینہ ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ ہم سب اس قتل کے ذمہ دار ہیں۔ ہم نے عورتوں کو ایک ہی سبق دیا ہے کہ ان کی زندگی مرد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے۔ ہماری عورتوں کی پوری زندگی اس مرد کی ہر جائز نا جائز مان کر اس کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑے رکھنے میں گزر جاتی ہے۔ اگر علوینہ اور علینہ کو پتا ہوتا کہ ان کی زندگی میں سب سے اہم ان کا خاندان ہے تو شائد علوینہ اپنی ہی بہن کا قتل نہ کرتی۔ اگر ان دونوں بہنوں کو پتا ہوتا کہ ان کی زندگی کا مقصد محض شادی اور ایک اچھا شوہر تلاش کرنا نہیں ہے تو شائد مختلف مردوں کے ہاتھوں ان کا استحصال نہ ہوتا۔ اگر انہیں محبت اور سیکس میں فرق پتا ہوتا تو شائد علوینہ کی وہ ویڈیو بھی اپنا وجود نہ رکھتی۔ ایسا کچھ کیوں نہیں ہوا اس کی وجہ بس یہ ہے کہ ہم خواتین کو نہ ان کے حقوق دینا چاہتے ہیں اور نہ ان حقوق کے متعلق آگاہی دینا چاہتے ہیں۔

مغرب کی خواتین مشرقی خواتین کی نسبت زیادہ خود مختار اسی لیے ہیں کیونکہ ان کے پاس انتخاب کا حق اور اپنے حقوق سے آگاہی ہے۔ ہماری خواتین خود اپنی مرضی سے اپنے حقوق دوسروں کو سلب کرنے کے لیے پلیٹ میں رکھ کر پیش کرتی ہیں اور جہاں جی چاہتا ہے دوسری خواتین کے حقوق چھیننے پہنچ جاتی ہیں۔ اس جنسی گھٹن کا واحد حل شادی نہیں ہے۔ اگر ہم اس جنسی گھٹن کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ تبدیل کرنی ہوگی۔

(بشکریہ دنیا بلاگز)

Facebook Comments HS

Comments are closed.