سات پانی کے کوزے۔۔۔ یا سات روحانی تجربے؟
گاؤں میں نہانے کا تکلف جمعہ کے جمعہ ہوتا اور بچوں کے لیے تو دو ہفتوں کا وقفہ بھی کوئی ایسا بڑا وقفہ نہیں تھا۔ ڈھوک کے پاس ایک جوہڑ تھا جہاں جانور پانی پیتے تھے لیکن پانی کی ‘پاکی برقرار’ رکھنے کے لیے کتوں کو جوہڑ کے پاس نہیں لایا جاتا۔ یہ وہ کتے ہوتے جو ریوڑ کے ساتھ ہوتے تھے۔ آوارہ کتے البتہ ادھر سے گزرتے تو پانی پی لیتے تھے۔ جوہڑ ویرانے میں تھا۔ ہر وقت نظر رکھنا کہاں ممکن تھا۔ کسی بھی انسان کو جوہڑ میں اتر کر نہانے اور تیرنے پر پابندی تھی۔ یہ پانی ہم پیتے نہیں تھے یا کم ازکم میری یاد میں ایسے ہی ہے پہلے وقتوں میں یہی پانی پیتے بھی تھے۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو یہی دیکھا کہ پینے کے لیے پانی کنویں سے لایا جاتا۔ کنواں دور تھا اور ایک دورے میں تین گھڑے لائے جاتے تھے۔ کنویں پر بھیڑ ہوتی تھی، ایک تو باری کا انتظار اور دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ گرمیوں میں پانی کم ہو جاتا، کنویں کے پیندے میں پانی اکٹھا ہوتے دیر لگتی تھی اور ماہر کسان وہ ہوتے جو ٹین ایسے زاویے پر کنویں میں پھینکتے کہ کنویں کے پیندے میں کھڑے دو بائی دو فٹ پانی کے گھڑے میں جا کر لگتا۔ بہرحال یہ صورت حال شدید گرمیوں میں ہوتی۔ میری یادوں سے بہت پہلے جب کنویں خشک ہو جاتے تو پانی لانے کے لیے دور دراز کنووں یا زمین سے نکلتے پانیوں کی جانب رخ کیا جاتا۔ لیکن تین گھڑے پانی لانے کا یہ منصوبہ کسان کی مصروف زندگی کا ایک دن نگل لیتا۔ بعد میں ہماری ڈھوک کے نزدیک جو کنواں تھا اس کے نزدیک کھیتوں میں بڑا سا بند بنایا گیا جہاں بارشوں کا پانی رک جاتا۔ اس سے کنویں کے اندر پانی رستا رہتا اور شدید گرمیوں میں بھی پانی موجود رہتا تھا۔
پانی کی اس کمیابی کا میری نفسیات پر آج بھی اثر ہے۔ اس وقت تصور بھی نہیں تھا کہ آپ پانی پینے کے لیے گھڑے سے ٹاس میں پانی لیں اور چند گھونٹ پیے بغیر پانی زمین پر پھینک دیں۔ یہاں تک کہ کوئی بچہ بار بار پانی پیتا تو آواز آتی تمھارے پیٹ میں آخر کونسی جہنم دہک رہی ہے۔ پانی بہت قیمتی تھا۔ بعد میں جب گھروں میں بور ہوئے اور ہتھی والے نلکے لگ گئے تب بھی دادا کو آخری عمر میں کبھی اعتماد کی آسودگی میسر نہ آ سکی۔ صبح اٹھتے ہی ناشتہ کرنے کے بعد دادا کی مجھ سے امیدیں بندھ جاتیں کہ ہتھی والے نلکے سے چالیس گھڑے لبالب بھر دوں۔ ان کو اس جدید نلکے پر اعتماد نہ تھا لاشعوری طور پر یہ سوچتے رہتے کہ آج تو اس کمبخت سے پانی نکل رہا ہے کل معلوم نہیں نکلے نہ نکلے اس لیے گھر میں چند ضروری اور بہت سے غیر ضروری گھڑوں کو بھر لیا جائے۔ میں اور چچا زاد بھائی آصف پریشان رہتے کہ کرکٹ سمیت بہت سی سرگرمیوں میں دیر ہو جاتی۔ آخر ہم نے یہ حل نکالا کہ ضروری گھڑے بھر دیتے اور بہت سے غیر ضروری گھڑوں کے اوپر تھوڑا تھوڑا پانی چھڑک دیتے کہ دادا نے کونسا ہر گھڑے میں جھانک کر دیکھنا ہے۔ دادا تمام گھڑوں پر تازہ پانی کی چھینٹیں دیکھتے تو یہی سمجھتے کہ ہم نے سارے گھڑے بھر دیے ہیں۔ ابتدا میں اس راز سے صرف دادی واقف تھیں اور وہ اس دھوکہ دہی کی مکمل حوصلہ افزائی کرتیں۔ فرماتیں تمہارے دادا کی پانی کی ہوس تب بھی نہ ختم ہو اگر یہ ساری ڈھوک پانی میں ڈوب جائے۔ بعد میں اس راز سے باقی گھر والے بھی واقف ہو گئے اور لطف اندوز ہوتے رہے لیکن دادا تک یہ دھوکہ دہی کی داستان کبھی نہ پہنچ پائی۔ خدا ہر کسی کے پردے رکھے۔
بات چلی تھی کہ کنویں سے پینے کا پانی لایا جاتا، جبکہ جوہڑ کا پانی کپڑے دھونے، نہانے، اور جانوروں کو پانی پلانے کے لیے استعمال کیا جاتا۔ جوہڑ کے کنارے پر ایک غسل خانہ تھا جہاں کوزے پڑے ہوتے تھے، جس نے نہانا ہوتا آتے جاتے چند کوزے جوہڑ سے بھر کر لاتا اور نہا لیتا۔ زندگی میں اگر دوران غسل جمالیات کا کوئی انوکھا اور کبھی نہ بھولنے والا تجربہ ہوا تو وہ یہیں ہوا۔ آپ غسل خانے میں کھڑے ہیں چلچلاتی دھوپ ہے، کوزے سے پانی غٹ غٹ آپ کے چہرے پر گر رہا ہے۔ کوزے سے پانی ختم ہوتا ہے آپ آنکھیں کھولتے ہیں اور تاحد نظر سبزہ، کھیت اور چرتے ہوئے جانور ہیں۔ وہ ہوا جو گرم لو تھی جسم پر پانی گرنے کے بعد اب ٹھنڈے جھونکے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آپ ایک جھرجھری لیتے ہیں اورایک اور روحانی تجربے سے روشناس ہونے کے لیے اپنے ہاتھ دوسرے کوزے کو اٹھانے کے لیے بڑھاتے ہیں۔ ایک غسل سات کوزوں۔۔۔ اوہ نہیں سات روحانی تجربوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ ساتھ ہی ایک کیکر تھا جس کے نیچے دو پتھر کی سلیں نماز ادا کرنے کے لیے رکھی گئیں تھیں۔
میں اور آصف تیسری جماعت میں تھے۔ جمعہ کے دن ہماری نظریں دادی کے معمولات پر ہوتیں۔ جیسے ہی دادی ان دھلے کپڑوں کو اکھٹا کرنا شروع کرتی ہمیں اندازہ ہو جاتا کہ آج جوہڑ پر جائیں گی۔ میں اور آصف ڈھوک کی پچھلی سائیڈ پر جاتے اور مٹی میں خوب لوٹتے۔ ایک دوسرے پر مٹی ڈالتے اور جب سر اور کپڑے مٹی سے اٹ جاتے تو صحن میں واپس لوٹ آتے۔ دادی کی نظر پڑتی تو کہتیں یہ کیا حشر کیا ہوا تم لوگوں نے چلو میرے ساتھ جوہڑ پر۔ یہی ہمارا مدعا ہوتا تھا۔ ہم دادی کے ساتھ خوشی خوشی جوہڑ کی جانب روانہ ہو جاتے۔ جوہڑ گھر سے بمشکل دو سو میٹر تھا یا یوں کہیے کہ جوہڑ کے نزدیک ترین ڈھوک ہماری ہی تھی لیکن اس کے باوجود ہم اس عمر میں تھے جب تھوڑے فاصلے بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
جوہڑ پر دادی پہلے کپڑے دوھوتیں پھر ہمیں نہلاتیں اور آخر پر خود غسل خانے میں نہانے جاتیں۔ کپڑے دھونے کے دوران ہمارا کام یہ ہوتا کہ دادی کے پاس پڑی بالٹی میں پانی ختم نہیں ہونے دینا۔ ہم جوہڑ میں اترتے اور پانی کے کوزے بھر بھر کربالٹی میں ڈالتے رہتے۔ دادی کپڑے دھوتے رہتیں۔ کپڑے دھونے والا کالا صابن ہی نہانے والا صابن ہوتا تھا۔ گھر پہنچتے تو ہم دونوں (میری اور آصف ) کی مائیں چارپائی پر بٹھا دیتیں۔ جوئیں نکالنے کا تکلیف دہ عمل شروع ہوتا۔ پھر تارا میرا کا کڑوا تیل سر پر لگایا جاتا۔ سر پر لگائے جانے والے تیل کی مقدار اس قدر ہوتی کہ بعد میں ماتھے پر اور گردن کے پچھلے حصے پر بہتا رہتا۔ جہاں جہاں بہتا جلد پر کڑواہٹ پیدا کرتا جاتا۔ آنکھوں میں سرمہ کچھ ایسے لگایا جاتا کہ سرمے کی دھاریں کانوں تک جا پہنچتیں۔ تبت کا پاؤڈر اس قدر لگایا جاتا کہ چہرے پر پاؤڈر کی لہریں نمایا ں ہوتیں۔ یوں ہم تیارہو کر والدین کی نظر میں پیارے بچے اور اپنی نظروں میں کارٹون سے بن جاتے۔ اس دن شام تک کارٹون کُھل کر نہیں کھیل سکتے تھے کہ ہر تھوڑی دیر بعد صحن کے کسی کونے سے ڈانٹ سنائی دیتی کہ آج ہی تو نہائے ہو اب آج ہی اپنا حشر کردو۔ ہمارے پاس اتنا فارغ وقت نہیں ہے کہ ہر ایک ہفتے کے بعد تمہیں نہلاتی رہیں۔ ہمیں ان کی یہ ڈانٹ اور دھمکی سمجھ نہیں آتی تھی کہ آخر نہانا ایسا ضروری بھی کیا ہے؟ کیا ہم نے کبھی مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں نہلایا جائے؟ خود ہی زبردستی ہمیں نہلاتی ہیں اور خود ہی ہمیں ڈانٹتی اور دھمکیاں دیتی پھرتیں ہیں۔ خدا معاف کرے اس دور میں سارے بڑے ہمیں عقل سے پیدل ہی دکھائی دیتے تھے جن کی باتوں میں منطقی ربط کا شدید فقدان پایا جاتا تھا۔






