آزادی رائے کی حدود ہوتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں عورت جرم ہی نہیں بلکہ ہونا ایک گالی ہے۔ گزشتہ دنوں نظر سے ایک تحریر گزری “نورجہاں فتور جہاں “۔ ایک عورت جو اس ملک کے لیے فخر کا باعث ہے اور جس کے فن کی دنیا معترف ہے۔ جس کا نام ملک کی پہچان کا باعث ہے۔ جس نے پاکستان کے روشن چہرے کو دنیا میں متعارف کروایا ہو اس کے متعلق کوئی بھی تعصب زدہ شخص لکھے اور انتہائی بے ہودہ زبان استعمال کرے کہ اسے پبلسٹی ملے گی۔

میں ہر گز یہ نہیں کہوں گی کہ نجی زندگی ذاتی معاملہ ہے یہ بات سمجھنے والے یہاں سرے سے پائے ہی نہیں جاتے ۔ یہ سوال ضرور کروں گی کہ اس بات کا اختیار کہ کسی کے کردار پہ انگلی اٹھائی جائے بنا ثبوت کے، محض تعصب کی بنیاد پہ گھٹیا گفتگو کی جائے، اس بات کی اجازت کون سا قانون یا اخلاقیات دیتی ہے۔ دوسری بات کہ ایک عورت جس کے فن کی دنیا قدر دان ہے اس کے ذاتی عمل سے کسے نقصان پہنچا اور یہ جرات کسی کو اب کیوں ہوئی کہ وہ یہ کہے کہ محض گانے کی وجہ سے لوگ گمراہ ہوئے۔

ایک طرف گوگل اسے پیدائش پہ خراج تحسین پیش کرتا ہے دوسری طرف اسی خاتون کے یوم وفات پہ ایسا مضمون سامنے آتا جو اس کی عزت نفس اور کردار کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیتا ہے۔ ایک بار دل میں آیا کہ مصنف کا کے متعلق جانا جائے لیکن الفاظ اور سوچ انسان کی پہچان ہوتے پھر اسے چاہے کیسی ہی پوشإک کیوں نا پہنا دی جائے فرق نہیں پڑتا ۔ تحریر سے ایک متعصب اور اپنی بات کو حرف آخر سجھنے والے شخص کا تاثر ابھرتا ہے۔

اور اس سے بھی زیادہ قابل مذمت یہ بات کہنے کے لیے مضبوط پلیٹ فار م کا ملنا ہے آزادی اظہار رائے سب کا حق ہے۔ یہ بات صد فیصد درست ہے لیکن اس کی حد وہاں تک جہاں آپ کی کسی بات سے کسی شخص کو ذہنی یا جذباتی اذیت نہ ہو۔ ورنہ ہر منہ پھٹ، تعصب زدہ شخص منہ سے جھاگ اڑاتے کسی پہ بھی اپنی ذاتی پسند یا ناپسند کی بنا پہ پل سکتا ہے ۔

نور جہاں بلاشبہ ایک بڑا نام ہے ۔ انہیں احترام کے سنگھاسن پہ بٹھا کے پوجنا ضروری نہیں لیکن ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ان پہ فخر کرنا ضروری ہے ۔ اپنی ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پہ اس درجہ تعصب کا اظہار کسی طور سے قابل قبول نہیں ہے۔ ورنہ جس کسی کے پاس دو لفظ لکھنے کی طاقت ہو گی وہ تمام صحافتی ار اخلاقی حدود بلائے طاق رکھ کےاپنی ناپسندیدہ شخصیات پہ کیچڑ  اچھال سکتا ہے۔ اپنی مرضی کا لیبل لگا سکتا ہے۔ لکھنا اور تحریر کا شائع ہونا دونوں ذمہ دارانہ افعال ہیں۔ یہ عوامی آرا کو سنوارتے یا بگڑتے ہیں ان میں محتاط ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ انفرادی فعل نہیں ہیں بلکہ اجتماعی رائے کو تشکیل دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •