مذہبی جماعتیں ووٹ کے بجائے سڑک کیوں پسند کرتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم لوگ پہلے دن سے دیکھتے آ رہے ہیں کہ ہر طرح کی مذہبی سیاسی جماعت پاکستان کے افق پر موجود ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ انہیں سپورٹ بھی کر رہے ہوتے ہیں، کوئی ہڑتال ہو تو یہ آگے ہوتے ہیں، کوئی جلسہ جلوس نکالنا ہو، توڑ پھوڑ ہو، احتجاج ہو، ہر جگہ اچھی خاصی نفری دکھائی دیتی ہے لیکن الیکشن کے دنوں میں آ کر وہ سب کچھ ایک دم سکڑ سا جاتا ہے۔ حالانکہ ان دنوں بھی اگر کوئی جماعت چاہے تو سڑک پہ ہزاروں بندہ جمع کرنا ایک کال کی دیر ہوتی ہے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام مذہبی پارٹیاں کسی نہ کسی خاص مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہیں۔ اب اگر بندہ اس مسلک کا ہے تو پارٹی وارا کھائے گی ورنہ وہ ہرگز ووٹوں کی اکثریت دوسرے مسلک والے کو نہیں دینا چاہے گا۔ پھر ایک ہی مسلک کی نمائندہ ایک سے زیادہ جماعتیں بھی موجود ہیں۔ تو ووٹر ادھر بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ ایسی تمام پارٹیاں مذہب کے نام پہ بنائی جاتی ہیں۔ اب پاکستان میں کون سی پارٹی ہو گی جو کہے کہ بھائی مذہب ہماری عملداری میں نہیں آتا؟ ظاہری بات ہے، آئینی طور پہ ثابت شدہ ہے ملک کا نام ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو گا تو مذہب کی فوقیت مانے بغیر کون سیاست دان الیکشنوں میں اترے گا؟ اب اس سین میں کہ جہاں پاپولر سیاسی جماعتیں عین اسی مذہب کے جھنڈے تلے ہونے کا دعوی کرتی ہیں، ووٹر الگ سے مذہبی سیاسی جماعت کے پاس کیا کرنے جائے گا؟ وہ جو کچھ آفر کر رہے ہیں سب کا سب آئین میں لکھا ہے، کوئی سیاسی پارٹی اس سے انکار نہیں کرتی، سب اسی مذہب کو مانتے ہیں، ایسے میں الگ ایک پارٹی کھڑی کرنا کس دین کی خدمت ہے؟ تو لاشعوری طور پہ عام آدمی مذہبی جماعت کو خاص مولانا حضرات کی جماعت سمجھتا ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ ان کا کردار دین پھیلانے تک ہونا چاہئیے، وہ عام طور پہ ان کی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ پھر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تقریروں کے علاوہ کوئی پراپر فریم ورک کسی بھی مذہبی جماعت کے پاس نہیں ہے۔ اگر انہیں ووٹ دئیے جائیں اور وہ اسی مغربی جمہوری نظام کے تحت حکومت بنائیں تو مذہبی نظام کس آئین کے تحت لاگو ہو گا؟ کس کس ڈیپارٹمنٹ میں کیا کیا اصلاحات کی جائیں گی، کوئی ایسا لکھا پڑھا مکمل تفصیلی منشور کہیں نظر نہیں آتا۔ فار اے سیکنڈ، آ بھی جائے تو جب تمام مذہبی پارٹیاں اس پہ اتفاق ہی نہیں کریں گی تو یہ کیسے ثابت ہو گا کہ ہم ٹھیک راستے پہ ہیں یا غلط راستے پہ؟
ایک اور ٹینشن یہ ہے کہ عام پڑھا لکھا پاکستانی مولویوں کی جماعت کو ایماندار تو شاید سمجھتا ہو لیکن وہ انہیں زیادہ سیاسی سوجھ بوجھ والا نہیں مانتا۔ مثلاً مولانا طاہر القادری اگر وزیر خارجہ بن جائیں تو ان کی پالیسی کیا ہو گی؟ وہ کس ملک سے قربتیں بڑھانے کو ترجیح دیں گے، ایسی باتوں کے جواب عجیب و غریب سے دماغ میں آتے ہیں۔ ایسے ہی اگر مولانا سمیع الحق وزیر اعظم بن جائیں تو ان کی ترجیہات کیا ہوں گی، یہ ننھا سا بچہ بھی بتا سکتا ہے۔ پھر ہر برس ایک رویت ہلال والا سین ہوتا ہے۔ سال کے گیارہ مہینے چاند پہ متفق رہنے والے ایک مبارک ترین مہینے کا اختتام تنازعات پہ کرتے ہیں۔ میڈیا اسے ہنسی مذاق میں اڑاتا ہے لیکن واحد یہی مثال بھی لوگوں کو سیاست میں ایسے کسی کردار کی موجودگی کے تصور سے ہی پریشان کر دیتی ہے۔ نتیجہ یہی آتا ہے کہ ساری مذہبی جماعتیں کل ملا کے پانچ پرسنٹ ووٹ بھی نہیں لے پاتیں۔ لیکن وہ مایوس پھر بھی نہیں ہوتیں۔ اب سیاست کے بعد غیر سیاسی حربوں کی باری آتی ہے۔
ان جماعتوں کو مدرسے، مساجد، کالج اور یونیورسٹیاں افرادی قوت مہیا کرتے ہیں۔ بہت باریکی سے دیکھیے تو یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو ابھی فیصلہ کرنے کی عمر سے کوسوں دور پائے جاتے ہیں۔ کالج میں آپ کی عمر اٹھارہ بھس برس سے زیادہ کیا ہو گی؟ سکول، مدرسے وغیرہ تو ویسے ہی دور کی بات ہے۔ یونیورسٹیوں میں سیاست زیادہ تر مذہبی جماعتوں کو عام آدمی سے دور کرنے کا ہی سبب بنتی ہے لیکن یہ الگ ایک موضوع ہے۔ تو یہ طاقت وہ ہوتی ہے جس کا مظاہرہ ہم لوگ آئے دن سڑکوں پہ دیکھتے ہیں۔ جمیعت کے جلوس ہوں، تحریک لبیک کے دھرنے ہوں، جماعت اسلامی کے اجتماعات ہوں، الدعوہ والے ہوں یا مولانا طاہر القادری کا احتجاج ہو، یہ سب نوجوانوں پہ مشتمل سٹریٹ پاور اسی لیے نظر آتی ہے کہ اس کے علاوہ اپنا “سیاسی” وجود یہ جماعتیں کسی بھی طریقے سے باقی نہیں رکھ سکتیں۔ اب منی پرمنی سیاسی جماعتوں کو جب یہ نظر آتا ہے کہ بھئی ڈیڑھ سیٹیں جیتنے والا پورا ملک ہلا چکا ہے تو وہ اس کے پلڑے میں اپنا پاؤں یہ دیکھے بغیر رکھ دیتی ہیں کہ وہ سیاسی نظام میں کیا بھیانک مثال قائم کرنے جا رہی ہیں۔
ابھی دو تین ہفتوں سے قادری عمران زرداری اتحاد کی خبریں آنا شروع ہو چکی ہیں۔ سب سے پہلے عمران خان اور آصف علی زرداری کو یہ واضح کرنا چاہئیے کہ وہ جمہوریت چاہتے ہیں یا کسی بھی دوسرے طریقے سے قادری صاحب کی طرح چار چھ مہینے کی نقصان دہ رونق کے موڈ میں ہیں۔ مستقبل قریب کا منصوبہ سینیٹ میں نواز لیگ کو نقصان پہنچانے کا ہے چاہے اسمبلیاں ہی کیوں نہ توڑنا پڑیں، وہ تو ہر کوئی جانتا ہے، آگے کی بات کریں؟ اگر یہ دونوں جماعتیں انتخابات میں جانا چاہتی ہیں تو ان میں سے کس کا ووٹر قادری صاحب کی جماعت کے ساتھ کمفرٹیبل ہو گا؟ انہیں اگر کسی مولانا الائینس کو ووٹ دینا ہوتا تو کوئی بھی مذہبی سیاسی جماعت ان کی پہلی چوائس ہوتی، وہ پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کے ساتھ اسی لیے ہیں کہ ان میں کوئی فیکٹر انتہاپسندی اور بنیاد پرستی والا موجود نہیں ہے۔ اگر یہ امتیازی لکیر مٹا دی جاتی ہے تو موجودہ پالیسی کے ساتھ الیکشن کا نتیجہ مزید بربادی کی صورت میں سامنے آ جائے گا۔ پنجاب کے لیے جنگ کی جا رہی ہے تو بابا پنجابی ووٹ کتنا دیتا ہے کسی ایسی جماعت کو، جائیں چیک کریں۔ خاص طور پہ تحریک انصاف میں تو اچھے بھلے تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیں، وہ اس اتحاد میں کتنی دیر رہ پائیں گے؟ پہلے بھی کے پی میں تحریک انصاف کا ایک ایسا ہی ایک کام بہت سے سوال اٹھا چکا ہے۔ اور سب سے دلچسپ وہ سین ہو گا جب عمران خان اور زرداری حلیف کی حیثیت میں ساتھ ساتھ بیٹھیں گے۔ وہ دن شاید تحریک انصاف کی نوجوان فین فالونگ کا پارٹی کے ساتھ آخری دن ہو گا۔ جہانگیر ترین کے صاحبزادے کو نامزد کرنے کے بعد کوئی بھی ہلکی سی بے احتیاط چال بازی گر کو تنے ہوئے رسے پر سے نیچے گرا سکتی ہے۔
یہ اتحاد ثلاثہ سب سے پہلے تو بالکل غیرفطری نظر آتا ہے جس میں قادری صاحب الحمدللہ ہر طرح سے فائدے میں ہوں گے لیکن باقی دونوں جماعتیں اپنی پہچان کھونے کے علاوہ شاید ہی کوئی دور رس نتیجہ حاصل کر پائیں گی۔ ہاں نقصان بڑا زبردست ہو گا۔ جس طرح گیلانی صاحب کی وزارت کے خاتمے پہ اب افسوس کیا جاتا ہے وہی افسوس مستقبل میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے لیڈر کریں گے جب جب جہاں جہاں حکومت ہو گی۔ پاکستان اس وقت خطرناک ترین راستے پہ چل رہا ہے۔ سیاسی نظام کی ناکامی معیشت، معاشرت اور ریاست کی نااہلی میں کب بدلتی ہے یہ ہمیشہ وقوعہ ہونے کے بعد پتہ چلتا ہے۔ دھرنے، جلوس، احتجاج، توڑ پھوڑ، پہیہ جام، ہڑتالیں ان میں سے جو کچھ کرنا ہے اپنے زور بازو پہ کریں۔ زرداری صاحب یا عمران خان صاحب خود آگے آگے ہوں پھر آزما لیں زور بازو، آخر وہ کون سے لوگ ہوں گے جو قادری صاحب کا اسم گرامی دیکھ کے قدم ساتھ ملائیں گے اور اپنے لیڈروں کو بازو نہیں پکڑائیں گے؟ سیاست میں پریشر گروپس گھسنے کا راستہ مانگتے ہیں اس کے بعد بدو کا اونٹ ہوتا ہے یا خیمہ ہوتا ہے، تیسری جگہ سمانے کے لیے کوئی نہیں ملتی، ایوب خان اور بھٹو کو مل گئی تھی کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 494 posts and counting.See all posts by husnain