یکم جنوری کی سالگرہ والوں کا اقبال


یکم جنوری کی سالگرہ والے یکم اپریل کی سالگرہ والوں سے بھی زیادہ شرمسار پھرتے ہیں۔ وہ چاہے جتنا بھی یقین دلائیں مگر لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان افراد کو اپنی اصل سالگرہ کا نہیں پتہ۔ دس بیس سال کی عمر والوں کی تو پھر بھی کچھ کریڈیبلٹی ہوتی ہے مگر تیس سال یا زیادہ عمر کے افراد کی اس تاریخ پیدائش پر لوگ زیادہ یقین نہیں کرتے۔

جبکہ یکم اپریل کی سالگرہ بتانے والوں پر سب کو فوراً یقین آ جاتا ہے بلکہ بعض دیگر افراد کے بارے میں محض ان کے اطوار دیکھ کر بھی یکم اپریل کا شبہ ظاہر کر دیا جاتا ہے۔

پرانے زمانے میں دستور کچھ ایسا تھا کہ لوگوں کو کیلنڈر استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ ان کو بس ربیع خریف کے سیزن کے لئے وقت کا اندازہ چاہیے تھا جو کیلنڈر کے بغیر بھی گھر سے باہر نکل کر جان لیا جاتا تھا۔ عمومی رائے یہ تھی کہ شدید گرمی ہو تو ضرور گرمی کا سیزن ہے، بارش ہو رہی ہو تو برسات کا موسم ہو گا، پتے جھڑنے لگے تو خزاں کا، سردی پڑنے لگے تو نومبر شروع ہو گیا۔ سردی کم ہونے لے اور درختوں پر نئے پتے آنے لگیں تو یہ بہار ٹھہری۔ ایسے میں کسے مہینوں یا دنوں کا حساب رکھنے کی ضرورت پیش آتی تھی؟ سال کا حساب رکھنا تو بالکل ہی غیر ضروری ہوا کرتا تھا۔

بچہ بڑا ہونے کے بعد کسی سکول تک پہنچ جائے تو عموماً یہ فیصلہ والدین کی بجائے ماسٹر صاحب کیا کرتے تھے کہ اس کی تاریخ پیدائش کیا ہے۔ بہرحال یہ ماسٹر نہایت پڑھے لکھے تھے اور کسی صدری نسخے کی مدد سے بچوں کی تاریخ پیدائش کا تعین کیا کرتے تھے۔ بچے کے والدین تو ان کی مدد کرنے سے قاصر ہوا کرتے تھے۔ باپ کچھ اس طرح کے اشارے دے سکتا تھا کہ جس سال بارش سے ہمارے جنوبی کلوں (کھیتوں) کی فصل ڈھے گئی تھی اس میں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ یا جب بھوری بھینس خریدی تھی تو اس وقت یہ جما تھا۔ ماں کی بتائی ہوئی تاریخ پیدائش کے مطابق بچہ اس وقت پیدا ہوا تھا جب اس کی خالہ کی نند کی شادی ہوئی تھی یا ہمسایوں کی نانی فوت ہوئی تھی۔ مجبوراً ماسٹر صاحب کو خود ہی فیصلہ کرنا پڑتا تھا کہ تاریخ پیدائش کے خانے میں کیا درج کیا جائے۔

ماسٹر صاحب بھی غالباً بچے کا حلیہ دیکھ کر طے کرتے ہوں گے کہ کون سا مہینہ اس کی پیدائش کے لئے موزوں رہے گا۔ بچہ کالا کلوٹا ہوا تو ضرور پیدائش کے بعد سڑی ہوئی گرمی سے جھلس گیا ہو گا۔ گورا گلابی سا ہے تو گمان غالب ہے کہ اس کی پیدائش جاڑے کے کسی مہینہ میں ہوئی ہو گی۔ ناک یا آنسو ہر وقت بہتے ہوں تو ظاہر ہے کہ بچہ برسات میں پیدا ہوا تھا۔ بچے کو ہر وقت ہری ہری سوجھتی ہوں تو یہ بہار کی پیدائش ٹھہرے گا۔ ہر وقت دکھی اور دلگیر رہتا ہو اور شاعری کی طرف اس کی طبعیت مائل ہو تو خزاں پر شک کیا جائے گا۔

پرانے وقتوں میں صرف بڑے آدمیوں کی تاریخ پیدائش کا اندراج کیا جاتا تھا۔ یہ اندراج بھی ان کے بڑا آدمی بننے کے بعد کیا جاتا تھا۔ مثلاً حکیم الامت شاعر مشرق مفکر پاکستان ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال کو ہی دیکھ لیں۔ علامہ اقبال کی وفات 1938 میں ہوئی۔ ان کی زندگی میں ہی ان کی مختلف تاریخ پیدائش مختلف ریکارڈز اور خاندانی گواہیوں کی بنیاد پر لکھی جاتی رہی۔ ان کی تاریخ پیدائش 22 فروری، 9 نومبر اور 29 دسمبر لکھی گئی ہے۔ سن پیدائش 1870، 1872، 1875، 1876 اور 1877 لکھا گیا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے اپنی کتاب زندہ رود کے بیس صفحات اقبال کی تاریخ پیدائش پر بحث کے باب میں لکھے ہیں۔ مختصراً اس میں کچھ یوں بیان کیا گیا ہے۔

اقبال نے میونخ یونیورسٹی میں اپنے مقالے میں سن پیدائش 1876لکھا ہے۔ 1931 میں بنوائے گئے پاسپورٹ میں بھی یہی سن لکھا ہے۔ پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے اقبال کی لاہور اور سیالکوٹ کی رہائش گاہوں کے کتبوں پر تاریخ پیدائش 1873 لکھی۔ اقبال کی وفات کے بیسویں برس 1958 میں اقبال کا جو یادگاری ٹکٹ پاکستانی محکمہ ڈاک نے جاری کیا اس پر بھی سن پیدائش 1873 درج ہے۔ دس برس بعد 1967 میں محکمہ ڈاک نے ایک نیا یادگاری ٹکٹ جاری کیا جس پر سن پیدائش 1877 چھاپا گیا۔

بزم اقبال نے غالباً 1969 میں جسٹس ایس اے رحمان کی سربراہی میں اقبال کی تاریخ پیدائش کی تحقیق کے لئے کمیٹی بنائی۔ کمیٹی کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو 1972 میں حکومت پاکستان نے مرکزی سیکرٹری تعلیم کی سربراہی میں ایک نئی کمیٹی بنا دی۔ 1973 میں حکومت ہندوستان نے اعلان کیا کہ وہ 1973 میں اقبال کا صد سالہ جشن منا رہی ہے۔ اس پر پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ قومی شاعر ہمارا ہے اور جشن کوئی اور منا رہا ہے۔ کمیٹی نے تحقیقات کی رفتار تیز کر دی اور فروری 1974 میں اعلان کیا کہ اقبال کی صحیح تاریخ ولادت 9 نومبر 1877 ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں یہ جشن 1977 میں منایا گیا۔

یوں کوئی سو برس یہ طے کرنے میں لگے کہ اقبال کی تاریخ پیدائش کیا ہے۔ خدا یکم جنوری والوں کو ایسی کسی بھی تحقیق سے بچائے جو اقبال پر کرنی پڑی ہے اور یکم جنوری والے لاکھوں یا شاید کروڑوں پاکستانیوں کو سالگرہ مبارک ہو۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar