بلب ایسے بنائے جاتے ہیں جو چھ ماہ میں فیوز ہوں؛ بین الاقوامی کمپنیوں کا خفیہ معاہدہ


 بجلی کے عام بلب زیادہ سے زیادہ 6ماہ ہی نکالتے ہیں اور جل جاتے ہیں۔ اب اس بلب کے اتنی جلدی ناکارہ ہونے کی حیران کن وجہ سامنے آ گئی ہے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق جب یہ بلب بنایا گیا تو اس کی ’لائف‘لامحدود تھی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1901ءمیں ایک بلب امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 4450ایسٹ ایونیو، پلیزنٹن میں لگایا گیا جو 117سال گزر جانے کے باوجود آج بھی چل رہا ہے۔جب بلب بنانے والی کمپنیوں نے یہ صورتحال دیکھی تو انہیں کاروباری خطرات لاحق ہو گئے، کہ اگر بلب اسی طرح بنائے جاتے رہے تو ان سے نئے بلب خریدے گا کون؟

اس پر 1932ءمیں دنیا کی 5بڑی بلب بنانے والی کمپنیوں نے جنیوا میں ایک خفیہ میٹنگ کی جس میں انہوں نے ایک خفیہ معاہدہ کیا کہ وہ سب ایسے بلب بنائیں گی جن کی عمر زیادہ سے زیادہ 6ماہ ہو گی۔یہ خفیہ معاہدہ کرنے والی کمپنیوں میں امریکہ کی ’جنرل الیکٹرک‘، نیدرلینڈز کی ’فلپس الیکٹرانکس‘ اور جرمنی کی ’اورسیم الیکٹریکل‘ بھی شامل تھیں۔دنیا کو اس معاہدے کے متعلق اس وقت معلوم ہوا جب معروف مورخ گنٹر ہیس جرمن کمپنی اورسیم الیکٹریکل کے مشرقی برلن میں واقع ہیڈکوارٹرز میں گئے اور وہاں فرش پر بکھرے کاغذات میں پڑی اس خفیہ معاہدے کی دستاویز بھی ان کے ہاتھ لگ گئی۔اس معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ”بلب کے بعد جلد ہی ریفریجریٹرز اور اوون کی لائف بھی محدود کی جائے گی تاکہ وہ بھی ایک مخصوص وقت تک ہی چل سکیں۔“