نور جہاں نور جہاں ہے

نور جہاں بر صغیر پاک وہند کی مشہور ومعروف گلوکارہ اور اداکارہ تھیں۔ انھوں نے تقریباً چھ دہائیوں تک فن گلوکاری کی دنیا پر حکومت کی۔ میلوڈی کوئین نورجہاں نے اٹھارہ ہزار سے زائد فلمی، غیر فلمی، علاقائی گانے گائے، وہ ہر طرح کے کلاسیکل، نیم کلاسیکل، گیت، غزل اور نغمے مہارت سے گا سکتی تھیں۔ پاک بھارت جنگ 65 ء میں آپ نے یادگار اور زبان زد خاص وعام نغمے گا کر اپنے آپ کو امر کر لیا جیسےکہ
اے وطن کے سجیلے جوانو
پتر ہٹیاں تہ نہیں وکدے
اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے ان کی کارکردگی پر پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔ اس کے علاوہ انھیں پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز تمغہ امتیاز اور ستارہ امتیاز بھی عطا کیا گیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن نے انھیں سن 2000 ء“ صدی کی آواز ” کا ٹائٹل عطا کیا۔ غزل کی گائیکی میں انھیں کمال حاصل تھا، وہ انڈین فلم انڈسٹری کی پہلی پلے بیک سنگر تھیں جب پاکستان بنا تو وہ پاکستان آگئیں اور اپنی آخری سانس تک پاکستان میں رہیں۔ انھوں نے اداکاری میں بھی نام روشن کیا ان کی مشہور فلموں میں زینت، انمول گھڑی، جگنو، چن وے، دوپٹہ انتظار، انارکلی شامل ہیں۔
وہ اپنے دور کی ایک مہذب اور بہترین شخصیت تھیں۔ ان کے انتقال کو سترہ سال ہوچکے ہیں ان کا انتقال 23 دسمبر 2000 میں ہوا یہ سب لکھنے کا مقصد نئی نسل کو یہ سب بتانا ہے جو شاید ایک کالم پڑھ کر گمراہ ہوجائے۔ ہمارے ملک کی مایہ ناز گلوکارہ، اداکارہ اور پہلی فلم ڈائریکٹر کے بارے میں اس قدر زہریلی تحریر پڑھ کر نئی نسل کیا سوچے گی۔ ان کے انتقال کے اتنےسال بعد ایسی تحریر کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا ان کی زندگی کے وہ مخفی حصے جو شاید اکثر کو پتہ بھی نہیں کھل کر لکھنے سے ان کی کس جبلت کی تسکین ہوئی، موصوف نے پہلے تو نور نام پر ہی قدغن لگائی کہ یہ نام نہیں ہونا چاہیے تھا اب ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی کہ نام تو ان کا اللہ رکھی وسائی تھا اگر وہ اللہ رکھی وسائی کے ہی نام رکھتیں تو یقینًا آج کے دور میں تو یہ نام اور تکلیف دیتا جبکہ اللہ نے ان کے نام کا اثر اتنی اچھی طرح ان کی زندگی کی صورت میں دکھا دیا جو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ نے انھیں رکھا بھی اور وسایا بھی ہم ناچیز بندے کون ہوتے ہیں اس میں دخل دینے والے۔
یہ تو ہوگئیں لفظی باتیں لیکن سب سے اہم بات کہ ہم جو زندہ ہیں اس دنیا میں ہیں ہم سے غلطیاں اور گناہ ہوسکتے ہیں لیکن جو اس دنیا سے چلا گیا وہ ہم سے بہتر ہے وہ ہم میں نہیں اور ہمیں ان کے عیب کھول کھول کر بتانے سے کتنی نفلوں کا ثواب مل جائے گا۔ اللہ سائیں نے پردہ رکھا تو ہم تم کون ہیں اس پردے کو اٹھانے والے ہم نے تو اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ جو اس جہاں سے چلا گیا اس کو برا نہ کہو، آپ مین ہمت تھی تو زندگی میں ان کے منہ پر برا کہتے اور گن گن کر برائیاں بتاتے تو وہ بھی جواب دیتیں۔ مجھے ہزار فیصد یقین ہے اگر ملکہ ترنم نور جہاں آج زندہ ہوتیں تو یہ حضرت بھی ان کے ساتھ موقع ملتے ہی سیلفی بنوا چکے ہوتے اور فخریہ سب کودکھاتے پھرتے۔
اب وہ نہیں رہیں تو اس طرح کی تحریر کا مقصد تو یہی ہے کہ دشمن ملک کو خوش کیا جائے کہ دیکھو ہم اپنے لیجنڈ کا کیا حشر کرسکتے ہیں حالانکہ ان سب باتوں کا کوئی اثر نہیں ہونے والا کیونکہ جب بھی جہاں بھی میڈم کا گانا بجے گا تو سب سنیں گے اور اس کی تال پر پیر بھی ہلائیں گے۔ ہمارے ملک کی ثقافت میں شاعری، موسیقی، مصوری، گلوکاری سب موجود ہے ہمیں امپورٹڈ ثقافت نہیں چاہیے اور اسلام کے نام پر اس طرح کی ہرزہ سرائی کسی شخصیت کے لیے بھی برداشت سے باہر ہے لیکن اس تحریر کا ایک فائدہ ہوا کہ لوگوں کے دلوں میں ملکہ ترنم نورجہاں کو دوبارہ سے جگا دیا اور ان کا گایا ہوا گیت کانوں میں رس گھولنے لگا
گائے گی دنیا گیت میرے، سریلے انگ میں نے، نرالے رنگ میں نے، بھرے ہیں ارمانوں میں
تحریر حق میں لکھی جائے یا برائی میں الفاظ کا چناؤ آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے اور جہاں یہ تحریر لگی ہو اس کا مزاج پتہ چلتا ہے ”ہم سب“ پہ اس طرح کی لچر تحریر زیب نہیں دیتی، جواب دینے میں تاخیر بھی اسی لیے ہوئی کہ ایسے برے الفاظ کا جواب کیسے دیا جائے۔

