بحر ظلمات میں زقند بھرتے گھوڑے


علامہ اقبال نے اپنی مشہور نظم شکوہ میں خدا سے شکوہ کرتے ہوئے جہاں مسلمانوں کی مجاہدانہ کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کارہائے نمایاں بیان کیے وہیں ایک شعر میں مومنین کے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا دینے کا بھی ذکر کیا ہے۔

شکوہ ہماری اور ہم سے معاً پہلی نسل کے لوگوں کی زبردستی پسندیدہ کروائی گئی، علامہ اقبال کی ان معدودے چند نظموں میں سے ایک ہے جن سے پاکستانی قوم کی اکثریت واقف ہے۔ ہماری نسل سے مراد وہ نسل ہے جو ستر کی دہائی میں پیدا ہوئی اور اسی کی دہائی سے گزرتے ہوئے نوے کی دہائی میں جوان ہوئی۔ اس نسل کے ذہن میں (ناگزیر وجوہات کی بنا پر) صغر سنی سے ہی قومی اور مذہبی برتری کے بارے میں اسباق انڈیلے جانے لگے تھے۔ سونے پر سہاگہ علامہ اقبال کے شاہین اور شکوہ کے مومنین کی گریہ و زاری ثابت ہوئی اور یہ نسل اس غرور کے ساتھ جوان ہوئی کہ دنیا میں ہم سے زیادہ زیرک، صالح اور دین وملت ِ اسلامیہ کی حرمت و ناموس کا پاسبان اب اور کوئی نہیں رہا۔ نہ ہی ہمارے علاوہ کسی کو دین کی سمجھ رہی نہ ہی غیرت ایمانی کے شعلے باقی رہے۔ حضرت ضیاءالحق کو خدا پوچھے، اچھی بھلی روشن خیال قوم کا ستیاناس مار گئے اور ڈکار بھی نہ لی۔ بنیاد اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو نےاپنے آخری ایام میں ہی رکھ دی تھی۔ الحمدللہ۔

نسلی طور پر عجم سے تعلق رکھنے والی ہماری قوم شدومد سے اپنے افکار واعمال کو عربی النسل ثابت کرنے کی تگ ودو میں لگی رہتی ہے۔ اپنی ہزاروں سال کی ارتقائی تہذیب کو پس پشت ڈال کر علامہ اقبال کی شکوہ کے ہی شعر ’عجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مری‘ کی تفسیر بنی یہ نسل اور کسی بات پر یقین رکھے نہ رکھے علامہ اقبال کے جواب شکوہ کے اس مصرعے کو ضرور حرز جاں بنائے رکھتی ہے کہ ’ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا‘ مگر یہ بات بھلا دیتی ہے کہ پہلوں کے آئینہ ہستی کا جوہر عمل تھا۔ وہی عمل جس کے بارے میں علامہ اقبال فرما گئے تھے کہ ’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی‘۔ بدقسمتی مگر یہ بھی ہے کہ اعمال کے چناؤ میں ہمارا پلڑا اکثر وبیشتر انہی اعمال کی جانب جھکتا ہے جن سے زندگی جہنم بن کر رہتی ہے۔

معلمِ اعظمﷺ کو پہلا حکم پڑھ کا ملا مگر ہماری صالح قوم عرصہ تک اپنے نصف وجود کی تعلیم کی قائل ہی نہیں رہی۔ ہنوز تعلیم نسواں کے حصول میں بےدلی پائی جاتی ہے۔ محسن انسانیت کو رحمت اللعالمین کا لقب مرحمت فرمایا گیا۔ احساس برتری کے غرور میں مبتلا ہماری قوم کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ دوسروں کو حقارت سے دیکھنا اس قوم کا وصف ٹھہرا۔ وہ (ﷺ) ہمسایوں کے حقوق پر انتہا درجے کا زور دے گئے۔ ہمارے ہمسائے ہماری وجہ سے تنگ رہتے ہیں۔ ان (ﷺ) کا مقصد دنیا کو اللہ سے روشناس کروانا۔ ہماری وجہ سے دنیا اللہ کے پسندیدہ دین سے بیزار ہورہی ہے۔ وہ (ﷺ) صلح جوئی کے قائل اور ہم سر تن سے جدا کردینے کے خو گر۔ ان (ﷺ)کے ہاں حکمت ہی حکمت جبکہ ہم اندھا دھند چھلانگ لگا دینے کے بعد غور کرنے کے عادی۔ بلکہ غور کرنے کی صلاحیت سے ہم عاری ٹھہرے۔

قائد اعظم کی محنت کا مفت میں پھل کھاتے ہوئے ہم لوگ فکر وعمل میدان میں الف کورے ہیں۔ مفتے کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہی سلوک ہم اپنے ملک کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی مکمل ناکامی کا شکار ہو چکی ہے تو ہماری داخلہ پالیسی بھیانک تضادات کا نمونہ دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف جدید تعلیم کے میدان میں ہم اقوامِ عالم کی صف میں ”بیک بنچرز“ ہیں تو دوسری طرف اسلامی جمہوریہ میں تہتر کے بجائے تین سو تہتر فرقے اپنے اپنے عقائد نافذ کرنے پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔ امداد اور قرضوں پر انحصار کرتی ہماری ہچکیاں لیتی معیشت بیس کروڑ کا بوجھ اٹھانے سے معذور ہوتی چلی جا رہی ہے اور ہمارے اربابِ اختیار آسان شرائط پر کثیر قرضہ حاصل کر کے شاد ہو رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے معاملے میں ہمارا ریکارڈ الا ماشا اللہ سنہرے حروف سے لکھا جا رہا ہے۔ آج ہی وطن عزیز کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پرواچ لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اپنی قوت کے نشے میں مدہوش وقت کے فرعون کا بس نہیں چل رہا کہ واچ لسٹ کی بجائے واش لسٹ میں ہمارا نام درج کر چھوڑے۔ ہر سو بحر ظلمات ہلکورے لیتا محسوس ہوتا ہے۔

بحر ظلمات کے لفظی معانے لیے جائیں تو تاریکی کا ایک اتھاہ سمندر سمجھ میں آتا ہے۔ علم و عمل کی اہمیت سے ناآشنا یہ قوم علامہ اقبال کے مومنین کے برعکس بحر ظلمات میں زقندیں بھرےجا رہی ہے۔ سوال اٹھانا اس قوم میں گناہ کبیرہ کا درجہ حاصل کر چکا۔ افکار کے در وا کرنے پر اخلاقِ رضویہ برسنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ”معین کردہ ” حدود کو پار کرنے کی کوشش کرنے پر کچھ اس طرح سے دلیلی گھونسے لگائے جاتے ہیں کہ پہروں دماغ دکھتا رہتاہے اور روح سسکیاں بھرتی رہ جاتی ہے۔

علامہ اقبال کی نظم شکوہ میں بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے والے مومنین ایک تاب ناک ماضی رکھتے تھے۔ عقل اس سوال کا احاطہ کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے کہ عصر حاضر میں بحر ظلمات میں زقندیں بھرنے والے گھوڑوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad