عامر لیاقت حسین پر تاحیات پابندی کی درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد


اسلام آباد ہائیکورٹ نے نفرت آمیز مواد پر مشتمل پروگرام پیش کرنے اور معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنے کے الزام میں اینکر پرسن عامر لیاقت پر تاحیات پابندی لگانے کی درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ دوران سماعت عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دئیے کہ سائل کے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ کہ درخواست میں کیا لکھا ہے۔ میرٹ پر درخواست کا فیصلہ کریں گے۔

فاضل جسٹس نے اینکر پر ٹی وی شوز میں کسی بھی طور شرکت پر پابندی کا حکم نامہ برقرار رکھتے ہوئے وفاق اوراینکر پرسن سے 15 روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔ بدھ کو محمد عباس نامی شہری کی جانب سے اینکر پرسن پر تاحیات پابندی کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر پیمرا نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرایا۔ اس موقع پر درخواست گزار محمد عباس نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے درخواست گزار کے وکیل شعیب رزاق سے کہا کہ کبھی آپ پٹیشن کرتے ہیں، کبھی واپس لیتے ہیں۔ فاضل جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آئی ایس آئی کرنا کیا چاہتی ہے؟ کبھی پٹیشن دائر کراتے ہیں کبھی واپس کراتے ہیں، جو ان کے ساتھ مل جائے اس کے خلاف پٹیشن واپس لے لی جاتی ہے۔ عدالت میرٹ پر درخواست کا فیصلہ کریگی۔ اینکر پرسن پر تاحیات پابندی لگ سکتی ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے درخواست گزارسے استفسار کیا کہ آپ ٹی وی دیکھتے ہیں، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ جی دیکھتا ہوں، فاضل جسٹس نے پوچھا اینکر پرسن کونسے چینل پر آ رہا ہے، درخواست گزار نے چینل کا نام بتایا تو فاضل جسٹس نے کہا کہ آپ کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں، پٹیشن میں کیا لکھا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے اینکر پرسن پر ٹی وی شوز میں کسی بھی طور شرکت کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی اور وفاق اور اینکر پرسن کو 15 روز میں جواب داخل کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

Facebook Comments HS