اداس دل، بےحس معاشرہ اور سنگ دل سیاست دان


ننھی پری زینب کی وحشیانہ موت پر دل اشک بار ہے۔ ہر کوئی اس درد ناک موت پر افسردہ نظر آتا ہے اور خواہش مند ہے کہ زینب کے قاتل کو عبرت ناک سزا دی جا سکے اور اس درندے کو عبرت کا نشان بنایا جائے، تاکہ آیندہ ایسا درد ناک واقعہ دوبارہ وقوع پذیر نہ ہو پائے۔ زینب کے ساتھ اس درد ناک واقعے نے تمام والدین کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے کہ قصور کی زینب کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کر کے پھینک دیا گیا اور تمام تر ہائی الرٹ سکیورٹی کہ باوجود ابھی تک قاتل کو ڈھونڈا نہیں جا سکا۔ ہمارا پولیس نظام بے بس نظر آتا ہے اور تمام تر کوششوں کہ باوجود انصاف کا بول بالا نہیں ہو پارہا تو ان حالات میں پھر کون سا بچہ محفوظ ہے؟ ہمارے اس بے حس معاشرے میں سیکڑوں ایسے رہزن قاتل لٹیرے موجود ہیں جن سے ہر زینب کو خطرہ ہے۔

تمام تر دعوؤں کے باوجود ہم ایک ترقی یافتہ روشن خیال معاشرے کو جنم دینے میں ناکام رہے ہیں۔ آئے دن کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی زینب کی عزت نیلام ہوتی رہتی ہے۔ کبھی تیل پھینک کر جلایا جاتا ہے تو کبھی گلا گھونٹ کر مارا جاتا ہے اور کبھی تو اس حوا کی بیٹی پر ظلم و ستم کی داستان منظر نامے پر آتی ہی نہیں۔ اداس دل کے ساتھ لوگ زینب کے انصاف کے اپیل اپنے اپنے انداز میں کر رہے ہیں کوئی مظلوم زینب کی تصویر اپنے فیس بک پروفائل پر لگا پر اس بے حس معاشرے کو آئنہ دکھانے کی کوشش کررہا ہے تو کوئی پر امن احتجاج کر کے قاتل کو تختہ دار پر چڑھانے کی بات کررہا ہے تو کوئی زینب کے حق میں قصیدے لکھ کر اس قاتل یزید کو غرق کرنے کی بد دعا کررہا ہے۔

اس وقت ہر دل اداس ہے خون کے آنسو رورہا ہے کہ آخر کب تک ہم اس گھٹن زدہ معاشرے میں رہتے رہیں گے جہاں پر نہ ہماری بچیاں محفوظ ہیں نہ ہمارے بچے اور آئے دن اس بے حس اور ناچار معاشرے میں ظلم و ستم کے نت نئے قصے اور کہانیاں ہمارے سامنے آتے رہیں گے۔ سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا یا پھر پرنٹ میڈیا ہر روز دل خراش دل دہلا دینے والے قصوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ شاید یہ سب چیزیں اب ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہیں کہ دن کی شروعات ہی غم زدہ خبروں سے ہوتی ہے اور رات گئے تک ویسی ہی خبریں سنتے سنتے ہم سو جاتے ہیں۔

اکثر لوگوں نے تو اس اداسی سے بچنے کا حل یہ نکالا ہے کہ خبروں کو سننا اور پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہے مگر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مشکلات کا حل نہیں نکلتا۔ ہم کتنا بھی پنجاب حکومت اور اس کے وزیر اعلیٰ کو مورد الزام ٹھہرائیں اس نظام کو برا بھلا کہیں مگر زینب کا وحشیانہ قتل اور اس کے ساتھ ہونی والی زیادتی ہمارے پورے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ کون سا پاکستان کا ایسا حصہ ہے جہاں پر حوا کی بیٹیوں کی عزتیں تار تار نہیں ہوتیں۔

ایک طرف تو بلھے شاہ کا قصور جل رہا تھا اور لوگ غصے میں بھرے جلاؤ گھیراؤ کی سرگرمیوں میں مصروف تھے تو دوسری طرف پولیس احتجاج کرنے والے دو افراد کے قتل کی بھی ذمہ دار ہے۔ اب اس طرح کی صورت احوال میں کون کرے گا اعتبار اس پولیس پر جو منصف بھی ہے اور قاتل بھی۔ باقی رہی سہی کسر ہمارے سیاست دانوں نے پوری کردی ہے جو مظلوم زینب کے خون پر بھی سیاست چمکانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جس نظام کا وہ خود حصہ ہیں اسی نظام کو لپیٹنے کا دم بھر رہے ہیں کہ بس وزیر اعلیٰ پنجاب کو استعفی دے دینا چاہیے پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

خدارا اس طرح کی صورت احوال میں تو ہمیں ایک قوم ہو کر سوچنے اور عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ ہم سب ہی اس طرح کے واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ اس بے حس، سنگ دل معاشرے کے بگاڑ میں ہم سب برابر کے حصہ دار ہیں۔ ایک صحت مند روشن خیال معاشرے کی بنیاد رکھنے کی اشد ضرورت ہے جہاں پر انصاف کا بول بالا ہو اور ہر رہزن قاتل اور لٹیرے کو عبرت ناک سزا دے کر ہر زینب کو انصاف دلایا جا سکے۔

Facebook Comments HS