مظلوم بچیاں تو شکایت بھی نہیں کر پاتیں

عجب بات ہے کہ اب بھی لوگوں کے پاس کہنے، سننے اور سنانے کو بہت کچھ باقی ہے، سنسنی پھیلانے، سانحوں کو اپنی مرضی کے معنی پہنانے اور ایک دوسرے کی اخلاقی اقدار پر کیچڑ اچھالنے کا اِس سے بہتر موقع، شاید انھیں پھرکبھی نہ مل سکے۔ چھوٹی چھوٹی ننھی معصوم لاشوں پہ کتنے دردناک نوحے لکھے جا سکتے ہیں، اور کیسی شاندار سیاست چمکائی جا سکتی ہے، یہ سمجھنا بھی اب محال نہیں۔ لیکن میرے پاس تو کہنے کے لیے الفاظ ہی ختم ہو گئے ہیں، بس ایک بے بس اور بوسیدہ سی خاموشی ہے جو آہستہ آہستہ میری روح میں سرایت کرتی جا رہی ہے۔
اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے زینب کی معصوم مسکراہٹ، جو اب مجھے کبھی رنجیدہ اور کبھی کبھی طنزیہ لگنے لگی ہے، دن میں بارہا مجھ سے پوچھتی ہے کہ میرے لیے اور مجھ ایسے بد نصیب بچوں کے لیے آخر تم نے کیا کیا؟ کونسا حقوقِ اطفال کا بل؟ کونساتحفظ کا قانون؟ اور کونسی جنسی ہراسانی کے خلاف قرار داد و تعزیرات؟ آخر یہ چار دن کی نعرے بازی کب تک؟ کب تک تم کھیتوں، زیرِ تعمیر مکانوں، مدرسوں اور کچرے کے ڈھیر وں سے ملنے والی ہماری ننھی لاشوں کا سراغ لگاتے رہو گے؟ کب تک گھر گھر آہ و بکا اور گلی گلی بین کی آوازیں بلند ہوتی رہیں گی؟ تمہاری جہالت اور درندگی کا نشانہ بننے والی میں کوئی پہلی یا آخری کلی تو نہیں، سو اگر اب بھی کچھ نہیں کر سکتے ہو تو یوں کرو کہ دستورِ جہالت کے عین مطابق ہمیں پیدا ہوتے ہی دفن کر دو، یا پھر حکمِ ربی اور مشیتِ ایزدی کا سہارا لے کر ایک دوسرے کو دلاسہ، اور جنت کی بشارت دو، اور آنے والی اگلی بد بخت گھڑی کے منتظر رہو۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے اِردگرد موجود ہر ننھا وجود زینب کے قالب میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ جنسی گھٹن اور حبس زدہ اسلامی جمہوری ریاست کے ہم پاک دامن لوگ اس بات کو جی جان سے مانتے ہیں کہ بچے فرشتوں کا روپ ہوا کرتے ہیں، لیکن اس بات کو تسلیم کرنے کی اہلیت سے عاری ہیں کہ اِن فرشتوں کو خطرہ بھی دین و ملت کے انہی پاسبانوں سے ہے۔ ہماری ننھی منی بچیاں جب شعور کا دامن تھامتی ہیں تو اپنے گردوپیش کے ماحول سے ہمیشہ خوف زدہ رہتی ہیں۔ مخلوط خاندانی نظام میں پرورش پانے والی بچیاں تو کھل کے اپنے پیاروں کے ہولناک پیار بھرے رویوں کی نشاندہی بھی نہیں کر پاتیں۔ منہ کھولیں تو پیاروں کی عزت پہ حرف آتا ہے، منہ بند رکھیں تو اپنی عزت کی دھجیاں بکھرتی ہیں۔ سماج اور دھرم کے ٹھیکیدار، عزتوں کی محافظ سیاہ چادروں سے، انھیں کسی سامان کی ماند، سر تا پیر ڈھانپ دیتے ہیں، جن میں بسا اوقات آنکھوں کی جگہ بھی روزن ہی ہوا کرتے ہیں، اور تِس پر بھی یوں سمجھتے ہیں کہ حق ادا نہ ہوا۔ پھر چاہے اس چادر پر رینگنے والی نظروں میں پہلی پاکیزہ نظر ان کی اپنی ہی کیوں نہ ہو۔ احترام، تقد س اور پاکبازی کا سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والا مقدس سبق اِن ننھے اور ناپختہ اذہان کو اَزبر کرایا جاتا ہے، یہ بتائے بغیر کہ قیامت کی بد بخت گھڑی میں نہ تو یہ سبق کام آئے گا اور نہ ہی یہ سیاہ پوشی۔
ذہنی پسماندگی اور فکری انحطاط سے بھرے اس سماج میں ہم لوگ، ایک ایسی بے بس زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نہ تو ہمارے بچے محفوظ ہیں اور نہ ہی ہمارا مستقبل۔ ہمارے فرسودہ نصابات قدیم زمانوں کا بوسیدہ علم تو اپنے شکستہ پنوں میں سنبھالے ہوئے ہیں لیکن جدید اور عصری تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔ جنسی آگہی سے متعلق بنیادی معلومات جنھیں نصاب کے ابتدائی درجوں میں شامل ہونا چاہیے ان کے ذکر پہ ہی ہماری اخلاقی و مذہبی حدود پائمال ہونا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ سڑکوں اور چوراہوں پہ ملنے والی ننھی معصوم نعشوں سے ہمارے ایمان پر کبھی آنچ نہیں آتی۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم منافقت کے اُس اعلیٰ درجے پر فائز لوگ ہیں جنھیں اپنے گریبان کی بجائے دوسروں کے گھروں میں جھانکنے سے طمانیت زیادہ ملتی ہے۔ جو اپنی خواتین کو سات پردوں میں اور پرائی خواتین کو بغیر پردے میں دیکھنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ جن کی ہوس پوری کرنے کے لیے صنف یا عمر کی تفریق قطعاً ضروری نہیں صرف گوشت پوست کا انسان ہونا ضروری ہے، جسے درندہ بن کر چیر دینے میں دیر کہاں لگتی ہے۔
انتہائی قلیل مدت میں بار ہا دہرائے جانے والے یہ سنگین سانحات ریاست اور امن و امان قائم رکھنے والے اداروں کی ساکھ پر کڑے سوال اٹھاتے ہیں۔ ہمیں از سرِ نو سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی اِن اداروں کے قیام کا مقصد ریاست اور اس کے باشندوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ بے حسی آخر کیوں؟ احتجاجی مظاہروں کے دوران، ہجوم کو منتشر کر دینے کا واحد اور آسان طریقہ اُن پر مشتعل ہوکر گولیاں برسانا ہی کیوں ٹھہرا؟ انسانی جان کی وقعت اگر ایک درندے کی نظر میں کچھ نہیں تو کیا ریاستی ادارے بھی اس وقعت سے نا آشنا ٹھہرے؟ کیا طاقت کی نمائش صرف نہتوں پر ہی کی جانی چاہیے؟ کیا دکھ اور تکلیف کے اس اذیت ناک موقع پر بھی ہم مذہبی تعصبات کو ہوا دیتے رہیں گے؟ اپنی بیٹیوں کا ماتھا چوم کر صرف ایک بار سوچیں کہ زینب صرف امین صاحب کی ہی بیٹی تو نہ تھی، وہ ہم سب کی بیٹی تھی۔ جب بیٹیاں سانجھی ہوں تو دکھ بھی سانجھے ہوا کرتے ہیں، سو اپنے جگر گوشوں کی حفاظت اب ریاست کے ناتوں کاندھوں پر ڈالنے کی بجائے خود اپنے اوپر لازم کیجیے، اور انھیں جنگل میں رہنے کے گُر سکھائیے کیونکہ جہاں عدل و انصاف میں تاخیر کی جائے وہاں درندوں کی بہتات ہوا کرتی ہے اور درندے اب صرف جنگل میں نہیں رہتے۔

