جنسی تشدد کا خاتمہ: پولیو سے بڑی مہم درکار ہے!


نیو نیوز کے پروگرام ”ایٹ کیو ود احمد قریشی“ میں ماہر نفسیات ڈاکٹر یوسف رضا نے کہا کہ جنسی تشدد کی تعلیم اور آگاہی سے مراد بچوں کو ’سیکس‘ سکھانا نہیں ہے۔ جنسی تشدد پر تعلیم دینے اور نصاب مرتب کرنے کے لیے ہمیں مغرب کی پیروی کی ضرورت نہیں ہم اپنی تہذیبی روایات، معاشرتی اقدار اور مذہبی احکامات کے اندر رہ کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ خدا کے لیے اپنی آنکھیں کھولیں۔ قیامت کے دن ان لاکھوں بچوں کا ہاتھ ہمارے گریبان پر ہو گا جو جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔ دین میں ایسے معاملات پر آگاہی اور تعلیم دینے میں کوئی شرم نہیں ہے۔ جیسے ہم بچوں کو طہارت سکھاتے ہیں اسی طرح یہ آگاہی بھی دے سکتے ہیں کہ ان کے جسم کے کون سے حصے ہیں جہاں کسی کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہر پانچویں بچی اور بیسواں بچہ جنسی تشدد کا شکار ہے، جنسی تشدد کا شکار سب سے زیادہ پانچ سے گیارہ سال تک کی عمر کے بچے ہوتے ہیں۔ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ جنسی تشدد ہر وقت اور ہر محلے میں ہو رہا ہے۔ آنکھیں چرانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ جنسی تشدد کرنے والا مرد بھی ہو سکتا ہے اور کوئی عورت بھی ہو سکتی ہے لیکن عورت کے جنسی تشدد کے واقعات کم ہوتے ہیں۔ اپنے تجربے سے بتاتا ہوں کہ جنسی تشدد زیادہ تر رشتہ دار کرتے ہیں۔

شماریات کو دیکھیں تو 70 فیصد کیسز میں قریبی رشتہ دار ملوث ہوتے ہیں۔ ان رشتہ داروں میں والدین، چچا، ماموں، کزنز سمیت کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ بچے جب آنکھیں کھولتے ہیں تو آس پاس دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ والدین اور قریبی رشتہ داروں کو محافظ سمجھتے ہیں لیکن جب یہ قریبی محافظ ہی ایسا کام کریں تو ان کا دنیا سے اعتماد ختم ہو جا تا ہے۔ پوری زندگی کے لیے نفسیاتی عارضوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اس سانحہ کو پوری زندگی کبھی نہیں بھول پاتے۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ اگر اس معاملے پر بچوں سے بات کریں تو والدین اعتراض کرتے ہیں۔ اگر والدین کو اعتراض ہو تو وہ خود یہ تعلیم دیں۔ اگر جھجھک محسوس کریں تو کارٹونز اور تصاویر اور کہانیوں پر مشتمل ایسا مواد دستیاب ہے جس کی مدد سے وہ بچوں تک یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ والدین اجازت دیں تاکہ اساتذہ بچوں تک سلیقے سے یہ پیغام پہنچا سکیں۔ ہمیں جھجھک اور شرم کا سامنا ہے اور ہمارے بچے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ ظلم بھی ایسا کہ اظہار کے لیے کوئی لفظ نہیں اور درد ایسا کہ بیاں کی قوت نہیں۔ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ہم اپنے آپ کو تباہ کرنے میں مکمل طور پر خود کفیل ہیں کسی کو ہمیں تباہ کرنے کے لیے سازش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کیسی عجیب بات ہے کہ بد ترین انسانی المیے پر ہم سیاسی و صوبائی تقسیم میں الجھ جاتے ہیں۔ ذمہ داری قبول کرنے سے جان چھڑاتے ہیں۔ ذمہ داری سے پیچھا چھڑانے کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ الزام کسی اور پر تھوپ دیا جائے۔ ہمیں جنسی تشدد کے خلاف پولیو جیسی بیماری کے خلاف مہم سے بڑی مہم درکار ہے۔ پولیو کا مریض تو اعضا سے محروم ہوتا ہے لیکن دماغی طور پر صحت مند رہ سکتا ہے جنسی تشدد کا شکار پوری زندگی سسک سسک کر مرتا ہے۔ ڈاکٹر یوسف رضا نے کہا کہ میرے نزدیک بچوں پر جنسی تشدد، پولیو سے کہیں مہلک اور پھیلا ہوا ہے۔

Facebook Comments HS

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik