ڈر کے آگے جیت ہے

ہیمنگوے نے کہا تھا کہ انسان ہار کے لیے بنا ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس نے کہا کہ انسان تباہ تو ہوسکتا ہے ہار نہیں سکتا۔ تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ انسان مایوس ہوجاتا ہے ہمت توڑ کے اپنے پر نوچ لیتا ہے کوشش ترک کرکے شکست اور ناکامی کو خود پہ طاری کرلیتا ہے۔ اس کی وجہ وہی ہرن والی ہے کہ وہ مڑ مڑ کے ماضی کی ناکامیوں کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ اندر سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ اس کا ماضی اسے ڈستا رہتا ہے وہ اس کی ہمتیں پست کرتا ہے وہ اس میں ڈر اور خوف پیدا کرتا ہے کہ کہیں وہ ہار نہ جائے۔ جو انسان شکست سے پہلے ہی ناکامی کے ڈر میں مبتلا ہوگیا وہ شکست کی بنیاد تو معرکے سے پہلے ہی رکھ گیا۔ ایسے میں جب وہ ناکام ہوتا ہے تو تمام ہتھیار پھینک کے مایوس ہوجاتا ہے۔ کتنی ہی ایسی اندرونی مایوسیاں ہیں جو ہم سے زندہ رہنے کا حوصلہ تک چھین لیتی ہیں۔ ہم کہیں ہلاک نہ ہوجائیں قسم کی سوچیں ہمیں ہمارے مقاصد کے حصول کے قابل نہیں بننے دیتیں۔ اور نتیجہ ہم اپنی صلاحیتوں پہ کبھی بھی اعتماد نہیں کر پاتے۔ اور زندگی میں ناکام و نامراد ٹھہرتے ہیں۔
اس لیے زندگی کی دوڑ میں ہمیں شیر بن کے ابھرنا چاہیے، اپنی ہمت اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی منزل کا تعین کرنا چاہیے۔ اور پھر عزم مصمم کے ساتھ اس راستے پہ گامزن رہتے ہوئے ہی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا تعلق ہمارے ذات کے داخلی معاملات سے ہے۔ خارجی عوامل تو بس ایسی diversions ہیں جو وقتی ہوتی ہیں جن کو اندرونی طور پہ مضبوط انسان اپنے ارادے کی پختگی سے اپنے حق میں ڈھال لیتا ہے۔ لیکن اندرونی ڈر اور خوف کو آپ نے پہلے زیر کرنا ہے۔ اسی چیز کو ہی تو اقبال نے خودی کا نام دیا ہے۔ کہ اپنے آپ کو پہچانو، اپنی کمی کوتاہیوں کا تدارک کرتے ہوئے اپنی کرداری سازی اس نہج پہ کرو کہ انسان خود کو تسخیر کر لے اور تسخیر نفس کے بعد اپنی ذات کی مضبوطی کے بل بوتے پہ آپ دنیا کی تسخیر کیا آخرت میں اعلی مقام پاسکتے ہو۔

