حسن ظفر عارف شاہ کی آنکھ میں جاگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معلوم نہیں کہ ڈاکٹر حسن ظفر جیسا فلسفی استاد اب دوبارہ کب جنم لے گا۔ تاریخ کے اوراق کا عمیق مطالعہ کر نے کے بعد  اہلِ فکر اور دانشور اس بات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ فلسفے کا اک معتبر ترین حوالہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ اک ایسا دماغ جس سے جنم لینے والی روشنی، کتنے ہی چراغوں کے لئے مشعلِ راہ بنی، جو اپنی استطاعت کے مطابق خود میں روشنی سمیٹتے رہے اور اسی نسبت سے آپ کو استادالاساتذہ کہنا بے جا نہ ہوگا۔

ڈاکٹر صاحب کی اپنی زندگی جس فلسفے کے گرد گھومتی رہی، وہ مزاحمتی تھا۔ ضیاء دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن حرفِ حق کہنے سے گریز نہ کیا۔ آزادی رائے کے حق کا پرچار کرنے کے ساتھ ساتھ، انسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر سڑکوں کی دھول چھانٹی اور عدالتوں کے در کھٹکھٹائے۔ سوال کرنا اپنا حق سمجھا اور اسی ضمن میں ان لوگوں کی فہرست میں شامل کر دیے گیے کہ جنہیں سوالوں کے جواب نہیں دیے جاتے۔

This is Slavery، not to speak one‘s thought
آپ کی زندگی کو اس قول سے سمجھا جا سکتا ہے۔

جامعہ کراچی کے کمرہ جماعت ہوں تو آپ نے یہی سکھایا کہ تنقیدی سوچ فکری پختگی کا زینہ ہے۔ آپ نے اپنے طلباء کو روایتی طرزِ تعلیم کے توہمات سے نکال کر اس ڈگر پر چلایا، جہاں اپنی منفرد سوچ رکھنے والے کیسی گناہ کے مرتکب نہیں ٹھہرتے۔

ڈاکٹر حسن ظفر تمام عمر اپنے خیالات اور احساسات کا بلا خوف و خطر اظہار کرتے رہے۔ بائیں بازو کی سیاست سے وابستگی رہی اور مارکسی نظریات کی ترویج کرتے ہوئے، مزدوروں اور غریبوں کے حق میں مصروفِ عمل رہے۔ یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب عمر کے آخری حصے میں ہی اتنے فعال کیوں نظر آیے اور آخر میڈیا اور دوسری سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے اسی دور میں ان پر نظرِ کرم کیوں فرمائی تو اس کا جواب ان کی زندگی کے مختلف ادوار پر روشنی ڈالنے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جامعہ کراچی کے بعد جب ریڈنگ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے انگلینڈ گئے تو اسی دور میں آپ طلباء تنظیموں میں متحرک ہوئے۔ مغربی معاشرے سے جہاں مختلف نظریات سمجھے، وہیں عمل کوسبقت کا مقام دیا اور کریڈٹ سے گریز کیا۔ اور پھر آئیندہ تمام عمر کریڈٹ کے ٹھپے سے آگے نکل کر سوچا۔

عمر کے آخری حصے میں ایم کیوایم لندن سے وابستگی کا فیصلہ فطری تقاضوں کے باعث ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے بدلے میں ان کے ساتھ معاشرے کا یہ رویہ ایسے کئی سوالوں کہ جنم دیتا ہے جس کا جواب ڈاکٹر صاحب جیسا بلند آہنگ فلسفی اور وسیع الدماغ انسان ہی دے سکتا تھا۔

اب نہ سوال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی جواب کا انتظار۔

ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی وفات پر عدنان محسن کی ایک نظم بعنوان اوقات

دماغوں میں پکتے ہوئے گرم لاوے کے آگے
طمنچے سے اُگلے ہوئے گرم سیال سیسے کی اوقات کیا ہے؟
زبانوں پہ کِھلتے ہوئے عقل و دانش کے پھولوں پہ
غراہٹوں کی گرج میں برستی ہوئی گالیاں
اپنی لایعنییت جانتی ہیں
گِل و خوں پہ زنجیر و آہن سے ڈھائے گئے
سب ستم اپنی ناپائیداری پہ ماتم کناں ہیں
اُدھڑتی ہوئی جلد جسموں سے،
ناخن لرزتی ہوئی انگلیوں سے،

سر آشفتگاں کی ڈھلکتی ہوئی گردنوں سے
اترتے ہیں لیکن عَلَم اور قَلم جاوداں ہیں
زمانوں کی اڑتی ہوئی راکھ میں
حُریت کے ترانوں کی خوشبو بسی ہے
وہی سب ترانے جنہیں گانے والوں کے
دہکی ہوئی بھٹّیوں میں جلایا گیا تھا

وہ دیوانگی کے اسیر
منوں خاک اوڑھے ہوئے جاگتے ہیں
جنہیں سچ کے پرچار کے جرم میں
زہر پیالہ پلایا گیا تھا
فصیلوں سے شب کے اندھیرے میں
پھینکی گئی مسخ لاشوں کا ڈر
عود و عنبر سے مہکی مسہری پہ
بے چین کروٹ بدلتے ہوئے
شاہ کی آنکھ میں جاگتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں