بیٹی کی پیدائش پر آنکھیں مت چرائیے؛ ہوم ورک پورا کریں


زینب کا آخری ہوم ورک آنکھوں میں کرچیاں بھر گیا، کوشش کے باوجود نقل نہیں کر پا رہا، سکرین دھندلانے، ہاتھ کانپنے لگتے ہیں، ایک ایک لفظ کسی سوالیہ نشان کی طرح حلق میں اٹک چکا، یہ سوال ہتھوڑے کی مانند ذہن پر برس رہا ہے کہ زینب تو آخری روز بھی اپنا ہوم ورک کرنا نہیں بھولی، لیکن کیا ہم اپنے اپنے حصے کا ’ورک‘ کر رہے ہیں؟

اصل سوال یہ نہیں کہ قصور کا واقعہ پہلا تھا یا آخری۔ یہ بھی جانے دیجئے کہ ابھی تک مجرم پکڑا کیوں نہیں جا سکا۔ یہ ضد بھی چھوڑئیے کہ عمرے کے لیے جانے والے والدین کی دعا کیوں قبول نہ ہوئی۔ یہ استدلال بھی ایک طرف کر دیجئے کہ والدین ابھی تک اس ہیولے کو کیوں نہیں پہچان سکے جس کے ساتھ بچی دیکھی گئی۔ یہ نکتہ بھی فی الحال باہر ہی رکھیں کہ احتجاج کرنے والوں نے ٹھیک کیا یا نہیں۔ اس سوال کو بھی لبوں کے پیچھے ہی رکھئے کہ پولیس کو کیا کرنا چاہیے تھا کیا نہیں، یہ معاملہ بھی چھوڑ دیجئے کہ یہ کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔ یہ سوال بھی ایک طرف رکھیے کہ عقیدہ کس طرح ایک سرکاری افسر کے فرائض کی راہ روک سکتا ہے۔ یہ بات بھی پھر سہی کہ کون اس ایشو پر سیاسی گدھ بنا ہے اور کون سیاسی کبوتر، عالمی سطح پر ہونے والی بدنامی بھی جھٹک دیجئے اور یہ اصرار بھی مت کیجئے کہ اس پوری فضا کو کیوں اور کس کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

دماغوں میں پُھنکارتے دیگر سوالات بھی جانے دیجئے اور حکام کے آئیں بائیں شائیں پر مشتمل غیر تسلی بخش جوابات بھی۔ اس لئے نہیں کہ یہ سب کچھ غیر اہم ہے اس لئے کہ ان سب سے بڑا سوال بھی موجود ہے کہ ’ کیا ایسے واقعات سے بچاؤ کی پیش بندی واقعی بے حیائی ہے، کیا ریپ ہونے والی کو اس لیے مطعون ٹھہرانا کہ وہ گھر سے نکلی ہی کیوں، جرم کو جواز دینے کے مترادف نہیں؟ ‘ ایک سماجی مسئلے کو اقدار و تقدیس کے غلافوں میں لپیٹنے والے دراصل گلاس کے اس حصے پر نگاہیں ٹکائے ہوئے ہیں جو خود ان کی اوپری منزل کی طرح خالی ہے۔

اس دلخراش خبر نے ماحول ہی نہیں دھندلایا کافی دیر تک دل بھی کسی پھوڑے کی مانند دکھتا رہا، حوصلے کے کچھ تنکے اکٹھے کیے ہی تھے کہ دفعتاً مردان سے آنے والی اس سے ملتی جلتی خبر ضبط کے بند توڑ گئی۔ پھر ایک اور، یکے بعد دیگرے کئی معصوموں کے ساتھ ایسا بھیانک سلوک، اور اس کی وجہ فرسودہ سسٹم اور ہٹ دھرم رویہ، خدا کی پناہ، کیا اب بھی یہ کہنے میں کوئی تامل ہو سکتا ہے کہ ہمارے ہاں صنف نازک کو، جو چاہے کمسن ہی کیوں نہ ہو بس جنسی تسکین کی مشین سمجھا جاتا ہے۔

ہم ایسے سفاک معاشرے میں رہتے ہیں کہ بچی کی سزا اسی روز سے شروع ہو جاتی ہے جب وہ پیدا ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات تو پیدائش سے بھی قبل ہی پیچھا چھڑا لیا جاتا ہے، بچی پیدا کرنے والی خود کو مجرم سا محسوس کرتی ہے، میری بھی جب بیٹی پیدا ہوئی تو بیوی آنکھ نہیں ملا پا رہی تھی اور میری طرف سے تمام تر دل جوئی کے باوجود وہ اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ میں اس کا دل رکھنے کے لیے کہہ رہا ہوں، یہ وہ سوچ ہے جو سالہاسال بچیوں کے ذہنوں میں انڈیلی جاتی ہے جس سے وہ شادی کے بعد بھی دامن نہیں چھڑا پاتیں۔ دراصل بچی کو دیکھ کر انہیں وہ تمام اذیت ناک مراحل یاد آتے ہیں جو زندگی میں انہیں برداشت کرنا ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں تو بچی کی اصل زندگی وہ لمحات ہوتے ہیں جب تک اسے پتہ نہ ہو کہ اس کی جنس کیا ہے جیسے ہی وہ چند سال کی ہوتی ہے اور دوسرے بچوں کے مقابلے میں اپنے ساتھ سلوک کو سہتی ہے تو اس پر کھلتا ہے کہ وہ تو کوئی اور ہی مخلوق ہے۔

بہرحال زینب تو معصوم تھی، بے قصور، لیکن اس کے والدین گئے اور موجودہ زمانوں کے فرق کو سمجھ نہ سکے، اب بہت کچھ مختلف ہے، بچے کی پرورش باقاعدہ ایک فن بن گئی ہے، جس میں سکول سے زیادہ کردار گھر اور والدین کا ہے جس چیز پر زینب کے والدین کی طرح دوسرے لوگ بھی توجہ نہیں دے رہے، وہ ہے کونسلنگ، جسے جنسی تعلیم یا بے حیائی کے ساتھ قطعاً الجھانا نہیں چاہیے۔ ویسے تعلیم کوئی بھی بری نہیں ٹھہرائی جا سکتی۔ اصل میں یہ مشاورت، بات چیت ہی ہوتی ہے جس میں بچے کو اس حد تک اعتماد دیا جاتا ہے کہ وہ بلاجھجھک کوئی بھی مسئلہ بیان کر سکے اور اگر کوئی مسئلہ سامنے آتا بھی ہے تو اس میں وہ نام نہاد غیرت پھن نہ اٹھائے جو مظلوم کو ہی مسئلے کی جڑ سمجھ لے۔ یہ بات کوئی نہیں مانتا تو نہ مانے لیکن حقیقت ہے کہ ایسی کتنی ہی طالبات صرف اس وجہ سے باہر ہونے والے سلوک کے بارے میں والدین کو نہیں بتاتیں کہ وہ انہیں سکول سے اٹھا لیں گے۔

اس کیس میں کسی نے بھی نہ چاہا ہو گا کہ ایسا ہو سوائے اس کے جو منصوبہ بندی کر چکا تھا۔ تو پھر کیا یہی سمجھ لیا جائے کہ مرنے والی کی ایسے ہی لکھی تھی۔ لیکن جو کچھ اس سے قبل ہوا کیا وہ درست تھا؟ کیا وہی سانحے کی بنیاد نہیں بنا؟ زینب کی آخری تصویر میں نظر آنے والے شخص کو والدین اس لیے نہیں پہچان رہے کہ وہ اسے نہیں جانتے، حالانکہ بچی کا انداز ایسا تھا جیسے اسے جانتی ہو، جس سے صاف ظاہر ہے کہ بچی و والدین کے درمیان کافی فاصلہ تھا اس خلا میں کونسلنگ کو ہونا چاہیے تھا یہ اصطلاح ہمارے ہاں ابھی تک سمجھی ہی نہیں گئی۔

ویسے تو اس کو بچوں پر ہی نہیں سب پر ہی اپلائی کیا جا سکتا ہے لیکن دوران پرورش اس کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کو آپ نفسیاتی عمل کہہ سکتے ہیں، جس میں انسان کے ساتھ اٹھ بیٹھ اور گفتگو کرکے رجحان، اٹھان، شوق، پسند نا پسند سمیت ذہنی رمز کو بھی سمجھا جا سکتا ہے دوسرے ممالک میں اس پر بہت کام ہو رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں والدین بچوں کو نیکی کی تلقین تو کرتے رہتے ہیں لیکن کبھی ان کو اتنا حوصلہ نہیں دیتے کہ وہ کسی بھی موضوع پر ڈھکے چھپے الفاظ میں ہی سہی بات کر سکیں۔ ہمارا معاشرہ ایک خاص بناوٹ رکھتا ہے اس میں ہم یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ اس ایک آدھ ماہ میں ہر معاملے پر گھروں میں کھل کر بات ہو گی تاہم ماؤں کو بیٹیوں کی سب سے بڑی رازدان کہا جاتا ہے اس لیے بیٹیوں کو ماں اور بیٹوں کو باپ کم از کم اس حد تک تو آگاہ کر سکتے ہیں کہ کوئی ان کے جسم کو نامناسب انداز میں چھوئے تو انہیں کیا کرنا چاہیے اور اسے ہرگز نہیں چھپانا چاہیے۔

اب ہم ستم کے ایک ایسے فیز میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہمیں یہ کرنا پڑے گا یہ سسٹم ہمیں چند سال تک چلانا پڑے گا یہی بچے جب والدین بنیں گے تو اپنے بچوں کو مخمصے، تذبذب اور ہچکچاہٹ کی ٹھوکروں سے بچانے کے ساتھ ساتھ اعتماد و بدتمیزی، شرافت و شرم، صبرومایوسی اور بہادری و بے وقوفی میں فرق بھی سمجھا پائیں گے کہ یہی دور حاضر کا تقاضا ہے۔ اگر ہم اب بھی آگہی کو بے حیائی و تقدیس کے بتوں کے ساتھ ٹکراتے رہیں گے تو پھر ہمیں مزید دھندلی خبریں پڑھنے کے لیے تیار رہنا ہو گا اور کون جانے کہ اب کے زینب کی جگہ کون اور والدین کی جگہ کون ہو۔

Facebook Comments HS