سوشل میڈیا کے ذریعے انسانیت کی خدمت



سوشل میڈیا نے اکیسویں صدی میں انقلاب برپا کردیا ہے جتنے اس کے منفی اثرات ہیں اُس سے زیادہ اس کے مثبت اثرات بھی ہیں جس سے ہم سیاسی، سماجی اور دیگر سطح پر کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ ملک عزیز میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہے جس سے جڑے نوجوان خیالات کا تبادلہ کرنے کی ترسیل کے ساتھ عوام اور معاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے بھی سرگرم عمل ہیں۔ فیس بک اور سوشل میڈیا پر بہت سے پیجز میری نظر سے گزرتے ہیں اور میں نے بہت سے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کو دیکھا ہے جن کا کام معاشرے کی ترقی اور فلاح کے لئے کام کرنا ہے حالانکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں مگر ساتھ میں سوشل میڈیا پر قوم کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔ پچھلے وقتوں میں علاقے میں کچھ لوگ ہوا کرتے تھے جو سوشل ورک میں مصروف ہوتے تھے۔ بس علاقے کی ترقی اُن کا مقصد ہوتاتھا۔ وہ سوشل ورک کےلئے جیبوں سے پیسے خرچ کرتے تھے۔ اُن کا پھر سیاسی اثر رسوخ بھی ہوتا تھا۔ لوگ اُن کی مانتے تھے اور انہیں ایک اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آج وہ سوشل ورک سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے۔ جس۔ میں ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

ایسے ہی سوشل میڈیا ایکٹویسٹ میں نوشہرہ کے ثاقب الرحمن بھی ہیں۔ جس سے میرا تعارف اسی سوشل ایکٹیویزم کے ذریعے ہوا۔ جس نے عوامی خدمت کو تب شعار بنایا جب ملک میں زلزلے نے تباہی مچائی تھی اور ثاقب نے گھر سے باہر نکل کرایبٹ آباد میں زلزلے کی تباہ کاریاں دیکھیں۔ حالانکہ وہ خود بھی زلزلے سے حواس باختہ تھا۔ مگر اُس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی مدد اپ کے تحت لوگوں کی مدد شروع کی۔ اس دوران اس کے ساتھ دیگر دوست بھی ملے اوریوں کارواں بن گیا۔ اگر دیکھا جائے تو اس بحران میں ساری قوم اکھٹی ہوگئی تھی۔ نوجوانوں میں کافی جذبہ تھا اور یہی جذبہ مجھے بھی کشمیر لے گیا تھا۔ جہاں میں نے بھی نوجوانوں اور بوڑھوں کے ساتھ ملکر کام کیا تھا۔ مگر ثاقب الرحمن نے اس کے بعد سوشل ورک جاری رکھا پھر جب سوشل میڈیا کا چرچا ہوا تو انہوں نے اسے اختیار کر لیا اور تب سے سوشل میڈیا پر سوشل کنٹینٹس کو اپنے سوشل سرکلز میں شئیر کرتا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا میں جتنا اپ کا سوشل سرکل وسیع ہوگا اتنا کام تیز چلے گا۔ اور ثاقب الرحمن کے حلقہ احباب میں سیاسی، ادبی، میڈیا اور این جی اوز سمیت سوشل ویلفئیر کے لوگ شامل ہیں جس کی ایک پوسٹ اتنی وائرل ہوجاتی ہے کہ جس محکمہ میں کرپشن ہوتی ہے وہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیونکہ سوشل نیٹ ورکنگ آج کل کسی بھی قسم کی خبر یا اطلاع کی اشاعت کا بہت بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ اور کسی بھی گوشے میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے سیکنڈوں میں دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے۔

مصر کے انقلاب کے دوران جبکہ ہر قسم کی اطلاعات کی ترسیل پر مبارک حکومت نے سخت پابندی عائد کررکھی تھی، سوشل میڈیا نے انقلاب کے واقعات دنیا تک پہنچانے میں کافی اہم رول ادا کیا۔ سوشل میڈیا کی غیر موجودگی میں شاید دنیا مصری انقلاب سے کماحقہ واقف نہیں ہوسکتی تھی۔ زینب کا کیس ہمارے سامنے ہے۔ اسی طرح پشاور میں بہت سے واقعات ہیں جن کو ہائی لائیٹ کرانے میں ثاقب الرحمن جیسے نوجوانوں کا ہاتھ ہے، کمپیوٹر سائنس میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے والے نے فیس بک کے ذریعے اب تک بیس کے قریب جلنے والے مریضوں کا علاج کرنے کےلئے مدد کی ہے۔ جہیز جو موجودہ دور میں ایک لعنت کی شکل اختیار کر گیا ہے ثاقب نے سوشل میڈیا کا سہارا لے کر تیس لڑکیوں کے لئے مخیر حضرات سے رقم اکٹھی کرکے ان کے لئے جہیز بنا کر ان کی شادیاں کرائی ہیں۔ اور دو درجن سے زیادہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات پوری کرنے کے لئے اقدامات اُٹھائے ہیں

اسی طرح جب کوئی پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر ہوجاتی ہے جس۔ میں کسی کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے اس۔ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد پوسٹ کو شئیر کرنا شروع ہوجاتا ہے جس۔ میں اس کے صحافی دوست بھی مدد کرتے ہیں۔ وہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میٍڈیا دونوں پر چل جاتی ہے اور پھر کوئی نا کوئی خدا ترس امیر اس خاندان کی مدد کر لیتا ہے۔ پانچ سو وہیل چیئرز معذور افراد میں تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ کئی مرتبہ اسے تھریٹس بھی ملے ہیں مگر اسے سوشل ورک سے تھریٹس نہیں روک سکے۔ ایڈورڈین گرلز کے نام سے بہت عرصہ سے ایک پیج چل رہا تھا۔ جو کوئی گنداگیر خان کے نام سے چلاتا تھا۔ اس پیج میں پشاور کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طالبات اور ٹیچرز کی تصاویریں وائرل ہوتی تھی۔ اور بہت منظم طریقے سے یہ پیج چل رہا تھا جس میں ساری تصاویر اوریجنل ہوتے تھے۔ اور سات سال سے لڑکیاں گندا گیر خان سے بلیک میل ہورہی تھیں۔

ثاقب الرحمن نے اپنے دوستوں کے ساتھ ملکر گندا گیر خان کی گندا گیری کا خاتمہ کرلیا اور اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ جب سوات اپریشن شروع ہوا تو ملک کی تاریخ کی بڑی نقل مکانی ہوئی جس۔ میں ثاقب نے دوسو متاثرین کی مدد کی انہیں مختلف جگہوں میں پناہ دی اور ان کے خوراک وغیرہ کی ذمہ داری لی تھی۔ اسی طرح چارسدہ میں دوجڑواں سروں والی بچیوں کی پیدائش ہوئی تھی جس کا علاج ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ اُس خاندان کے پاس رقم نہیں تھی سما ٹی وی پر رپورٹ چلی سوشل میڈیا پر اس کی تصویر ڈالی گئی تو مسلم لیگ ن کی صوبیہ خان نے رابطہ کیا اور پھر نواز شریف نے اس کے لئے کمیٹی بورڈ تشکیل دی اور بچیوں کا علاج کردیا گیا۔ کوہاٹ میں کزن نے ایک این جی او میں کام کرنے والی لڑکی کو قتل کیا تو اس بات کو سوشل میڈیا پر ثاقب لے آیا اور پھر تھریٹس ملے اور جو قاتل تھا وہ گرفتار ہوگیا۔

اس جیسے بہت سے واقعات ہیں جو ثاقب نے ہائی لائیٹ کرائے ہیں جس۔ میں پشاور یونیورسٹی میں ہونے والا بیلے ڈانس، نشتر ہال میں برقعہ ڈانس اور پچھلے ہفتے پشاور میں آئس کا نشہ کرنے والی خاتون کا کیس ہے جس کو میڈیا میں کافی پذیرائی ملی اور پولیس نے پندرہ منٹ میں اس لڑکی اور لڑکی کو نشہ فراہم کرنے والے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس جیسے بہت سے واقعات ہیں جس میں ثاقب نے انسانیت کی جنگ لڑی ہے اور اب اس کا چھوٹا بھائی شہاب الرحمن بھی اس جنگ میں اس کا ہمراہی بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس قسم کے استعمال سے ہمارے نوجوان انسانیت کی جنگ بہتر طریقے سے لڑ سکتے ہیں۔ جس میں خدمت کی خدمت اور دعا کی دعا ملتی ہے۔ اس لئے نوجوانوں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے میری گزارش ہے کہ وہ خدمت کو اپنا شعار بناتے ہوئے سوشل میڈیا کا تعمیری مقاصد کے لئے استعمال کریں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).