عقد کی وجوہات


دوستو کبھی آپ نے سوچا کہ اچھا بھلا انسان جو ہنسی خوشی آزادی سے چہکتا اور ٹہلتا نظرآ رھا ہوتا ہے وہ یکا یک اپنے پر کتروانے پر کیوں رضامند ہو جاتا ہے۔ آج ہم نے سوچا کیوں نہ ان وجوہات کا سراغ لگایا جائے جو اچھے بھلے انسان کو جان بوجھ کر اس پر خطر وادی میں داخل ہونے پر آما دہ کر لیتی ہیں۔ بسا اوقات انسان خود توذ ی ہوش ہوتا ہے پر نا عاقبت اندیش دوستوں کے کہنے میں آ جاتا ہے۔ دراصل شادی شدہ دوست اپنے غیر شادی شدہ دوستوں پر رشک کرتے ہیں اور انھیں قائل کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ آج کل نیا زمانہ ہے، نئےنئے ٹرینڈز متعارف ہو رہے ہیں۔ جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا لوگ ان ان وجوہات پر شادیاں کر رہے ہیں۔ ہمارے ایک پروفیسر تھے جو کافی عمر رسیدہ ہونے پر بھی کسی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے پر تیار نہ تھے۔ ایک دن فرمانے لگے سب کہتے ہیں شادی کر لو، میں تو دیوار پر چھپکلی چلے تو سو نہیں پاتا بھلا کیسے اپنی نیند ہمیشہ کے لئے حرام کر دوں۔

ویسے بھی یہ ستم ظریفی ہی ہے کہ انسان کو پسند تو خاتون کے چہرے کا تل آتا ہے لیکن شادی پوری خاتون سے کرنی پڑتی ہے۔
بعض مہم جو حضرات گھر داماد بننے کے لئے بھی شادی کا بندھن باندھ لیتے ہیں یوں تو گھر داماد بننے کے بہت سے فوائد ہیں پر سب سے زیادہ فائدے میں وہی گھر داماد رہتا ہے جس کا سسر شریف ہو بلکہ شریف خاندان میں شادی ہو جائے تو بہت ہی اچھا ہے۔

کچھ روز قبل ایک مشہور شخصیت نے اس آ س پر ایک مبارک خاتون کو رشتہ بھیج دیا کہ یہ شادی اتنی مبارک ثابت ہو گی کہ وہ ملک کا سب سے بڑا انتظامی عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر شادی ہو گئی اور عہدہ نہ مل سکا تو کیا کوئی اور مبارک خاتون تلاش کرنی پڑیں گی۔ ہمارا تو مشورہ ہے کہ کسی مبارک نامی خاتون سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں تا کہ غلطی کی گنجائش نہ رہے۔

کچھ لوگ تنہائی سے بچنے کے لئے شادی کرتے ہیں اور شادی کے بعد مزید تنہا ہو جاتے ہیں کیونکہ نوے فیصد شادی شدہ زندگی دوسرے کمرے سے بآواز بلند یہ پوچھنے میں گزرتی ہے کہ ”کیا کہا؟ “۔ ویسے بھی اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیوی آپ کی بات غور سے سنے تو کسی دوسری خاتون سے بات کرنا شروع کر دیں آپ کی بات اتنے دھیان سے سنی جائے گی کہ ایک ایک لفظ ازبر ہو جائے گا۔

بہت سے دوست آخری خوا ہش کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اچھے بھلے موج مستی کر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک خاندان کے کسی بزرگ کی آخری خوا ہش آ جاتی ہے کہ وہ دنیا سے کوچ کرنے سے قبل آپ کو شادی شدہ دیکھنا چا ہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بزرگوں کا کہا بھی ٹالنا مناسب نہیں ہوتا۔

سقراط نے کہا تھا شادی ضرور کرنا اگر بیوی اچھی ملی تو تم خوش ہو جاؤ گے، اگر بری ملی تو فلاسفر ہو جاؤ گے۔ اب فیصلہ آپ کا ہے کہ خوش ہونا ہے یا فلاسفر بننا ہے۔

Facebook Comments HS