لوگ کیا سادہ ہیں، سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
حقیقی عظیم لوگوں کی دیگر کئی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ وہ بھی انہی کی طرح عظیم ہیں۔ وہ اپنے شعبے میں نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ ان کی بہترین رہنمائی کرتے ہیں۔ عہد حاضر کے عظیم مزاح نگار اور مقبول ترین کالم نگار عطا الحق قاسمی صاحب میں دوسری کئی خوبیوں کے علاوہ یہ خصوصیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ مولانا روم ایک جگہ فرماتے ہیں کہ انسانوں میں رہتے ہوئے انسانوں کی تلاش ایک مسئلہ ہے جو ہم سب کو درپیش ہے۔ عطاءالحق قاسمی اسی تلاش کا گوہرِ مقصود ہے۔
قاسمی صاحب ایسی نابغہ شخصیات کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند بے ذوق لوگ انہیں ہدفِ تنقید بناتے ہوئے ان پر عہدوں کے حصول اور مفاد پرستی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ لوگ شاید یہ نہیں جانتے کہ عظیم ادیب اور شعرا حضرات ان عہدوں اور رتبوں سے بہت بلند ہوتے ہیں۔ ماضی میں کتنے ہی اہم عہدوں پر مختلف لوگ متمکن رہے لیکن آج کسی کو کچھ یاد نہیں۔ دوسری طرف جو عہدے عظیم المرتبت ادبی شخصیات کو سونپے گئے وہ انہی کے ساتھ امر ہو گئے۔ پطرس بخاری نے اقوامِ متحدہ میں اعلیٰ سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی۔ لیکن اُن کا تعارف ان کے شاندار مضامین ہیں ناکہ ان کا اقوامِ متحدہ کا مندوب مقرر ہونا۔ کوئی بتلائے کہ کیا فیض صاحب اس بنا پر مقبول ہیں کہ وہ نیشنل آرٹس کونسل کے سربراہ رہے؟ یہ عہدے، مرتبے اور اعزازات ایسی شخصیات کے عزت و وقار میں اضافے کا باعث نہیں بنتے بلکہ ان اعزازات وغیرہ کی اپنی قدروقیمت اور عوامی پہچان بڑھ جاتی ہے۔ آج ہم اگر لینن پرائز کو جانتے ہیں تو محض اس لئے کہ یہ ہمارے فیض صاحب کو ملا تھا۔ کیا خیال ہے اگر اقبال کو سر کا خطاب نہ ملا ہوتا تو ان کے موجودہ مقام و مرتبے میں کچھ کمی ہوتی؟ قاسمی صاحب کا اصل عہدہ ان کا قلم ہے۔ البتہ جن شعبوں میں انہیں کام کرنے کا موقع ملا ہے انہوں نے شاندار اور یادگار خدمات انجام دی ہیں۔ بطور سفیر ان کی کارکردگی ہر لحاظ سے قابلِ تحسین رہی ہے۔ سفارت کاری کے دوران ان کا ہر عمل ارضِ پاک سے گہری محبت اور خلوص کو ظاہر کرتا ہے۔ اور بطور چئیر مین الحمرا آرٹس کونسل تو انہوں نے شاندار تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے لاجواب اور عدیم المثال عالمی علمی و ادبی کانفرنسز کا انعقاد کر کے علم و ادب کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا حق ادا کر دیا۔ ان کانفرنسوں کا انعقاد ان کی بے پناہ انتظامی خوبیوں کا بھی اظہار تھا۔ بطور چیئرمین پی ٹی وی انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے یاد گار اور شاندار و سنہری دور کے احیا کے لئے مخلصانہ اور بھرپور کوششیں کیں۔ ان کے دور میں ادب و ثقافت کی حامل سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ اِن ہاﺅس پروڈکشنز کو فوقیت دی گئی۔ مزید براں پی ٹی وی ملازمین کے دیرینہ مسائل حل کرتے ہوئے ان کی خیر خواہی کے لیے اقدامات کیے گئے۔
مجھے اُستادِ محترم جناب قاسمی صاحب سے نیاز مندی کا شرف حاصل ہے۔ پچھلی تقریباً ایک دہائی سے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ میں نے انہیں ہمیشہ دوسروں کے لیے ناصرف مثبت سوچ کا حامل پایا بلکہ اپنی اسی سوچ کے پیشِ نظر لوگوں کی خیر خواہی کے لیے انہیں عملی اقدامات کرتے بھی دیکھا۔ وہ نو آموز ادیبوں کی انگلی پکڑتے ہیں۔ انہیں چلنے کا حوصلہ دیتے اور سلیقہ بتاتے ہیں۔ دشتِ ادب میں کسی مخلص نووارد کی پزیرائی جس انداز میں جناب قاسمی صاحب کرتے ہیں وہ انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ مجھے ان کے اس بڑے پن کا ذاتی تجربہ ہوا ہے اور بلا شبہ یہ اعلیٰ ظرفی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔
قاسمی صاحب کے کئی حوالے ہیں اور ہر حوالہ اتنا شاندار ہے کہ اس کا بیان گویا ایک کتاب کا متقاضی ہے۔ میدانِ ادب میں وہ اک لالہ صحرائی کی مانند سب سے مختلف بھی ہیں اور سب سے معتبر بھی! اُن کی تحریر بہترین ادبی معیار کے ساتھ کلاسیکی ٹچ لئے ہوتی ہے۔ اُن کا سب سے معروف و مقبول حوالہ ان کی کالم نویسی ہے۔ عرصہ پچاس سال سے زیادہ ہو چلا، انہوں نے قارئین کے ذوق کی نا صرف تسکین کی ہے بلکہ اس کی تربیت بھی کی ہے۔ کالم نویسی میں انہوں نے کئی اختراعات اور نئے انداز متعارف کروائے جنہیں بعد ازاں بہت سے کالم نویسوں نے اختیار کیا اور کامیاب ٹھہرے۔ اکثر کالم لکھتے ہیں اور ہر کالم ایسا کہ قاری دوسرا بھول جائے۔ بے تحاشا لکھنے کے باوجود شگفتگی ماند نہیں پڑتی۔ مزاح نگاری کے امام جناب یوسفی صاحب نے درست فرمایا کہ قاسمی صاحب اتنا لکھتے ہیں لیکن تازگی نہیں جاتی۔ ان کی شاعری بھی ایک معتبر حوالہ ہے۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ ان کا ایک نعتیہ شعر ان کے بھر پور عشقِ رسولﷺکو ظاہر کرتا ہے۔ اس فقیر کی رائے میں وہ اگر اور کچھ بھی نہ لکھتے تو یہ ایک شعر ان کو زندہ رکھنے کے لئے کافی تھا :
تو نے کچھ بھی تو دیکھنے نہ دیا
اے میری چشمِ تر مدینے میں
استادِ محترم جناب قاسمی صاحب کی دلکش تحریروں اور ان کے اعلیٰ انسانی اوصاف نے انہیں مجموعی طور پر ایک بے حد محبوب شخصیت بنا رکھا ہے۔ اُن کی شخصیت اور فن میں ہمیں بُعد نظر نہیں آتا۔ ان کی شخصیت کا اعجاز ان کی تحریر میں در آیا ہے ۔ چنانچہ ان کی صحبت میسر آئے یا تحریر، لطف بہرصورت نصیب ہوتا ہے۔ فقیر سید وحیدالدین، ”روزگارِ فقیر“ میں علامہ اقبال کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ” ڈاکٹر صاحب کی ذات سے کبھی کسی دوست کو کوئی رنج نہیں پہنچا۔ ان کا ہر ملنے والا یہی سمجھتا کہ ڈاکٹر صاحب مجھ پر زیادہ کرم فرماتے ہیں۔“ قاسمی صاحب اقبال کو اپنا مرشد کہتے ہیں اور مرشد کی ادائیں ان میں بعینہ موجود ہیں۔ وہ احباب کی محفلیں سجاتے ہیں اور پھر نازک آبگینوں کی طرح ان کا خیال کرتے ہیں۔ ان کی دل شکنی انہیں منظور نہیں۔ اور ہر کوئی یہی خیال کرتا ہے کہ قاسمی صاحب اس پر زیادہ مہربان ہیں۔
قاسمی صاحب بلا شبہ ایک Legendary ادیب اور کالم نگار ہیں۔ یوسفی صاحب نے ایک دفعہ قاسمی صاحب کو بتایا تھا کہ جب کبھی کچھ بھی لکھنے کو دل نہ چاہ رہا ہو تو وہ ان کی ( قاسمی صاحب ) تحریریں پڑھ کر لکھنے کے لئے تحریک حاصل کرتے ہیں۔ یاد رہے یہ وہ یوسفی ہیں جن کے متعلق بجا طور پر کہا گیا تھا کہ ہم مزاح کے عہدِ یوسفی میں زندہ ہیں۔ ناصر کاظمی نے انتظار حسین کے بارے میں کہا تھا کہ یہ شخص مردہ لمحوں میں جان ڈا ل دیتا ہے۔ ہم استاد محترم جناب قاسمی صاحب کے بارے میں کہیں گے کہ آپ اپنی شگفتہ نگاری سے مردہ دلوں میں جان ڈال دیتے ہیں۔ آپ کی تحریریں ہزاروں، لاکھوں لوگوں کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ اور دل و دماغ میں خوشگوار احساس پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ اردو ادب کے حوالے سے ایسی یگانہ روزگار شخصیت آج کل ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی۔ احمد فراز کا ایک شعر قاسمی صاحب پر تنقید کرنے والوں کی نذر ہے
اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ


