قصوروار کون۔۔
آج شام کی فراغت میں تنہا بیٹھا تو دن بھر کی خبریں دماغ میں گردش کرنے لگیں جو کہ نا چاہتے ہوئے بھی بار بار ہر چینل پر الفاظ و انداز بدلے سوچ میں نقش ہو چکی تھیں تو کسی سیاسی پارٹیکی جانبداری کیے بغیر ملکی حالات کا جائزہ لینے لگا۔ سب سے پہلے میڈیا چینلز کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے دماغ میں معاشی بحران اور مہنگائی کی گھنٹی بجنے لگی اور امریکی ڈالر کی اڑان اور پاکستانی روپیہ پریشانی میں نظر آئے اور ان کے سامنے چاہتے ہوئے بھی کسی اور پریشانی کی ہمت نہ ہوئی کہ سوچ وچار میں مدمقابل آسکے۔ گویا کہ باقی سب مسائل جیسے پاکستان میں کسی اہمیت و توجہ کے قابل ہی نہ ہوں
ایک عام پاکستانی ہونے کے ناتے ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوگیا کہ آخر یہ گردشی قرضہ کم کیسے ہوگا، آخر حکومت آئی ایم ایف کے پاس کیوں گئی اور اتنی سخت شرائط پر قرض لینے پر آمادہ ہی کیوں ہوئی اور یہ فکر مجھے گویا ایک ذہنی تناؤ دینے میں مصروف ہوگئی پھر خود کو ہمت دی اور ایک محبِ وطن پاکستانی کی طرح اس معاشی جنگ کے لیے تیار ہوگیا۔ جب معاشی میدان میں پہنچا تو اپنے جیسے بہت سے دیس باسیوں کو وہاں پایا جو پہلے سے اس پریشانی میں مبتلا اور ذہنی تناؤ کا شکار تھے، بہرحال جنگ لڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا سو آگے بڑھ کر اگلے مورچوں سے جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے پہلے کے طبلِ جنگ بجے اپنے ہتھیار تیار کرنے کا سوچا۔ یہاں ایک مشہور ہندی فلم ”تارے زمیں پر“ کا تذکرہ کرنا چاہونگا کیونکہ جب GDP Growth، آئی ایم ایف Bale out package، PSX Index اور ان جیسے کئی مشکل الفاظ سمجھ میں آنے سے قاصر تھے اور میرے تاثرات بھی بالکل ویسے ہی تھے جیسے اُس ہندی فلم میں بچے کو الفاظ سمجھ نہیں آتے تھے اور یہی وہ نام نہاد دشمن تھا جس سے جنگ لڑنی تھی۔
جب اس بات کا یقین ہوگیا کہ ان مشکل الفاظ کے مجموعے سے ایک عام پاکستانی کا کچھ لینا دینا نہیں تو ان کی وجوہات کی طرف متوجہ ہوا۔
اب سیاسی لیڈروں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی اور بری معاشی پالیسیوں کا قصوروار ٹھہرانے کا رونا سامنے آگیا۔ بہت سوچ وچار اور تحقیق کے بعد بھی کسی رہنما کا کوئی بیان یا معاشی پالیسی نہ ڈھونڈ سکا جس میں کوئی حل تجویز کیا گیا ہو سو مایوسی کے بادل اب اور گھنے ہوگئے۔
ملک کے موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کو امید جانتے ہوئے خود کو تسلی دی مگر حکومت کے باقی انتظامی امور اور کمزور حکومتی رویے کا سوچ کر کوئی آفاقہ نہ ہوا۔
آخر اس سب کی بنیاد ہے کیا اور ملک کیوں اس نہج پر آکھڑا ہوا؟ کسی کو الزام دینے سے قبل اپنے بزرگوں سے ملک کے سابقہ حکمرانوں کے بارے میں رائے لینے میں عافیت جانی کہ شاید ہمارے دور کے حکمران ہی دیانتدارنہیں ہیں۔ ایسے بزرگ جو پاکستان کے قیام کے وقت حیات تھے اور سمجھ بوجھ رکھتے تھے ان کے مطابق بھی پاکستان کے وجود میں آتے ساتھ ملک میں جو بیماری ہمیں وراثت میں ملی وہ ملک سے چوری اور کرپشن تھی گویا ملک دشمنوں کا ذاتی مفاد پاکستان پر روزِ اوَل سے ابتر رہا۔
پاکستان پر الّٰلہ کی خاص رحمت ہے کہ اب تک شاد و آباد ہے اس وطنِ عزیز کو گِدوں کی طرح نوچنے والے اس کے قیام سے پہلے ہی موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں۔
اب سیاسی لیڈروں سے توجہ جمہور یعنی عام عوام کی جانب ہوئی تو یقین جانیے خود کو بھی اتنا ہی قصوروار پایا کیونکہ ہم نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق اس وطن کو بہت سے سیاسی رہنماؤں کی طرح غیر اور مالِ مفت سمجھا اور جہاں موقع ملا اپنے ذاتی مفاد کو بالاتر سمجھتے ہوئے ناقابلِ طلافی نقصان پہنچایا۔
سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر ان سب مسائل کا حل کیا ہے! کیا اس وطنِ عزیز کو ایسے ہی معاشی طور پر ڈوبتا دیکھ کر شعور رکھتے ہوئے چپ تان لی جائے؟ میرے خیال میں ہم اپنے ملک کے ساتھ اس سے بڑی نا انصافی نہیں کر سکتے۔ ہمیں سب سے پہلے خود کو ٹھیک کرنا ہوگا خود سے یہ عہد کرنا ہوگا کہ اس وطن کا درد ہمارا درد اور اس کی ترقی ہماری ترقی ہے۔ ہمارے آس پاس کے نا خواندہ لوگوں میں بھی یہ احساس اجاگر کرنا ہوگا کہ سیاسی رہنماؤں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر ان پر اندھا یقین کرنے سے گریز کریں۔
اس وقت سب سے بڑا درپیش مسئلہ ہمارا نظریاتی سیاسی اختلاف ہے جس میں ہم اپنے سیاسی پیش واں کی اندھی پیروی میں مبتلا اور مخالف کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر رہتے ہوئے ایک قوم بننے کی ضرورت ہے ورنہ خدا نخواستہ ہماری آنے والی نسلیں سیاسی بناء پر ایک دوسرے کی جانی دشمن بن جائیں گی۔


