ہوا کے رخ کو دیکھ کر تبدیل ہونے والوں کے نصیب میں تبدیلی نہیں آتی

خوددار قومیں کبھی اپنی انا، غیرت اور آزادی کا سودا محدود مدتی پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے حصول کے عوض نہیں کرتیں۔ جب وہ اپنی منزل کا تعین کرتی ہیں تو پھر کٹھن راستے، مشکل گھڑیاں اور وقتی مشکلات دیکھ کر راستہ نہیں بدلتیں۔ ان کی نگاہیں مصنوعی اور غیر فطری آزادی پہ نہیں ہوا…

Read more

کاشف اور شایان کے والدین کا سیاحوں کے نام پیغام

25 جولائی کی شام 6 بجے کا وقت تھا جب میں اور میرے دوست مظفر ساول لنک روڈ بسین کے پاس گاڑی روک کر محوِ گفتگو تھے جب محلے کے ایک لڑکے نے خبر دی کہ چھلت نگر کے پاس کار بائیک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں کاشف اور شایان کی موت واقع ہوئی ہے۔

کاشف کی عمر تقریبا 22 برس تھی جبکہ شایان 14 سال کی عمر میں ہی خالق حقیقی سے جاملا۔ کاشف ایک بہترین کرکٹر تھا اور گلگت بلتستان ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے کئی بار انڈر 18 ٹیم میں اپنا لوہا منوا چکا تھا۔ واقعہ کی شام کو کاشف کے سگے بھائی کی شادی تھی اور اطلاعات کے مطابق وہ شادی کے دعوت نامے پہنچانے کیلئے ہی نگر گیا ہوا تھا۔

Read more

آصف علی زرداری کی گرفتاری اور چند تاریخی حقائق

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں ہمیشہ حکومت وقت کی طرف سے مخالف گروپس کو بلیک میل کرنے اور اپنے ہر جائز ناجائز فیصلوں پہ اپوزیشن کا منہ بند کرانے کے لیے کرپشن کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ مگر مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور حکومت میں کچھ ایسے واقعات دیکھنے کو ملے…

Read more

ٹیکسی ڈرائیور کا رویہ پنڈی میں ایک اور اسلام آباد میں دوسرا کیوں؟

راولپنڈی سے اسلام آباد کے لیے ٹیکسی بک کریں اور ٹیکسی ڈرائیور پہ نظر رکھیں۔ جوں ہی اسلام آباد کی حدود میں آپ داخل ہونے لگیں گے تو آپ نہ صرف ڈرائیور کو سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے دیکھیں گے بلکہ اس کے ڈرائیو کرنے کے انداز میں بھی خاصی تبدیلی محسوس کریں گےچائینیز جب شروع شروع میں پاکستان آئے تھے تو ان کے بڑے چرچے تھے کہ وہ قانون کی کتنی پاسداری کرتے ہیں، کرپشن اور کرپٹ پرکٹسز سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا تھا۔ کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، اب دو ہی راستے تھے یا تو ہم پاکستانی ان سے کچھ سیکھتے یا پھر چائینیز ہم پاکستانیوں سے۔

Read more

گلگت بلتستان کے حلقہ نمبر 1 کی محرومیاں

شہری اور دیہی آبادی پہ محیط گلگت بلتستان کا یہ حلقہ انتہائی اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی پسماندہ بھی ہے۔ اس حلقے کی اہمیت اس لیے ہے کہ گلگت شہر کا ایک قابل ذکر رقبہ اس حلقے میں شامل ہے اور پسماندہ اس لیے کہ یہاں کی شہری اور دیہی آبادی دور جدید میں بھی بنیادی اور لازمی حقوق سے محروم ہے۔  اس حلقے کے نالوں سے پائپ لائنز کے ذریعے دوسرے حلقوں کے لیے پانی تو جاتا ہے مگر حلقے کے عوام صاف پانی کو ترستے ہیں۔یہاں کی آبادی کا شمار قدیم آبادی میں ہوتا ہے مگر زمینوں کے سرکاری ریٹس دوسرے حلقوں کی بنجر زمینوں سے بھی بہت کم ہیں۔ ایجوکیشن کے میدان میں کوئی ایک بھی قابل ذکر سکول اور کالج اس حلقے میں موجود نہیں ہیلتھ سیکٹر اور پبلک ٹرانسپورٹ کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں ہیں اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اپنے ووٹوں کے ذریعے جس نمائندے کو اسمبلی بیجتے ہیں اسی سے ہی ملنے کو ترستے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پانی، بجلی، تعلیم، ٹرانسپوراٹ اور زمینوں کے سرکاری ریٹس کا نہ ہونے کے برابر ہونا زیادہ ناموافق نہیں لگتا۔

Read more

گلگت بلتستان کے باسی کس کے ساتھ کھڑے ہوں؟

ایک وقت تھا جب گلگت میں شیعہ سنی فسادات ہوتے تھے۔ ٹارگٹ کلنگز ہوتی تھیں۔ جانے انجانے میں عام آدمی بھی مخالف مسلک کے بے گناہ لوگوں کے قتل کو جائز سمجھنے لگا تھا۔ رشتہ داروں سے بھی ترک تعلق صرف اس وجہ کیا جاتا تھا کہ ان کا خونی رشتہ مسلکی رشتہ سے مطابقت…

Read more