آصف علی زرداری کی گرفتاری اور چند تاریخی حقائق


پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں ہمیشہ حکومت وقت کی طرف سے مخالف گروپس کو بلیک میل کرنے اور اپنے ہر جائز ناجائز فیصلوں پہ اپوزیشن کا منہ بند کرانے کے لیے کرپشن کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ مگر مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور حکومت میں کچھ ایسے واقعات دیکھنے کو ملے جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ن لیگ کی حکومت میں ہی اس وقت کے وزیر اعظم جناب میاں محمد نواز شریف کو کرپشن اور دیگر الزامات میں وزات عظمی سے نہ صرف بے دخل کیا گیا بلکہ داماد صفدر اور بیٹی مریم سمیت جیل بھیجا گیا۔

مسلم لیگ ن اپنے ہی دور حکومت میں اپوزیشن کا بھی کردار ادا کرتی ہوئی نظر آئی اور میڈیا کے ذریعے احتساب کے سارے پروسز کو کبھی اسٹبلشمنٹ کی چال تو کبھی عدلیہ کی چیرہ دستی کے طور پر متعارف کراتی رہی۔ اس محاذ  پہ کھیلنے کے لیے مسلم لیگ نے دو ٹیمیں تشکیل دیں پہلی ٹیم میاں نواز شریف اور مریم نواز کی تھی جو اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ لے کر جارحانہ موڈ اپناتے رہے جبکہ دوسری ٹیم میاں شہباز شریف کی تھی جس نے نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں نرم گوشہ اختیار کیے رکھا بلکہ ایک موقع پہ علیٰ اعلان اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے عمرانی معاہدہ کرنے کی آفر کی۔

جب میاں صاحب عدالتی پیشیاں بھگت رہے تھے اور الیکشنز بھی سر پہ تھے تو آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی عمران خان کے ہمراہ میاں صاحب کے خلاف عدالتی کارروائیوں کا حصہ بنتے نظر آئے مگر جوں ہی الیکشنز ختم ہوئے تو نیب نے جناب آصف علی زرداری کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے مفاہمت کے بادشاہ نے بھی پیپلز پارٹی کی دو ٹیمیں تشکیل دیں۔ ایک ٹیم کی سربراہی خود سنبھالی جسے مفاہمتی ٹیم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اور دوسری ٹیم کی ذمہ بلاول بھٹو کو دی گئی جس نے جارحانہ رویہ اپنائے رکھا۔ نتیجہ وہی مسلم لیگ کی ٹیموں والا نکلا۔

کہتے ہیں دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے شاید اسی فارمولے کو اپناتے ہوئے ماضی کے حریف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نیب کی مخالفت میں ایک پیچ پر نظر آنے لگے جس کا باقاعدہ اعلان مریم نواز اور بلاول بھٹو نے ماہ رمضان میں ایک افطار پارٹی پہ اکٹھے ہو کر کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آصف زرداری کے خلاف چلنے والے موجودہ تمام نیب ریفرنسز خود میاں صاحب کے بنائے ہوئے ہیں۔

آصف زرداری نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ کبھی عدلیہ مخالف تو کبھی عدلیہ کے حق میں بیانات دیتے نظر آئے اور کبھی اسٹیبلشمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی تو کبھی ہاتھ ملانے کی آفر کرتے رہے اور ایک بار تو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت سے مخاطب ہو کر یہاں تک کہا کہ اگر آپ گرین سگنل دکھا دیں تو ہم آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں مگر دال نہ گلی۔

ایک جانب زرداری صاحب کے تمام تر حربے کام نہیں آرہے تھے اور دوسری جانب میاں شہباز شریف کی ساری محنت بھی رائیگاں ہوتی نظر آرہی آرہی تھی ایسے میں میاں شہباز شریف بھی دل برداشتہ ہوئے اور اپنے بڑے بھائی کے بیانیہ کو اپناتے ہوئے جارحانہ بیانیے کی طرف لوٹ آئے اور یوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی ٹاپ کی لیڈر شپ کرپشن کیسز میں یا تو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہے یا پھر ضمانتوں پہ۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دیر سے ہی سہی مگر مملکت پاکستان میں سٹیٹ کی رٹ قائم ہوتی جارہی ہے اور قانون اپنا راستہ اختیار کرتا ہوا نظر آرہا ہے مگر تاریخی حقائق بہت کڑوے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ سارا چکر ماضی میں رونما ہونے والے واقعات کی ماڈرن شکل کی صورت میں نظر آنے لگے اور کچھ عرصے بعد یہ سارا معاملہ ماضی کی طرح ایک ڈرامہ ہی ثابت ہوجائے۔ اللہ کرے کہ احتساب کا عمل شفافیت کے ساتھ جاری رہے اور حکومتی بنچوں میں بیٹھے کرپٹ وزرا و اراکین کو بھی اپنے لپیٹ میں لیتے ہوئے ثابت کرے کہ مملکت پاکستان میں رول آف لا ٕ کا آغاز ہوا ہے اور عام آدمی اور نیوٹرل شہریوں کو لگے کہ قانون واقعی اندھا ہے جسے نہ تو بڑے بڑوں کے پیسے نظر آتے ہیں نہ ہی بڑے بڑے عہدے۔

Facebook Comments HS