بیدل کا تصور جہاں بینی
زندگی کو موضوعی اور معروضی سطح پر جاننا اور ان کو باہم آمیخت کر کے جدلیاتی حقیقت تک پہنچنا بہت ہمت وری کا کام ہے۔ اس کے لئے فن کی صلابت درکار ہے گو یا فن کار کا درجہ احسا س اورمرتبہ شعور اتنا بڑا ہو کہ وہ ہر جانب پھیلی کائنات کے تنوع اور رنگارنگی کو دیکھے اور دوسروں کو بھی دکھائے یہ عرض ہنر کی انتہائی کٹھن منزل ہے جس میں آفاق اپنے جملہ پہلو کھولتے ہیں۔ فن کار خصوصا شاعر کا آفاقی احساس و شعور ان جہتوں کو کھولتا ہی نہیں اپنے اسلوب سے ان تہوں میں اضافہ بھی کرتا ہے۔
Read more
