محرم کی سبیل اور میری انگوٹھی والی انگلی
غالباً میں پانچویں یا چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور گرمیوں کی چھٹیاں اپنے ننھیال ہی گزارتا تھا۔ یہ ان برسوں کی بات ہے جب محرم الحرام کا مہینہ بھی گرمیوں کی چھٹیوں یعنی مئی جون میں آتا تھا۔ گاؤں میں محرم شروع ہوتے ہی مٹی کی چھوٹی چھوٹی ”ڈولیاں اور بادیاں“ بیچنے والے آ جاتے اور ہم ان سے ایک ایک دو دو روپے کی ڈھیروں ڈولیاں بادیاں خرید لیتے۔ یہ مٹی کی چھوٹے چھوٹے ایک ایک ہاتھ کے گاگر اور پرات نما برتن ہوا کرتے تھے گاگر یا گھڑا نما چھوٹی سی گھڑولی کو ڈولی اور پرات نما چھوٹی سی تھالی کو بادی کہا جاتا تھا۔
Read more
