فتح باغ، ٹنڈو محمد خان: کبھی یہاں کے آم دلی تک جاتے تھے

سندھ میں لاڑ (لوور سندھ) کے علاقے کی ایک الگ اور ممتاز حیثیت رہی ہے۔ ماضی میں دریائے سندھ کے جتنے بھی راستے تھے، وہ یہاں سے ہو کر ہی گزرتے تھے۔ کبھی دریائے سندھ نصر پور سے اپنا راستہ بناتا آگے بڑھتا تھا۔ ماتلی شہر کے مغرب میں چند میل دور ایک نہر، دریائے سندھ کے مرکزی بہاؤ سے الگ ہو کر نکلتی تھی، جسے آج بھی ”رین“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس بہاؤ کے کنارے پر

Read more

بھنبھور کے آثارِ قدیمہ اس کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟

دریائے سندھ سے بہتی ایک نہر، چھوٹی سی پہاڑی، سمندر کا کنارہ اوراس میں لنگر ڈالے رنگین بادبانوں والے جہاز۔ کئی خطوں سے آتے اور مختلف زبانیں بولتے تاجر، ہر وقت لوگوں سے کھچاکھچ بھری رہتی شہر کی بازار۔ یہ ہے ماضی کے اس شہر کا منظرنامہ لیکن، اب اس میں صدیوں سے ویرانی ہی بستی ہے۔ اب یہاں کوئی بندرگاہ نہیں، اب یہاں کوئی دھوبی گھاٹ نہیں، اب یہاں اس خوشبو کا بیوپار نہیں ہوتا، جس کا ذکر شاہ

Read more