آڑٹیفیشل انٹیلی جینس یا مصنوعی ذہانت اور پاکستان
سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں، یہ کہا جا رہا ہے کہ ہم چوتھے صنعتی انقلاب کے آغاز میں ہیں۔ جس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہماری سوچ سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ ہماری زندگیوں کا حصہ بن رہا ہے، اب مشینوں کو کام کے لیے انسانوں کی ضرورت نہیں رہی اور مستقبل قریب میں اسی طرح کی مشینیں ہمارے سامنے آئیں گی۔ اس کی وجہ سمارٹ سپیکرز اور مصنوعی ذہانت کے حامل صوتی معاونت سے چلنے والے آلات ہیں۔ جرمن ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق کرسمس کے موقع پر پیش کیے جانے والے ایمازون ایکو ڈاٹ کے اشتہارات صوتی معاونت سے چلنے والے مصنوعی ذہانت کے حامل آلات کی ایک مثال ہے ”الیکسا“ نامی مصنوعی زہانت رکھنے والا یہ آلہ انسان کے زبانی احکامات پر عمل کرتا ہے۔ایسے آلات بہت جلد گھروں میں نظر آئیں گے۔ جرمنی اور برطانیہ کی حکومتیں مصنوعی زہانت کے حوالے سے پالیسیاں تشکیل دے چکی ہیں۔ یونیورسٹی آف ویروِک کے سائنس دان جگنو کے جین کا استعمال کر کے ایسے کرسمس ٹریز پیدا کرنے پر کام کر رہے ہیں جو خود ہی روشن ہو جایا کریں۔ جگنو اپنے جسم کو ایک کیمیائی تعامل کے ذریعے روشن کرتے ہیں، جسے بائیولیومی نینس کہتے ہیں۔ سائنس دان اس کے ذریعے ایک سینتھیٹک ڈی این اے تیار کرنا چاہتے ہیں، جو ان کرسمس ٹریز میں منتقل کیا جائے گا، یہ درخت اندھیرا ہونے پر خود ہی روشن ہو جایا کریں گے۔
Read more
