اے میرے کپتان سے اے میرے بلاول تک کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل کے ٖصحافی حضرات ٹی وی چینلز پر بیٹھ کے طرح طرح کے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک نام محترم جناب منصور علی خان صاحب کا ہے۔ یہ صاحب بہت پہلے پاکستان کے ایک غدار ٹی وی چینل پر خبریں پرہا کرتے تھے۔ آج کل یہ ایک اور ٹی وی چینل پر اپنے نام سے ایک سیاسی ڈیبیٹ پر مشتمل پروگرام کرتے ہیں۔ یہ صاحب جب بھی ٹی وی پر تشریف فرما ہوتے ہیں تو طرح طرح کے بھاشن سننے کو ملتے ہیں۔ اور جونہی وہ صاحب اپنی گفتگو کا آغاز فرماتے ہیں تو سب سے پہلے جس شخصیت کا نام لیتے ہیں وہ آج کل پاکستان کے سربراہ حکومت ہیں۔

اگر دیکھا جاے تو موصوف کو صرف موقع چاہیے ہوتا ہے تنقید کا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کے یہ واحد حکمران ہیں جو کہ اپنے ملک کے لیے خلوص نیت سے دن رات، صبح شام اپنی بہترین صلاحتیں استعمال میں لا رہے ہیں۔ عمران خان بانی پاکستان محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے بعد پاکستان کے ایسے حکمران ہیں جو کہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی سادگی مہم ہو یا پھر عوام الناس کے متعلق فیصلے ہوں سب کے سب قابل تعریف کام ہیں۔ میرے نزدیک ان کی سب سے اہم کامیابی بیرونی دنیا کے ساتھ پاکستان کے پروان چڑھتے تعلقات ہیں۔ وہ چاہے عرب ممالک ہوں یا پھر پاکستان کے دیرینہ دوست چاینہ ہو۔

اسی طرح امریکہ افغان طالبان مذاکرات میں پاکستان کا سٹیک ہولڈر ہونا عمران خان کی پاکستان کے امیج کو بہتر کرنے اور دنیا کو پاکستان کی اہمیت جتانے میں کاوشوں کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ حال ہی میں پاک بھارت کشیدگی میں عمران خان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہی ہے۔ جس میں انہوں نے نہایت عقلمندی اور ذہانت سے کام لیتے ہوے نہ صرف حالات کو سدھارا بلکہ دنیا کو ایک بہت بڑے نقصان سے بچا لیا۔ اس سے وہ دور حاضر کے بہترین حکمرانوں میں شامل ہو چکے ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی میں جہاں ہندوستانی حکمران اور میڈیا جنگ جنگ اور سرجیکل سٹرایک کر رہے تھے تب پاکستان کے ذمہ دار حکمران امن کا پرچار کر رہے تھے اور بہت تحمل سے حالات کو کنٹرول کر رہے تھے۔ تو اسی اثنا میں پاکستان کی ایک پرانی پارٹی کے حادثاتی رہنما میدان میں تشریف لایے اور پاکستان کی آرمی اور ان کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنا شروع کر دیا۔ اس امر کے پیچھے اصل ایشو ان کو نیب سے بلاوا آنا تھا جس میں ان کے والد محترم اور پھوپھو بھی شامل ہیں۔ یہ بلاوا ان کی لوٹ مار پر آیا ہے جو ان کے پاپا اور اس کے حواریوں نے ملک اور قوم کا پیسہ لوٹ کے کی۔ آج جبکہ ایک ایماندار حکومت ہے ملک میں تو ان کے پیٹ میں مڑور اٹھنا شروع ہو گیا ہے۔ اور اب ان کی چیخیں نکلنا شروع ہو چکی ہیں جس کا ذکر عمران خان نے اپنی حکومت سنبھالتے ہی بتا دیا تھا۔

اسی طرح کی زبان ایک دوسری جماعت بھی استعمال کرچکی ہے جن کی پوری قیادت اس وقت جیل میں سزا کاٹ رہی ہے اور بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ این آر او کی بھی کوششیں جاری ہیں۔ اور اس کوشش میں واحد رکاوٹ عمران خان ہے جو کہ اپنے عوام سے کیے وعدے کہ میں ان کو رلاوں گا ان کو جیلوں میں ڈالوں گا اور لوٹا پیسہ واپس لاوں گا کی تکمیل میں پیش پیش ہیں۔ اور عوام عمران کے اس عمل سے نہ صرف خوش ہیں بلکہ ان کو پوری طرح سے سپورٹ بھی کر رہے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف ان لوگوں کے خلاف ایکشن لے رہی ہے بلکہ لوٹی دولت کو واپس لانے کی بھی پوری کوشش کر رہی ہے۔ اور اسی لیے تو میرے بلاول کا اور ان کے میزبانوں کا رونا دھونا تو بنتا ہے نا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عامر فاروق ملک (چین) کی دیگر تحریریں
عامر فاروق ملک (چین) کی دیگر تحریریں