تھوڑا سا ٹائم مل جائے گا صاحب !

فراٹے بھرتی تیز رفتار زندگی ،  نفسا نفسی اور مارا ماری کا  عالم ،  روز و شب کی تھکا دینے والی روٹین ۔ایسا لگتا یے ۔چین سکون آرام سب کسی پچھلے اسٹیشن پر رہ گیا ہو۔ ایک پل کی فرصت نصیب نہیں۔ صبح ہوتی یے شام ہوتی یے یونہی زندگی تمام ہوتی ہے جس سے…

Read more

خدارا ان کلیوں کو پامال ہونے سے بچا لیں

میرا ہم جماعت برسوں بعد میرے سامنے بیٹھا تھا۔ کالج کے بعد عملی زندگی کے تھپیڑوں نے سنبھلنے کا موقع ہی کہاں دیا۔ میل ملاقاتیں رابطے سب موقوف ہوئے۔ پتا چلا وہ حصول رزق کی خاطر دیار غیر میں جا بسا تھا۔ کبھی کبھار پاکستان آتا تو کسی بہانے ملاقات ہو جاتی۔ آج بھی یہ…

Read more

طالبات سے بھری کالج بس پہ حملہ اور ہمارے بچوں کا مستقبل

اصل واقعہ سوموار 7 اکتوبر کا واقعہ یے۔ کھاریاں کے ایک نجی کالج کی بس حسب معمول چھٹی کے بعد طالبات کو لئے ڈنگہ کی جانب رواں دواں تھی۔ جس میں چند طلبہ بھی سوار تھے۔ دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب جونہی یہ بس اتووالہ نہر کے پل پر پہنچی تو وہاں پہلے سے گھات…

Read more

زندگی دھوپ چھاوں کا کھیل

کل کی بات ہے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد کا رخ کیا۔ قیامت خیز گرمی مزاج پوچھ رہی تھی۔ سورج جیسے سوا نیزے پہ۔ حبس کے مارے سانس رکتا ہوا۔ حدت یوں جیسے قریب کوئی آتش فشاں پھٹ پڑا ہو۔ نصف ستمبر بیت چلا مجال یے جو موسم مہربان ہوا ہو۔ کچھ غضب…

Read more

خوبصورت وادیوں سے سیاحوں کا پھیلایا کچرا صاف کرنے والا ایک شخص

سطح سمندر سے 13400 میٹر بلند رتی گلی جھیل پہ سیاحوں کے پھیلائے ہوئے کچرے کے انبار اپنے ہاتھوں سے چن کر اس خوب صورت جھیل کو اس کا قدرتی حسن لوٹانے کا یہ عمل ایک منفرد اور اچھوتا قدم یے۔ جس پر میں اہل گجرات کی جانب سے تجھے سلام پیش کرتا ہوں۔
اور ہاں یہ کام ہم ہوش والوں کے بس کا کام نہیں۔ یہ تو تجھ سا کوئی دیوانہ ہی سر انجام دے سکتا ہے۔

Read more

بچوں کو موبائل نہیں اپنا پیار دیجیئے!

سکول اپنے دفتر میں مصروف کار تھا کہ ایک خاتون تشریف لائیں۔ سلام دعا کے بعد یوں گویا ہوئیں ”سر جی میرے تین بیٹے آپ کے ہاں زیر تعلیم ہیں۔ آج میں آپ سے ان کی تعلیمی کارکردگی کے متعلق کوئی بات کرنے نہیں آئی بلکہ ایک شکایت ہے۔“

میرا ماتھا ٹھنکا۔ آئی کوئی نئی شکایت سکول سے متعلق۔

Read more