کفالت یتیم، جنت سے رفاقت رسول تک

میری یاد داشت میں جو زندگی کی شبیہ ہے وہ میرے بابا کی ہے۔ میں کیسے ان کی انگلی پکڑے گلی سے گزری تھی اور انہوں نے مجھے آئس کریم دلائی تھی۔ شاید ہر فرد کی یاد داشت میں جو زندگی کی ابتدا کی شکل ہے، وہ اپنے والدین کے ہم راہ ہی ہے۔ لیکن کچھ ایسی بھی بیٹیاں ہیں جنہیں بابا کی جھولی میں کھیلنے اور ان کی انگلی تھامے زندگی کا سفر طے کا موقع نہیں ملتا اور نا ہی ان کی یاد داشت میں ایسی کوئی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے۔ ان کی یادیں معاشرے کا جبر سہتے، والدین کی بانہوں میں کھیلتے ہم جولیوں کو ترستی نگاہوں سے دیکھنے کی ہوتی ہیں۔ ان بچوں کو دنیا یتیم بچوں کے نام سے جانتی اور پکارتی ہے۔

Read more