دینا زاد کی کتابِ الوداع؟

بیان تو فقط انتظار حسین کے آنسووں کا تھا اور دکھ کئی تھے جو میری آنکھوں کو بھی نم کر گئے۔ شہید اللٰہ قیصر کی ناگہانی اور بے وقت موت یا اُن کی بیگم کا نرم لہجے میں گونجتا ہوا شکووں بھرا بیان، پھر مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کی دلخراش داستان، اور وہ جو ان تمام باتوں کا راوی تھا یعنی انت مورتی جی وہ بھی صرف یہ دلگداز داستان قلمبند کروانے تک کی مہلت لے کر آئے

Read more

کلدیپ نیئر سے ڈیڑھ ملاقات

2008ء میں گورنمنٹ کالج میں ایک کانفرنس تھی۔ ہندونستان سے گوپی چند نارنگ، کلدیپ نیئر، مشیر الحسن اور رخشندہ جلیل نے شرکت کی۔ گوپی چند نارنگ کے ادبی کام اور لذتِ تقریر کا پہلے سے قدردان تھا اور برسوں پہلے اُنہوں نے میرے ایک آدھ خط کا جواب بھی دیا تھا ۔ مشیر الحسن اُس وقت جامعہ ملیہ دہلی کے وائس چانسلر تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جامعہ ملیہ دہلی کا تصور میں ڈاکٹر ذاکر حسین کے بغیر

Read more