عورت کو ذہنی مریض بنانے والے مردوں کا کیا کریں؟

باتوں باتوں میں یاد آیا ”زیرو پوائنٹ پر کھڑی عورت“ جو ڈاکٹر نوال اسعدوی کی تحریر ہے۔ یہ حقیقت پر مبنی ایک کہانی ہے۔ جس میں عورت کو اپنے وجود کو سنبھالنے یا یوں کہہ لیں کے اپنے آپ کو ایک خوددار عورت ثابت کرنے کے لیے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بتایا گیا ہے۔

اس کہانی میں جو اہم کردار ہے۔ وہ فردوس نامی عورت کا ہے۔ فردوس کی کہانی اس کی اپنی زبانی بیان کی گئی ہے۔ فردوس کا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہے۔ اس گھرانے میں عورت کو خاندانی اعتبار سے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے باپ کے ظلم و ستم اس پر کافی نہیں تھے کہ زندگی اسے مزید تلخیوں کا سامنا کرواتی ہے۔ اس کے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے چچا جو کہنے کو بہت مذہبی انسان ہیں، فردوس کا نہایت خیال رکھتے ہیں۔ بھتیجی کو اپنے ساتھ شہر، اپنے گھر لے گئے جہاں وہ اکیلے رہتے تھے۔ ایک روز ان کا ایمان اس طرح بہکتا ہے، کہ وہ معصوم بچی اس معتبر شخص کی ہوس کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بچیاں اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔

Read more