عورت کو ذہنی مریض بنانے والے مردوں کا کیا کریں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں فیمینسٹ تو نہیں ہوں۔ لیکن اس تحریر کو پڑھنے کے بعد اگر آپ مجھے فیمینسٹ کہیں گے تو مجھے برا بھی نہیں لگے گا۔

عورت کا رتبہ اتنا بلند ہے کہ وہ بیٹی ہے تو رحمت ہے، بیوی ہے تو شوہر کے نصف ایمان کی وارث اور ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے۔

لیکن قبل اسلام عورت کو ایک بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھا جاتا تھا۔ عورتوں سے نفرت کی جاتی تھی اور معصوم بچیوں کو جن کا کوئی قصور نہیں ہوتا تھا، زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔

پر افسوس آج کے عالم فاضل، شعور پذیر لوگ اسی زمانہ جاہلیت سے مماثلت رکھتے ہیں۔ کیونکہ آج بھی عورت کو صرف گھر کے کام کاج یا مار پیٹ یا پھر اپنے دل بھلانے کا کھلونا سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مردوں کو اتنی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ کہ وہ خود ہی عورتوں کو خود سے کم تر سمجھتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا بچا اٹھ کر گھر کی عورتوں کو یا بڑی بہنوں کو تہذیب سکھانے لگ جاتا ہے۔ حقیقتاً جس کا اپنا فون یا تو برہنہ لڑکیوں کی تصاویر یا پھر ویڈیوز سے بھرا ہوتا ہے۔ اور بڑھے خوشی خوشی ایک دوسرے کو بھیجنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور ایسے باشعور اٹھ کر گھر میں ہمیں تہذیب سکھاتے ہیں۔

میں نے دیکھا ہے، کہ ہمارے معاشرے کی کند ذہنیت کی وجہ سے اگر کسی لڑکی سے کہا جائے کہ تم میرا بیٹا ہو یا انگریزی زبان کے لفظ ”Bro“ سے بلایا جائے تو وہ بہت خوش ہوتی ہے کہ اسے ایک لڑکا سمجھا جا رہا ہے۔ ایسا کیوں کیا بیٹی ہو کر کوئی گناہ کیا ہے۔ یا پھر بیٹیاں اہمیت کی حامل نہیں ہیں۔

میں اپنی ہی بات کروں کہ جب میرے ابو جان جنہوں نے مجھے میری خواہش سے پہلے ہر چیز مہیا کی ان سے مجھے کوئی شکایت تو نہیں ہے لیکن جب وہ مجھے عطیہ کی جگہ عطا اللہ کہہ کر بلاتے ہیں تو میں خوشی سے جھوم جاتی ہوں کہ انہوں نے مجھے بیٹا کہا ہے۔ شاید واقعی بیٹی ہونا گناہ ہے۔ اسی لیے ہماری اپنی ذہنیت ایسی ہوگئی ہے یا کر دی گئی ہے۔

جب کہ لڑکیوں کو اپنی زندگی میں ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی باتوں کا اور ایسے لوگوں کا سامنا ہوتا ہے جو اپنی گندی نظروں سے ہی اپنا تعارف کروا دیتے ہیں۔ اور جن کو دیکھ کر دل تو کرتا ہے کہ ان کا منہ نوچ لیا جائے۔ لیکن صبر کر کے وہاں سے گزر جانا پڑتا ہے۔

اگر حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو سالانہ کتنی ہی بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسے حالات میں ان بچیوں کی مائیں تک انصاف لینے کے بجائے پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ صرف ایک جملے کی خاطر کہ لوگ کیا کہیں گے۔ کیونکہ یہ عزت کا سوال ہوتا ہے اور لڑکی کی عزت ایک بار چلی جائے تو ہمارے معاشرے کے مطابق اس کی غلطی نہ ہونے کے باوجود دوبارہ نہیں آتی۔

باتوں باتوں میں یاد آیا ”زیرو پوائنٹ پر کھڑی عورت“ جو ڈاکٹر نوال اسعدوی کی تحریر ہے۔ یہ حقیقت پر مبنی ایک کہانی ہے۔ جس میں عورت کو اپنے وجود کو سنبھالنے یا یوں کہہ لیں کے اپنے آپ کو ایک خوددار عورت ثابت کرنے کے لیے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بتایا گیا ہے۔

اس کہانی میں جو اہم کردار ہے۔ وہ فردوس نامی عورت کا ہے۔ فردوس کی کہانی اس کی اپنی زبانی بیان کی گئی ہے۔ فردوس کا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہے۔ اس گھرانے میں عورت کو خاندانی اعتبار سے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے باپ کے ظلم و ستم اس پر کافی نہیں تھے کہ زندگی اسے مزید تلخیوں کا سامنا کرواتی ہے۔ اس کے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے چچا جو کہنے کو بہت مذہبی انسان ہیں، فردوس کا نہایت خیال رکھتے ہیں۔ بھتیجی کو اپنے ساتھ شہر، اپنے گھر لے گئے جہاں وہ اکیلے رہتے تھے۔ ایک روز ان کا ایمان اس طرح بہکتا ہے، کہ وہ معصوم بچی اس معتبر شخص کی ہوس کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بچیاں اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔

اس کے کچھ عرصے بعد چچا نے شادی کر لیتے ہیں۔ چچی محترمہ کو فردوس کا وہاں رہنا بالکل اچھا نہیں لگتا۔ تب فردوس کو بورڈنگ اسکول میں داخلہ دلوا دیا جاتا ہے۔ فردوس کو پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ وہ فارغ وقت میں بھی کتابیں ہی پڑھا کرتی تھی۔ جب اس کی سیکنڈری کی پڑھائی مکمل ہوئی، تو اس کے چچا اسے دوبارہ اپنے گھر لے آئے۔ پھر چچی کا وہی مسئلہ کے فردوس کا وہاں رہنا برداشت نہیں۔ وہ فردوس کی شادی کرانے کا مشورہ دیتی ہیں۔ فردوس کی شادی 60 سالہ بوڑھے شخص سے کروا دی جاتی ہے، اس کی مرضی کے بغیر۔ شوہر بھی آئے دن فردوس کو مارتا رہتا۔ فردوس اپنی جان بچانے کی خاطر وہاں سے بھاگ نکلتی ہے اور دربدر گھومتی رہتی ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس دلدل سے نکل کر کسی اور دلدل کی جانب قدم بڑھا رہی ہے۔

فردوس بہت سے درندوں کی ہوس کا شکار ہوتی ہے۔ ایک مرد جب اس کے سامنے پیسے بڑھاتا ہے تو وہ حیران ہو جاتی ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بھی کوئی قیمت ہے۔

اس کے اطراف میں محدود اور نیچ سوچ والے مرد اسے جسم فروشی کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ان کی سوچ یہیں تک محدود ہے، کہ وہ ایک نہایت کم زور مخلوق ہے، جس کی وجہ سے وہ ساری زندگی انہی مردوں کی خاطر قربانی کا بکرا بنتی رہتی ہے۔

کہانی کے اختتام پر جب وہ تنگ آتے ہوئے مضبوطی سے کام لے کر ایک مرد کا قتل کر دیتی ہے، تب جا کے اسے احساس ہوتا کہ وہ اتنی کم زور تو نہیں تھی۔ جتنا اسے بچپن سے بتایا گیا تھا۔ وہ اپنے آپ پر رشک کرنے لگتی ہے۔ اسے اپنے آپ پر فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔ کیونکہ وہ جو اپنے اوپر ہوتے ظلم کو کبھی روک نہیں سکی تھی۔ اس نے وہ کر دکھایا وہ لڑی تو اپنے لیے لڑی۔ وہ خود کو پر مسرت محسوس کرتی ہے۔ اسے سکون مل جاتا ہے، وہ سکون جس سے وہ پوری زندگی ناآشنا رہی۔ قتل کے الزام میں اندھے قانون نے اسے پھانسی کی سزا سناتا ہے۔ اسے اپنی سزا کم کرانے میں کوئی دل چسپی نہیں رہتی۔ گویا اس کی زندگی کی تمام حسرتیں پوری ہو چکی ہیں۔ وہ اب ابدی نیند سونے کو پوری طرح تیار ہے۔

ایسی کتنی ہی فردوس اپنا آپ کھو بیٹھتی ہیں۔ اور ایسے کتنے ہی سانپ انھیں ڈستے ہی چلے جاتے ہیں۔ وہ انصاف کے لیے در در بھٹکتی رہتی ہیں۔ پر افسوس ہم انصاف سے نا آشنا لوگ کبھی بھی ان کا درد نہیں سمجھ سکتے۔

میں جانتی ہوں سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے پر ان مردوں کا کیا کیا جائے؟ جن کو دیکھ کر عجیب سا خون طاری ہو جاتا ہے اور بدن میں کپکپی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان مردوں کا کیا کیا جائے؟ جن کو دیکھ کر ان کی وحشت کا احساس ہوتا ہے۔ ان مردوں کا کیا کیا جائے؟ جن کو دیکھ کر عورت اپنے دوپٹے سے اپنا آپ ڈھانپنے پر بار بار مجبور ہو جاتی ہے۔ جی سب مرد ایک جیسے تو نہیں ہوتے پر ان مردوں کا کیا کیا جائے جن کی وجہ سے عورت ایک ذہنی مریض بن جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عطیہ قیوم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply