جنگ کے سائے میں

چیخوں اور دھماکوں کی آواز سے میرا سر پھٹا جا رہا ہے۔ اتنی بھیانک آوازیں ہیں کہ میرا دل اچھل کر باہر آ جائے، کبھی محسوس ہوتا ہے کہ دل نکل گیا ہے، بند ہو گیا ہے سب مگر قدرت مجھے آزاد نہیں کرنا چاہتی اور ایک باریک کانوں کے پردوں میں چھید کر دینے والی آواز ابھرتی ہے، کھڑکیوں میں سرخ روشنی چمکتی ہے تو خنجر پر اپنی گرفت مضبوط کر لیتی ہوں۔ کالے دھویں کے بادل گروہ در

Read more