پچاس منٹ کی یتیمی

میرے والد محترم اپنی عمر کی قریباً 80 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ ان 80 سالوں میں انہوں نے زمانے کے ہر طرح کے سرد و گرم کو برداشت کیا لیکن اپنے عزم و حوصلہ میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ انتہائی بچپن میں اپنی پیاری دادی جان، دو چچاوں، دو چچیوں، ان کے بچوں اور اپنی سب سے بڑی بہن کی شہادت کا صدمہ برداشت کیا جب تقسیم ہند کے موقع پر جالندھر شہر کے ایک مسلم گھرانے کے چودہ افراد کو ان کے گھر میں ارد گرد کے علاقوں سے جمع ہونے والے مسلم گھرانوں سمیت زندہ جلا دیا گیا تھا۔

کم عمری میں اپنے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں سمیت ہجرت کا کربناک سفر طے کیا، لڑکپن کی عمر میں اپنی دو جوان بہنوں کے جنازے اٹھائے، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی یتیمی کا پہاڑ ان کے کاندھوں پر آن پڑا اور انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ملازمت کر کے اپنی والدہ اور چار چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داریاں اٹھائیں جنہیں وہ آج تک خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ شومئی قسمت کہ میری تینوں پھپھیاں شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد بیوہ ہو گئیں اور ان کی کوئی اولاد بھی نہ تھی اسی لیے وہ بیوگی کے بعد ہمارے ساتھ ہی رہیں۔

Read more