پچاس منٹ کی یتیمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے والد محترم اپنی عمر کی قریباً 80 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ ان 80 سالوں میں انہوں نے زمانے کے ہر طرح کے سرد و گرم کو برداشت کیا لیکن اپنے عزم و حوصلہ میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ انتہائی بچپن میں اپنی پیاری دادی جان، دو چچاوں، دو چچیوں، ان کے بچوں اور اپنی سب سے بڑی بہن کی شہادت کا صدمہ برداشت کیا جب تقسیم ہند کے موقع پر جالندھر شہر کے ایک مسلم گھرانے کے چودہ افراد کو ان کے گھر میں ارد گرد کے علاقوں سے جمع ہونے والے مسلم گھرانوں سمیت زندہ جلا دیا گیا تھا۔

کم عمری میں اپنے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں سمیت ہجرت کا کربناک سفر طے کیا، لڑکپن کی عمر میں اپنی دو جوان بہنوں کے جنازے اٹھائے، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی یتیمی کا پہاڑ ان کے کاندھوں پر آن پڑا اور انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ملازمت کر کے اپنی والدہ اور چار چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داریاں اٹھائیں جنہیں وہ آج تک خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ شومئی قسمت کہ میری تینوں پھپھیاں شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد بیوہ ہو گئیں اور ان کی کوئی اولاد بھی نہ تھی اسی لیے وہ بیوگی کے بعد ہمارے ساتھ ہی رہیں۔

میرے والد نے اپنی ادھیڑ عمری میں اپنے دو جوان بیٹوں کے جنازوں کو کاندھا دیا، یہ ایسا وقت تھا جب ہم سب بہن بھائی اپنے جوان بھائیوں کی ناگہانی موت کے صدمے سے نیم پاگل ہوچکے تھے ایسے میں میرے والدین عزم و ہمت کے پہاڑ بن کر کھڑے رہے لیکن پائے استقلال میں لغزش تک نہ آنے دی۔

بیس برس قبل میرے والد کو دیار غیر میں دل کا دورہ پڑا اور وہ اس حملے سے تنہا نبرد آزما رہے، ڈاکٹرز نے ایک ہفتہ آرام کا مشورہ دیا لیکن ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اگلے روز ہی اپنی ملازمت پر پہنچ گئے، میرے والد نے زندگی میں شاید ہی کبھی چھٹی کی ہو، حتیٰ کہ انہوں نے ہم بہن بھائیوں کو بھی کبھی اسکول کالج سے چھٹی نہ کرنے دی، ابھی بھی اگر ہم میں سے کوئی بہن بھائی چھٹی کر لے تو وہ سارا دن ہمیں ڈانٹتے رہتے ہیں کہ چھٹی کیوں کی، لاکھ بتائیں کہ سر میں درد تھا، بخار تھا ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ اتنی معمولی تکلیف پر چھٹی کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔

مجھے ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ تمہاری چھٹی سے بچوں کی پڑھائی کا حرج ہوتا ہے۔ دس سال قبل والد صاحب کا ایک گردہ ناکارہ ہو گیا اور ڈاکٹرز کے مطابق دوسرا گردہ بھی کافی خراب تھا، میرے والد نے اپنی بیماریوں کو کبھی خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ہم نے اپنے ابو جی کو خود اپنے ہاتھوں سے دوائی کھلائی ہو کیونکہ کسی قسم کی محتاجی ہمیشہ ان کے لیے ناقابل قبول رہی ہے۔ ایک سال پہلے ابو جی کی طبیعت خراب ہوئی تو ڈاکٹرز نے بتایا کہ والد صاحب کا دل صرف 25 فی صد کام کر رہا ہے۔

انہیں سختی سے مشقت والا کوئی بھی کام کرنے سے منع کیا لیکن جس انسان نے ساری زندگی محنت کی ہو ہمیشہ رزق حلال کمایا ہو، اپنے اہل خانہ کو رزق حلال کھلایا ہو، ، ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنے کا عادی ہو وہ آرام سے کہاں بیٹھ سکتا ہے، ہمارے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ گھر میں چھوٹے موٹے کام کرتے رہتے ہیں، رعب اور غصے کا یہ عالم کہ ہم بہن بھائیوں کی مجال نہیں کہ ان کو دوسری بار کوئی بات کہہ دیں، مئی 2019 میں والد کے اکلوتے اور لاڈلے بھائی کی اچانک وفات نے میرے والد کو اندر سے بہت کمزور کر دیا، اب ان کی تکالیف میں سانس کے مسئلہ کا اضافہ ہو گیا۔

ڈاکٹرز نے بتایا کہ دل اور گردوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پھیپھڑے متاثر ہو رہے ہیں۔ پچھلے چھ ماہ سے ان کا سانس خراب رہنے لگا، 30 مئی 2020 کو بہن کی موت نے میرے والد کو اندر سے مزید کمزور کر دیا لیکن انہوں نے کبھی اپنے دکھ کا اظہار کسی کے سامنے نہ کیا۔ 30 جون کی شام میرے والد محترم، والدہ کے منع کرنے کے باوجود لان میں پودوں کی کانٹ چھانٹ کرنے میں مصروف ہو گئے، ہم نے والد صاحب کو منع کرنے کی کوشش کی لیکن ڈانٹ کھا کر خاموش ہو گئے۔

کچھ ہی دیر میں ابو جی کا سانس خراب ہونے لگا، وہ جلدی سے اپنے کمرے میں آئے، انہوں نے خود ہی نبولائز کیا، جب سانس بہتر نہ ہوا تو خود چل کر گیراج تک آئے، میری والدہ نے جلدی سے کھلی جگہ پر چارپائی بچھا کر دی اور وہ اندر کی طرف نبولائزر لینے بھاگیں، میں آن لائن کلاسز لینے میں مصروف تھی، ان کے بھاگنے کی آواز سن کر میں نے کمرے سے نکل کر امی سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے، امی نے کہا اپنے ابو کو دیکھو ان کا سانس بہت خراب ہورہا ہے۔

میرے والد سر جھکائے بیٹھے تھے، میں نے والد سے پوچھا کہ ابو جی کیا ہوا ہے، کوئی جواب نہ آیا، میں نے پھر پوچھا کہ ابو جی طبیعت ٹھیک ہے لیکن والد صاحب خاموش تھے۔ میں نے کندھے سے ہلا کر پوچھا کہ کیا ہوا، میرے والد میری بانہوں میں جھول گئے، میں جلدی سے سیچوریشن میٹر لے کر آئی میرے والد کی سیچوریشن 48 تھی۔ میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے، میں نے امی کو آوازیں دیں اتنے میں میرے والد میرے بازووں پر گر گئے۔ مجھے لگا کہ ایک تن آور، گھنا برگد ٹوٹ کر میرے بازووں پر گر گیا ہے۔ یہ میری زندگی کا پہلا منظر تھا جب میں نے اپنے بلند حوصلہ باپ کو یوں گرتے دیکھا تھا۔

ابو کو سانس نہیں آ رہا تھا، ان کی آنکھیں پتھرا گئیں، زبان سوج کر باہر کو نکل آئی، ان میں زندگی کے آثار باقی نہ رہے تھے۔ ہم سب اونچی آواز میں چیخ رہے تھے، ابو کو آوازیں دے رہے تھے۔ میں نے اپنی بہن سے آہستگی سے کہا ”ہم یتیم ہو گئے“ یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے یتیمی کے دکھ کو شدت سے محسوس کیا۔ مجھے لگا کہ کسی نے میرے سر سے چادر چھین لی ہے، مجھے لگا ہمارے آنگن میں صدیوں سے کھڑا بلند و بالا برگد جڑ سے اکھڑ کر گر گیا ہے، مجھے لگا میں کسی لق و دق صحرا میں ننگے سر، ننگے پیر کھڑی ہوں، میرے ارد گرد جھکڑ چل رہے ہیں۔

اچانک میری والدہ کو جانے کیا سوجھی کہ وہ میرے ابو کو منہ سے سانس دینے لگیں، جب ان کا سانس پھولنے لگا تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں ان کو منہ سے سانس دوں، میں ان کی تسلی کے لیے اپنے ابو جی کو منہ سے سانس دینے لگی، میری والدہ نے ابو جی کے سینے پر دباو ڈالا، انہیں پمپ کیا اور اچانک میرے والد نے ہچکی سی لی، میں چلائی کہ ابو جی زندہ ہیں ان کا سانس چل رہا ہے، ایمبولینس کو کال کی لیکن سب نمبر مصروف۔

میرے بھائی اپنے اپنے دفتر گئے ہوئے تھے، گھر پر نہ تو بھائی تھے نہ کوئی گاڑی، اچانک میں گھر سے باہر نکلی، ہمارا گھر مرکزی سڑک پر ہے، میں نے سڑک پر گزرنے والی گاڑیوں کو روکا، دو تین گاڑیاں رک گئیں، موٹر بائیکس رک گئیں، میں نے کہا کسی طرح میرے والد کو قریبی ہسپتال لے جائیں۔ اتنے میں میرا بھائی بھی پہنچ گیا اور ہم والد صاحب کو ہسپتال لے گئے، ہسپتال ہمارے گھر سے صرف دو منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔

ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر ابو جی کو طبی امداد پہنچانے کا آغاز کر دیا۔ میرا دوسرا بھائی بھی گاڑی اڑاتا ہوا پہنچ گیا تھا۔ ڈاکٹر آہستہ آہستہ میرے بھائیوں کو بتا رہا تھا کہ حالت بہت خراب ہے، ان کا بچنا بہت مشکل ہے۔ حتیٰ کہ اس نے میرے ابو جی کے پاؤں کے نیچے قلم کی نب چبھو کر بھی دیکھا لیکن زندگی کے کوئی آثار نہ تھے، یہ وہی ہسپتال اور وہی بستر تھا جہاں میری پھپھو جان نے تیس دن قبل اپنی زندگی کی آخری سانسیں لی تھیں۔

اندیشے تھے، یتیمی کے وسوسے تھے، بے بسی تھی، ڈاکٹر اور اسٹاف سب مل کر سر توڑ کوشش میں مصروف تھے، ڈاکٹر 30 منٹ مسلسل میرے ابو جی کے سینے کو پمپ کرتا رہا، 30 منٹ کی کوششوں کے بعد میرے ابو جی کا سانس بحال ہو گیا، ان میں زندگی کے آثار پیدا ہو گئے۔

دو گھنٹے کے بعد ابو جی کی حالت سنبھلنے لگی۔ اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا کہ وہ مردے میں کیسے زندگی لوٹاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بچانا چاہے تو سو وسیلے پیدا کردیتا ہے اور اپنے پاس واپس لے جانا چاہے تو کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو پاتی۔ اللہ کے بعد میری والدہ، ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف کی محنت تھی جو رنگ لے آئی۔

بعد میں ڈاکٹرز نے بتایا کہ آپ کی والدہ نے جو ابتدائی طبی امداد بہم پہنچائی وہ بہت کارگر ثابت ہوئی۔ ابو جی اب بہت بہتر ہیں، ماشا اللہ آج وہ ہسپتال سے گھر بھی آ گئے ہیں لیکن ان کا سانس ختم ہونے سے لے کر دوبارہ سانس بحال ہونے تک کا 50 منٹ کا وقت میرے لیے یتیمی کا تلخ تجربہ تھا۔ میں نے پہلی بار یتیمی کا تلخ ذائقہ خود چکھا تھا۔ میرے ذہن میں نبی اکرم ﷺ کی یتیمی سے لے کر، یتیمی کے بارے میں قرآن پاک کی آیات اور احادیث گردش کر رہی تھیں، جنہیں بارہا پڑھا تھا لیکن ان کی حقیقت اب مجھ پر آشکارا ہوئی تھی۔ مجھے اب اندازہ ہوا کہ یتیمی کیا ہے اور اسلام نے بار بار یتیم کے حقوق کی ادائیگی کا حکم کیوں دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ میرے والدین کو سلامت رکھے، اللہ تعالیٰ سب کے والدین کو سلامت رکھے اور جن کے والدین حیات نہیں ہیں انہیں اپنی رحمتوں سے نوازے۔

Latest posts by ڈاکٹر الماس خانم (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر الماس خانم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *