یہی ہے زندگی، کچھ خواب، چند امیدیں ( ”آدھے ادھورے خواب“ پر تبصرہ)۔

پچھلے دنوں، ایک گفتگو کے دوران میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ جس طرح پوری دنیا کے ادب میں ایک عام انسان کو ہیرو بنایا جا تا رہا ہے، ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ کیوں اردو ناول میں ہر ہیرو بزنس مین، زمین دار، ڈاکٹر، انجینیئر یا کوئی خاص اور نمایاں خصوصیات کا حامل کردار ہوتا ہے، کوئی استاد اس کا مرکزی اور سب سے طاقت ور کردار کیوں نہیں ہو سکتا؟ سوال اپنی جگہ بہت اہم تھا اور جواب اس لیے وہاں نہیں دیا جا سکا کیوں کہ اس وقت تک ”آدھے ادھورے خواب“ ہاتھ نہیں آیا تھا۔ اب جو ہاتھ آیا ہے تو جواب بھی ہاتھ آ گیا ہے اور یہی اس پر لکھنے کا سبب بھی ہے کہ اگر میری طرح کوئی اور بھی اس تاخیر کا شکار ہے تو اب بھی وقت ہے۔

Read more