شاید ہم اس سے بہتر ہیں جتنا ہم خود کو سمجھتے ہیں
بہتری ندارد، ترقی مفقود، بے چینی اور اضطراب کا شور ؛ یہ پاکستانی منظر نامے کا عام تاثر ہے جسے اخبار ان رپورٹوں سے سجاتے ہیں، جنہیں مسائل کے متلاشی صحافی معاشرے سے ڈھونڈ لاتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے غلطیوں کی داستانیں قومی تاریخ کا حصہ بنتے بنتے ہمارے اجتماعی ضمیر کو شرمندہ کرتی جاتی ہیں۔ ہر پڑھنے والا شہری، خبر کے لفظوں سے مستقبل کی تاریکی دیکھتا ہے اور ہر دیکھنے والا وطن کی ممکنہ بربادی کے تصور تلے دبا جاتا ہے۔ مگر اس شور و غل، اس معاملہ ہائے و ہو میں اگر کچھ سنائی نہیں دیتا تو وہ بس اڈوں، قہوہ خانوں، لائبریریوں اور کتاب گھروں میں ہوتی وہ گفتگو ہے جو ایک محب وطن دوسرے سے کرتا ہے۔
Read more
