ایک ناخواندہ بچے کو خواندہ بنانے کا عہد!

یہ کراچی کا ایک کالج ہے۔ آفس کے سامنے بیٹھ کر طلباء فارم پُر کررہے تھے، دراصل یہ فارم انٹرمیڈیٹ بورڈ کے امتحانی فارم تھے۔ کوئی فارم کو پہلے پینسل سے پھر پین سے فیئر کررہا تھا تو کوئی جلد باز ڈائیریکٹ پین سے پُر کررہے تھے۔ کوئی جلد بازی کی بنا پر غلط لکھ جانے پر اب اس لکھائی پر وائٹو یا ریموور پھیر رہا تھا۔ ’ارے فارم میں گندگی نہیں کرو، اوور رائیٹنگ اور وائٹو پھرا ہوا فارم

Read more

شہرِِ کراچی ؛ مفلوک الحال کفیل

روشنیوں کا وہ دیا جس سے ہر گھر روشن تھا اب آندھیوں اور طوفان خیز جھکڑوں کی زد میں ہے اور اس دیے پر یہ تباہی برپا کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود کے محافظ اور نگران ہیں۔ کراچی ایک شہر جو انتہائی شفیق باپ کی طرح اپنے اندر ہر ایک کو سمیٹ کر اس کی کفالت کرتا رہا ہے، آج خود مفلوک الحال اور کسمپرسی کی حالت کا شکار ہے۔ محافظ اس روشن دیے کی حفاظت کا نام

Read more