چائے اور میں مترادف ہی رہے
کیسی بھی شے کے جب آپ عادی ہوجائیں تو سمجھیں آپ نے اپنی زندگی اس کی مرہون منت کر دی۔ اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا۔ ”نہیں رہ سکتی تیرے بنا“ ، ”نہ، ناممکن“ ۔ اور جب آپ لفظ ”ناممکن“ استعمال کر لیتے ہیں تو گویا آپ نے اپنے ہاتھ پاؤں چھوڑ دیے، تنکے کے سہارے کی بھی آرزو نہ رہی۔ کبھی بہ حیلۂ ”فریش“ تو کبھی بہانہ ”ریلیکس“ ۔
کچھ ایسا ہی حال میرا ہے ”چائے“ کے بنا۔ میری صبح تو ہو ہی نہیں سکتی چائے کے بغیر۔ شام اور چائے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں۔ محفل رنگ پہ آہی نہیں سکتی جب تک چائے کی پیالیاں باہم نہ ٹکرائیں۔ چائے کی مدہوش کردینے والی گرم گرم بھاپ سے اٹھتی خوشبو۔ ”ہائے اللہ کوئی اس مدھر خوشبو کا پرفیوم بنانے کا کیوں نہیں سوچتا“ ۔ یعنی کہ پی بھی گئے چھلکا بھی گئے والی کیفیت ہو جائے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ چائے بناتے تکان محسوس نہیں ہوتی بلکہ ”فضا میں خوش بو کے رنگ جاگے“ سا احساس ہوتا ہے۔ اور اگر آپ دو پیالی بنا رہے ہوں، یعنی کہ ”ساتھ، گپیں اور چائے“ تو بس ہائے۔
Read more
