چائے اور میں مترادف ہی رہے

کیسی بھی شے کے جب آپ عادی ہوجائیں تو سمجھیں آپ نے اپنی زندگی اس کی مرہون منت کر دی۔ اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا۔ ”نہیں رہ سکتی تیرے بنا“ ، ”نہ، ناممکن“ ۔ اور جب آپ لفظ ”ناممکن“ استعمال کر لیتے ہیں تو گویا آپ نے اپنے ہاتھ پاؤں چھوڑ دیے، تنکے کے سہارے کی بھی آرزو نہ رہی۔ کبھی بہ حیلۂ ”فریش“ تو کبھی بہانہ ”ریلیکس“ ۔

کچھ ایسا ہی حال میرا ہے ”چائے“ کے بنا۔ میری صبح تو ہو ہی نہیں سکتی چائے کے بغیر۔ شام اور چائے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہیں۔ محفل رنگ پہ آہی نہیں سکتی جب تک چائے کی پیالیاں باہم نہ ٹکرائیں۔ چائے کی مدہوش کردینے والی گرم گرم بھاپ سے اٹھتی خوشبو۔ ”ہائے اللہ کوئی اس مدھر خوشبو کا پرفیوم بنانے کا کیوں نہیں سوچتا“ ۔ یعنی کہ پی بھی گئے چھلکا بھی گئے والی کیفیت ہو جائے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ چائے بناتے تکان محسوس نہیں ہوتی بلکہ ”فضا میں خوش بو کے رنگ جاگے“ سا احساس ہوتا ہے۔ اور اگر آپ دو پیالی بنا رہے ہوں، یعنی کہ ”ساتھ، گپیں اور چائے“ تو بس ہائے۔

Read more

اور میری آنکھ کھل گئی

یہ میرا خواب تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ اتنا مطمئن اور پرسکون خواب میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

میرے خواب بھی نا ہمیشہ سے ہی کچھ اول جلول سے ہوتے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے کچھ خواب ریپیٹ ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں بار بار وہی۔ یعنی کہ حد ہی ہو گئی۔ کبھی پہاڑ سے گر رہی ہوں تو کبھی کھنڈرات میں بھٹک رہی ہوں نہ جانے کس کی تلاش میں، تو کبھی ندی میں بہی جا رہی ہوں، اور کچھ نہیں تو پنکھا گر جاتا ہے مجھ پہ۔ ۔ ۔ لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھ کر کروٹ بدلی اور بس یونہی پوری رات کروٹیں بدلتے گزر جاتی ہے۔ چند راتیں سکون کی پھر وہی خواب۔ بندے نے خواب دیکھنا ہے تو کچھ اچھا دیکھے، مزے مزے کا چٹخارے دار دیکھے۔

Read more