ہم لڑیں گے: شاعر کا اعلان

ڈاکٹر آکاش انصاری کا شمار سندھی ادب میں نازک نفیس جذبات رکھنے والے رومانی اور انقلابی شاعروں میں ہوتا ہے۔ جنرل ضیا کے آمری دور میں انہوں نے جو انقلابی شاعری کی ان کے وہ گیت اور نظم آج بھی سندھ کے نوجوانوں اور جمہوری تحریکوں میں حصہ لینے والوں کو زبانی یاد ہیں۔ وہ شاعر جو دار کے درد کو بھی ایک لذت بھرا درد قرار دیتے ہوئے نظم لکھتا ہے (تم پوچھتے ہو صنم میں چلا کیوں گیا۔ دار کے درد میں ایک لذت تھی جو کھینچ گئی مجھے)۔ اس سمیت سیکڑوں ایسے نظمیں گنوائی جا سکتی ہیں، جنہوں نے اس دور کی سیاسی تحریکوں میں جان ڈالی اور انقلابیوں کی اکثر محفلوں میں ان نظموں کو گنگنایا جاتا تھا۔ وہ شاعر اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کی رہنمائی کر رہے تھے۔ بدیں کو پانی دو، بدین کو تباہی سے روکو، بدین سے ظلم بند کرو، کے نعرے لگاتے احتجاج کرتے ہوئے لوگوں میں اکثریت لکھاریوں، شاعروں اور نوجوانوں کی تھی۔

Read more

مریضوں کا حق ڈیم کی نذر

کراچی کے جناح ہاسپیٹل سے کون واقف نہیں۔ نہ صرف صوبے بھر کے تمام اضلاع سے مریض یہاں علاج کے لئے آتے ہیں بلوچستان سے بھی بڑی تعداد مریضوں کی آخری امید جناح اسپتال ہی ہوتی ہے۔ سندھ کے گاؤں دیہاتوں اور چھوٹے شھروں کے عطائی ڈاکٹروں، پرائیویٹ کلینکس اور سرکاری اسپتالوں میں علاج کراتے…

Read more

کولھیوں کا مقدر خودکشیاں ہی کیوں؟

زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں سندھی زبان میں شایع ہونے والی فقط دو ہفتوں کے اخبارات ہی دیکھ لیں تو آپ کی حیرت کی انتہا نہیں رہے گی جن میں تسلسل کے ساتھ خودکشیوں کی خبریں پڑھنے کو ملیں گی اور خودکشیاں کرنے والون یا والیوں کی اکثریت کا تعلق ھندو مذھب سے تعلق…

Read more

بھٹائی کی سورمیوں جیسی کلثوم نواز

لاہور کا وہ صحافی جو مسلم لیگ نون پہ تنقید کا کوئی موقع ضایع نہیں کرتا، لیکن کلثوم نواز کی وفات کی خبر آنے کے بعد سوشل میڈیا پہ اس نے ایک نظم لکھ کر مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر دیا۔ اس نے لکھا: اے بھٹائی کہاں ہو تم؟ واپس آو دیکھو! تمھاری…

Read more