ہم لڑیں گے: شاعر کا اعلان
ڈاکٹر آکاش انصاری کا شمار سندھی ادب میں نازک نفیس جذبات رکھنے والے رومانی اور انقلابی شاعروں میں ہوتا ہے۔ جنرل ضیا کے آمری دور میں انہوں نے جو انقلابی شاعری کی ان کے وہ گیت اور نظم آج بھی سندھ کے نوجوانوں اور جمہوری تحریکوں میں حصہ لینے والوں کو زبانی یاد ہیں۔ وہ شاعر جو دار کے درد کو بھی ایک لذت بھرا درد قرار دیتے ہوئے نظم لکھتا ہے (تم پوچھتے ہو صنم میں چلا کیوں گیا۔ دار کے درد میں ایک لذت تھی جو کھینچ گئی مجھے)۔ اس سمیت سیکڑوں ایسے نظمیں گنوائی جا سکتی ہیں، جنہوں نے اس دور کی سیاسی تحریکوں میں جان ڈالی اور انقلابیوں کی اکثر محفلوں میں ان نظموں کو گنگنایا جاتا تھا۔ وہ شاعر اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کی رہنمائی کر رہے تھے۔ بدیں کو پانی دو، بدین کو تباہی سے روکو، بدین سے ظلم بند کرو، کے نعرے لگاتے احتجاج کرتے ہوئے لوگوں میں اکثریت لکھاریوں، شاعروں اور نوجوانوں کی تھی۔
Read more

