عہد حاضر کا استاد اور پروفیسر وارث میر

” کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل فکر و دانش کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ طبقہ جس قدر عصری تقاضوں کو سمجھنے اور تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ جلانے والا ہو، اسی قدر تیزی سے وہ قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے لیکن جس قوم کا دانشور طبقہ اپنے کردار سے غافل ہو جائے یا اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے، اس قوم کے زوال کے امکانات بھی اسی قدر بڑھ جاتے ہیں“

یہ الفاظ صحافت کے عظیم استاد اور حریت فکر کے مجاہد پروفیسر وارث میر کے ایک مضمون کے ہیں جو عہد حاضر کے اساتذہ اور اہل فکر و دانش کے لیے سنہری حروف کا درجہ رکھتے ہیں۔ آج کے دن نو جولائی کو تینتیس برس قبل وفات پا جانے والے صحافت کے عظیم استاد پروفیسر وارث میر کی فکر انگیز تحریریں، عملی جدوجہد اور بلند حوصلہ و کردار عہد حاضر کے اساتذہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ پروفیسر وارث میر نے ضیا کی بدترین آمریت کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے استاد ہونے کے باوجود حریت فکر کا علم بلند رکھا اور سیاسی، سماجی و مذہبی مسائل پر اپنی تحریروں کے ذریعے فکری رہنمائی کی، چالیس سال قبل لکھی گئی آزادی اظہار رائے، خواتین کے حقوق، فوج کے سیاسی کردار، جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر ان کی فکر انگیز تحریریں آج بھی تازہ محسوس ہوتی ہیں۔

Read more