شین خالئی

دریائے آمو کی مغرب سے لے کر سندھو دیوتا کی جنوب تک کا خطہ جو اونچے اونچے پر ہیئت پہاڑوں پہ مشتمل ہے۔ یہ خطہ تو ہے ہی حسین پر یہاں کے باسی بھی کوئی کم حسین نہیں۔ نہ ان کے ارادے یہاں کی پہاڑوں سے کم اونچے ہیں۔ یہ سارا خطہ پشتون قبائل کی اکثریت پہ مشتمل ہے۔ وہ چاہے امن و آشتی کے پیامبر مہاتما گوتم بدھ کی قدیم مجسموں کا وارث، شہر جلال آباد ہو یا کوہ

Read more

حاجی بختی گل اور خونخوار درندہ گورپٹو

یہ غالباً دو ہزار پانچ یا چھ کی بات ہوگی۔ جب آتش جوان نہیں تھا ابھی تک ایک کم سن بچہ تھا۔ خزاں سے ذرا پہلے کا موسم تھا۔ مکئی کی فصل تقریباً تیار ہو چکی تھی۔ جب مکئی کے پودے اتنے لمبے ہو جاتے کہ کوئی انسان یا گیدڑ، سور وغیرہ باآسانی چھپ سکتا تب اکثر و بیشتر گاؤں میں کوئی نہ کوئی افواہ گردش میں آتی۔ اس بار بھی اچانک یہ خبر مشہور ہوئی کہ گاؤں میں ایک خونخوار درندہ ”گور پٹو“ در آیا ہے جو آس پاس منڈلاتا پھر رہا ہے۔ پہلے پہل تو اس افواہ پہ کان نہ دھرے گئے۔ مگر پھر آئے دن خبریں آنے لگی کہ پاس کے گاؤں میں فلاں فلاں کے عزیز پہ ”گور پٹو“ نے حملہ کر دیا ہے اور وکٹم کی حالت تشویشناک بتائی جاتی تھی۔ فون وغیرہ تو تھیں نہیں کہ خبر کی تصدیق کی جاتی۔ ہوتے ہوتے مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا۔ ہم سبھی کو یقین ہو چلا کہ ”گور پٹو“ واقعی وجود رکھتا ہے، گردونواح میں منڈلا رہا ہے اور انسانوں پہ حملہ آور ہوتا ہے۔

Read more