وادی کوئٹہ کی صدائیں

آج تو رونے دے مجھے! اب تو حد ہے آخر کب تک یوں میں لہو لہو ہوتی رہوں گی؟ آخر کب تک میں یوں لاشیں اٹھاتے رہوں گی؟ ایک وقت تھا لوگوں کے لیے میں جنت تھی۔ میرے موسم، میرے لوگ سب اچھے تھے۔ کسی زمانے میں چھوٹا لندن ہوا کرتی تھی، میری اونچی اونچی پہاڑیوں چوٹیوں کے دامن میں چکور پیار کے گیت گنگناتے تھے تو چلتن جھوم جایا کرتی تھی۔ میں زندہ تھی تو پوری طرح زندہ تھی،

Read more

اُردو میڈیم بچے زندگی کہ دوڑ میں پیچھے آخر کیوں؟

کہتے ہیں اگر آپ کسی قوم کے وجود کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس قوم سے تعلیم چھین کر اسے نشہ کا عادی بنا دیں تووہ قوم اپنا وجود خود بخود کھودے گی یعنی تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو شعور کے اعلیٰ درجات پر فائز کراسکتا ہیں۔ جو انسان کو اپنے خالق کی پہچان کراتاہے، اسے اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے۔ اگر تعلیم کی اہمیت نا ہوتی تو اللہ پاک قرآن کی پہلی آیت

Read more

بلوچستان کی نصابی کتابوں کا مختصرجائزہ

قومیں تب تک ترقی نہیں کرسکتیں جب تک کے علم کے ہتھیار سے لیس نہ ہوں. دنیا میں سب سے مضبوط اور طاقت ور ہتھیار قلم اور کتاب کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتے. جن قوموں نے قلم اور کتاب کا ہتھیار یعنی علم کا سہارا لیا، آج وہ خوش حال ہوگئے اور آج وہ پہلی دنیا کے لوگ کہلاتے ہیں- اور ہمارے جسے ملکوں نے تعلیم کو زیادہ ہمیت نا دی تو آج ہم تیسری دنیا کے باشندے ہیں-

Read more

ایک سفر، گوادر اور میری محبوبہ

پنجگور مجھے عزیز ہے کیونکہ میں یہاں پیدا ہوا اور یہاں پر پلا بڑھا۔ اور گوادر سے مجھے پیار ہے کیونکہ وہاں پر میری محبت موجود ہے یعنی کہ سمندر۔ اپنی محبت سے ملنے میں نے رخت سفر باندھا اور چل پڑا۔ پنجگور کا موسم اُداس ہے کیونکہ گُوریچ کی تیز ہواؤں نے ہرچیز کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا ہیں۔ پہاڑ تو پہلے سے خشک ہے اور پہاڑوں کے مکین مرچکے ہیں پہاڑوں میں اب کچھ نہیں۔ کبھی اِن

Read more