بلاول بھٹو کی تقریر، مخدوم بلاول کی للکار

بلاول بھٹو کی محترمہ بے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی پر کی جانے والی تقریر کے یوں تو کئی پہلو تھے، جن کی ہر حوالے سے تشریح کی جا سکتی ہے، مگر ایک پہلو جو بہت حلقوں میں موضوعِ بحث بنا، وہ تھا ایک نظم کا قافیہ۔  ’’وہ باغی تھی مین باغی ہوں‘‘۔ اس دور کے رسم رواجوں سے یہ نوجوان بغاوت کرنے چل نکلا، جس کی پشت پہ شہیدوں کی قبریں اور ان کا نظریہ ہے۔

سندھ میں اکثر و بیش تر بغاوت کے کرداروں کو یاد کیا جاتا ہے۔ وہ منصور حلاج ہوں، شہید شاہ عنایت ہوں یا مخدوم بلاول اور شہید ذوالفقار علی بھٹو۔ بلاول بھٹو کی تقریر کے وقت سماں سوگ وار تھا۔ ڈھلتی سرد شام میں خاموش بیٹھے، ایک جیالے نے مجھے سندھی میں کہا، یہ بلاول بھٹو کے آواز میں مخدوم بلاول بول رہا ہے اور بلاول بھٹو کا اگلا جملہ یہ تھا، کہ ’’میں باغی ہوں، میں باغی ہوں‘‘۔

Read more