تدریس پیشہ یا نصب العین؟

امام ابو حنیفہؒ سے کسی نے سوال کیا کہ استاد کیسا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ استاد جب طالب علموں کو پڑھا رہا ہو تو غور سے دیکھو، اگر ایسے پڑھا رہا ہے جیسے اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے تو استاد ہے، اگر لوگوں کے بچے سمجھ کر پڑھا رہا ہے تو استاد نہیں…

Read more

رمضان کا الوداعی پیغام

مسلمانو! میں جا رہا ہوں۔ نوجوانو! میں جا رہا ہوں۔ کیا پتہ پھر تمہیں میری رفاقت نصیب ہو نہ ہو۔ آؤ! اس سے پہلے کہ میں تم سے بچھڑ جاؤں۔ مجھے گلے سے لگا لو۔ میرے فیوض و برکات سے اپنے سینوں کو منور کر لو۔ دیکھو! اللہ کے صالح اور نیک بندے، عابد و زاہد بندے اپنی صالحیت کے باوجود رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں، گڑگڑا رہے ہیں، گناہوں سے توبہ کر رہے ہیں۔ آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کر رہے ہیں۔

Read more

گرمی کی چھٹیاں کیسے گزاریں؟

اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں گرمی کی چھٹیاں شروع ہونے والی ہیں۔ عموماً یہ چھٹیاں ڈیڑھ سے دو مہینے کی ہوتی ہیں۔ چھٹیوں کے یہ دن زیادہ تر طلبہ و طالبات بس یوں ہی گزار دیتے ہیں۔ بہت زیادہ ہوا تو کہیں سیر و تفریح کے لیے چلے گئے، موویز دیکھ لیں یا پھر سارا…

Read more

شخصیت کی تعمیر میں ’سوچ‘ کا کردار

میں نے محسوس کیا ہے کہ اسکول میں عموماً جن بچوں کو ناغہ کرنے کی عادت ہوتی ہے، وہ کسی نہ کسی بہانے سے اسکول ناغہ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ان کے پاس کوئی بہانہ نہ ہو تو بسا اوقات فطری طور پر انہیں کوئی بہانہ مل جاتا ہے۔ مثلاً وہ بیمار پڑ جاتے ہیں، گھر میں مہمان آ جاتے ہیں، کسی رشتہ دارکی شادی ہو جاتی ہے، کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو جاتا ہے وغیرہ۔ اس کے برخلاف پابندی سے اسکول آنے والے بچے شاید ہی کبھی بیماری یا کوئی اور عذر لے کر آتے ہیں۔ایک بار میری جماعت کا ایک بچہ ایک ہی سال میں تیسری مرتبہ شادی کے نام پر چھٹی مانگنے آیا تو میں نے جماعت کے ان بچوں سے جو پابندی سے اسکول آتے ہیں، ہنستے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ کے خاندان میں سب لوگ کنوارے ہی رہتے ہیں؟ آپ لوگوں نے کبھی شادی کے نام پر چھٹی نہیں مانگی؟ میرے اس سوال پر کلاس کے سبھی بچے مسکرانے لگے۔

Read more

کیا ہماری روح مطمئن ہے؟

ہمارا وجود جسم اورروح کا مرکب ہے۔ جس طرح ہماری جسمانی نشو ونما کے لیے اچھی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم غذاؤں کے معاملہ میں بداحتیاطی کرتے ہیں تو ہماری جسمانی صحت پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ٹھیک اُسی طرح ہماری روحانی نشوو نما کے لیے پاکیزہ روحانی غذائیں ناگزیر ہیں۔ جسمانی غذائیں ہمارے جسم پر اچھے اور برے اثرات مرتب کرتی ہیں جبکہ روحانی غذائیں ہمارے اخلاق و کردار اور ہماری شخصیت پر اچھے اور برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔جس طرح کچھ لوگ جسمانی غذاؤں کے معاملہ میں بہت زیادہ توجہ نہیں دیتے، وہ عموماً اپنی صحت سے پریشان رہتے ہیں۔ اسی طرح روحانی غذاؤں پر توجہ نہیں دینے سے ہم مختلف قسم کی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جسمانی غذاؤں کے مقابلے میں روحانی غذاؤں پر توجہ دینا نسبتاً زیادہ مشکل کام ہے۔ کیوں کہ جسمانی غذاؤں کا تعلق صرف ہمارے دہن سے ہے۔ یعنی غذائیں منھ کے ذریعہ سے ہمارے شکم میں ہوتی ہوئی جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچتی ہیں۔

Read more

مادیت گزیدہ نوجوان نسل کدھر جا رہی ہے؟

لادینیت، الحاد، مادیت، جنسی بے را ہ روی، ذہنی انتشار، ٹوٹتی بکھرتی اخلاقی و تہذیبی قدروں کے بیچ آج کی نوجوان نسل بظاہر عروج اور ببطان زوال کی انتہاؤں میں گر چکی ہے۔ اوپر سے ہنستے مسکراتے چہرے اندر سے بے شمار ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں۔ نئی نسل اپنے ذہنی انتشار کو دور کرنے کے لیے سگریٹ نوشی کرتی ہے، انٹرنیٹ پر وقت گزارتی ہے، انٹرنیٹ پر اپنا ہمدرد اور مہرباں تلاش کرتی ہے، فلمیں دیکھتی ہے، مغموم نغمے سنتی ہے لیکن ان سب کے باوجود اسے ذہنی آسودگی حاصل نہیں ہے۔

Read more

سرورِ خودی اور تصورِ خدا

علامہ جمیل مظہریؔ کا یہ مشہور شعر یقینا آپ نے سنا ہوگا بقدرِ پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ دوسروں کی ’توجہ‘ چاہتا ہے۔ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے…

Read more