لہجے اور رویے کی منافقت اور ہمارا اضطراب
انسان کرب میں ہے۔ بے انتہا کرب میں۔ وہ مصنوعی ہنسی ہنس رہا ہے۔ مصنوعی خوشیاں خرید رہا ہے۔ مصنوعی کھلونوں میں خود کو بہلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ اس نے خوب صورت لباس ضرور پہن رکھے ہیں لیکن اس کی روح زخمی ہے۔ اس کی زخمی روح کا کرب اس کی مصنوعی مسکراہٹ بیان کر رہی ہے۔ انسان ذہنی انتشار کا شکار ہے۔ وہ جس قدر سکون کا تعاقب کر رہا ہے اس کا اضطراب اسی قدر بڑھتا
Read more

