لہجے اور رویے کی منافقت اور ہمارا اضطراب

انسان کرب میں ہے۔ بے انتہا کرب میں۔ وہ مصنوعی ہنسی ہنس رہا ہے۔ مصنوعی خوشیاں خرید رہا ہے۔ مصنوعی کھلونوں میں خود کو بہلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ اس نے خوب صورت لباس ضرور پہن رکھے ہیں لیکن اس کی روح زخمی ہے۔ اس کی زخمی روح کا کرب اس کی مصنوعی مسکراہٹ بیان کر رہی ہے۔ انسان ذہنی انتشار کا شکار ہے۔ وہ جس قدر سکون کا تعاقب کر رہا ہے اس کا اضطراب اسی قدر بڑھتا

Read more

مصروفیت

آج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ مصروفیت ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ مصروف ہیں۔ ہمارے پاس اپنوں سے ملنے ان کے دکھ درد بانٹنے کا وقت نہیں ہے۔ اپنوں کی بات تو بہت بڑی ہے، ہمارے پاس اپنے آپ کے لیے وقت نہیں ہے۔ خود سے ملنے کے لیے ہم اتوار کا انتظار کرتے ہیں۔ انسان نے وقت کی بچت کے لیے بہت ساری ایجادات کیں۔ مشینیں بنائیں، کمپیوٹر اور روبوٹ بنائے لیکن مشینوں کی تیز رفتاری

Read more

بات بس اتنی سی ہے

کلمہ طیبہ ایک رسید ہے کہ آپ کو داخلہ مل گیا اب اس کے بعد آپ کو نصاب پڑھنا ہے، امتحانات دینے ہیں تب کہیں جا کر آپ کو ”تکمیل“ کی سند ملے گی۔ اب اگر کوئی طالب علم صرف رسید لے کر خود کو سند یافتہ سمجھنے لگے تو اسے نادان سمجھا جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ عبادات کا ہے۔ عبادات صرف حاضری Attendance ہے کہ میں حاضر ہوں۔ جس طرح صرف سو فیصد حاضری درج کر لینے

Read more

عبادت کا جامع تصور اور ہمارا طرز عمل

عبادت کے معاملہ میں ہمارا دینی تصور اس قدر محدود ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ عبادت کا مطلب صرف نماز، روزہ، حج اور زکٰوۃ سمجھتے ہیں۔ یقیناً یہ ساری عبادتیں ہیں لیکن اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ انہیں ادا کر لینے سے عبادت کا حق ادا ہو جائے گا تو یہ بڑا فکری مغالطہ ہوگا۔ عبادت کا معنی انتہائی وسیع ہے۔ لفظی اعتبار سے عبادت کا مطلب پرستش، غلامی اور اطاعت ہے۔ عبادت کی ایک جامع تعریف

Read more

پرسکون اور کامیاب زندگی کی شاہ کلید

کون ایسا انسان ہے جو پرسکون اور کامیاب زندگی گزارنا نہیں چاہتا؟ لیکن اکثر افراد کسی نہ کسی طور بے سکونی اور ناکامی کا رونا روتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بے سکونی اور ناکامی کا گلہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی کام یا واقعہ ہماری توقع کے برخلاف ہو۔ مثال کے طور پر ایک نوجوان نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اس نے اچھی ملازمت کے بڑے خواب دیکھے لیکن اسے اپنی محنت اور توقع کے مطابق ملازمت نہ مل

Read more

ذرائع کی تزئین: اصل سے گریز

نہ جانے کیوں خوب صورت تحریریں مجھے منھ چڑاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ سجے سجائے الفاظ آنکھوں سے ہوتے ہوئے دل تک نہیں پہنچ پاتے۔ بہت کم ہی لوگوں کی تحریریں متاثر کر پاتی ہیں۔ ادبی تحریریں تو جزوقتی سہی، تسکین ذوق کا سامان فراہم کر دیتی ہیں لیکن مذہبی تحریریں، ناصحانہ فیس بک پوسٹ اور واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھنے کے بعد کئی دفعہ میرے اندر کا کمزور سا فرشتہ بغاوت پر آمادہ ہونے لگتا ہے۔ بات دراصل اتنی ہے

Read more

اعتبار کا جادو

”اعتبار“ بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن اس لفظ میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا ایک گہرا سمندر پوشیدہ ہے۔ اعتبار انسان کو فرش سے عرش تک محبوب بناتا ہے۔ اگر آپ غور کریں تو یہ پوری کائنات ”اعتبار کی بنیاد“ پر قائم ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کا اعتبار کھو دیں تو نظام کائنات درہم برہم ہو جائے۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ سڑک پر چل رہے ہوں۔ اچانک کوئی آدمی آپ کے سامنے آئے اور آپ

Read more

رمضان کا الوداعی پیغام

مسلمانو! میں جا رہا ہوں۔ نوجوانو! میں جا رہا ہوں۔ کیا پتہ پھر تمہیں میری رفاقت نصیب ہو نہ ہو۔ آؤ! اس سے پہلے کہ میں تم سے بچھڑ جاؤں۔ مجھے گلے سے لگا لو۔ میرے فیوض و برکات سے اپنے سینوں کو منور کر لو۔ دیکھو! اللہ کے صالح اور نیک بندے، عابد و زاہد بندے اپنی صالحیت کے باوجود رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں، گڑگڑا رہے ہیں، گناہوں سے توبہ کر رہے ہیں۔ آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کر رہے ہیں۔

اللہ سے رحمت و مغفرت کی، اس کے جود و سخا کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھو۔ انبیاء، رسل، صحابہ کرام، اولیاء اللہ جن کی صالحیت کی قسمیں کھائی جاتی ہیں، اعمال صالحہ کی کثرت کے باوجود اللہ سے رو رو کر اس کی رحمت طلب کرتے تھے۔ کیا تمہارے اعمال ان پاک نفوس سے بھی تجاوز کر چکے ہیں کہ تمہیں اپنے رب کو راضی کرنے کی فکر نہیں ؟

Read more

اللہ بس باقی ہوس۔ آہ اسرار جامعی

سو گیا موت کی آغوش میں روتے روتے رات بھر اپنے لطیفوں سے ہنسانے والا یاد نہیں آ رہا ہے کہ یہ شعر کس کا ہے لیکن جس کا بھی ہو اس وقت اسرار جامعی صاحب مرحوم پر بالکل صادق آ رہا ہے۔ اسرار جامعی کوئی گمنام شاعر نہیں تھے۔ دنیا انہیں جانتی تھی اور خوب اچھی طرح جانتی تھی۔ ہاں۔ وہ دنیا کو نہیں جانتے تھے۔ بالکل نہیں جانتے تھے۔ تبھی تو انہیں یہ دن دیکھنا پڑا۔ کہ اپنوں

Read more

تدریس پیشہ یا نصب العین؟

امام ابو حنیفہؒ سے کسی نے سوال کیا کہ استاد کیسا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ استاد جب طالب علموں کو پڑھا رہا ہو تو غور سے دیکھو، اگر ایسے پڑھا رہا ہے جیسے اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے تو استاد ہے، اگر لوگوں کے بچے سمجھ کر پڑھا رہا ہے تو استاد نہیں ہے۔ امام ابو حنیفہ کے اس قول کو اگر کسوٹی مان لیا جائے تو ہم جیسے بے شمار لوگوں کو خود کو استاد کہتے ہوئے

Read more

رمضان کا الوداعی پیغام

مسلمانو! میں جا رہا ہوں۔ نوجوانو! میں جا رہا ہوں۔ کیا پتہ پھر تمہیں میری رفاقت نصیب ہو نہ ہو۔ آؤ! اس سے پہلے کہ میں تم سے بچھڑ جاؤں۔ مجھے گلے سے لگا لو۔ میرے فیوض و برکات سے اپنے سینوں کو منور کر لو۔ دیکھو! اللہ کے صالح اور نیک بندے، عابد و زاہد بندے اپنی صالحیت کے باوجود رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں، گڑگڑا رہے ہیں، گناہوں سے توبہ کر رہے ہیں۔ آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کر رہے ہیں۔

Read more

گرمی کی چھٹیاں کیسے گزاریں؟

اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں گرمی کی چھٹیاں شروع ہونے والی ہیں۔ عموماً یہ چھٹیاں ڈیڑھ سے دو مہینے کی ہوتی ہیں۔ چھٹیوں کے یہ دن زیادہ تر طلبہ و طالبات بس یوں ہی گزار دیتے ہیں۔ بہت زیادہ ہوا تو کہیں سیر و تفریح کے لیے چلے گئے، موویز دیکھ لیں یا پھر سارا دن نیٹ پر سرفنگ کرتے ہوئے گزار دیے جاتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو چھٹیوں کے ان بیش قیمتی اوقات کا بہترین استعمال کر سکتے

Read more

شخصیت کی تعمیر میں ’سوچ‘ کا کردار

میں نے محسوس کیا ہے کہ اسکول میں عموماً جن بچوں کو ناغہ کرنے کی عادت ہوتی ہے، وہ کسی نہ کسی بہانے سے اسکول ناغہ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ان کے پاس کوئی بہانہ نہ ہو تو بسا اوقات فطری طور پر انہیں کوئی بہانہ مل جاتا ہے۔ مثلاً وہ بیمار پڑ جاتے ہیں، گھر میں مہمان آ جاتے ہیں، کسی رشتہ دارکی شادی ہو جاتی ہے، کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو جاتا ہے وغیرہ۔ اس کے برخلاف پابندی سے اسکول آنے والے بچے شاید ہی کبھی بیماری یا کوئی اور عذر لے کر آتے ہیں۔ایک بار میری جماعت کا ایک بچہ ایک ہی سال میں تیسری مرتبہ شادی کے نام پر چھٹی مانگنے آیا تو میں نے جماعت کے ان بچوں سے جو پابندی سے اسکول آتے ہیں، ہنستے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ کے خاندان میں سب لوگ کنوارے ہی رہتے ہیں؟ آپ لوگوں نے کبھی شادی کے نام پر چھٹی نہیں مانگی؟ میرے اس سوال پر کلاس کے سبھی بچے مسکرانے لگے۔

Read more

کیا ہماری روح مطمئن ہے؟

ہمارا وجود جسم اورروح کا مرکب ہے۔ جس طرح ہماری جسمانی نشو ونما کے لیے اچھی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم غذاؤں کے معاملہ میں بداحتیاطی کرتے ہیں تو ہماری جسمانی صحت پر اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ٹھیک اُسی طرح ہماری روحانی نشوو نما کے لیے پاکیزہ روحانی غذائیں ناگزیر ہیں۔ جسمانی غذائیں ہمارے جسم پر اچھے اور برے اثرات مرتب کرتی ہیں جبکہ روحانی غذائیں ہمارے اخلاق و کردار اور ہماری شخصیت پر اچھے اور برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔جس طرح کچھ لوگ جسمانی غذاؤں کے معاملہ میں بہت زیادہ توجہ نہیں دیتے، وہ عموماً اپنی صحت سے پریشان رہتے ہیں۔ اسی طرح روحانی غذاؤں پر توجہ نہیں دینے سے ہم مختلف قسم کی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جسمانی غذاؤں کے مقابلے میں روحانی غذاؤں پر توجہ دینا نسبتاً زیادہ مشکل کام ہے۔ کیوں کہ جسمانی غذاؤں کا تعلق صرف ہمارے دہن سے ہے۔ یعنی غذائیں منھ کے ذریعہ سے ہمارے شکم میں ہوتی ہوئی جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچتی ہیں۔

Read more

مادیت گزیدہ نوجوان نسل کدھر جا رہی ہے؟

لادینیت، الحاد، مادیت، جنسی بے را ہ روی، ذہنی انتشار، ٹوٹتی بکھرتی اخلاقی و تہذیبی قدروں کے بیچ آج کی نوجوان نسل بظاہر عروج اور ببطان زوال کی انتہاؤں میں گر چکی ہے۔ اوپر سے ہنستے مسکراتے چہرے اندر سے بے شمار ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں۔ نئی نسل اپنے ذہنی انتشار کو دور کرنے کے لیے سگریٹ نوشی کرتی ہے، انٹرنیٹ پر وقت گزارتی ہے، انٹرنیٹ پر اپنا ہمدرد اور مہرباں تلاش کرتی ہے، فلمیں دیکھتی ہے، مغموم نغمے سنتی ہے لیکن ان سب کے باوجود اسے ذہنی آسودگی حاصل نہیں ہے۔

Read more

سرورِ خودی اور تصورِ خدا

علامہ جمیل مظہریؔ کا یہ مشہور شعر یقینا آپ نے سنا ہوگا بقدرِ پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ دوسروں کی ’توجہ‘ چاہتا ہے۔ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے وہ مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔ ایک شیر خوار بچہ بھوک لگنے کی صورت میں رو کر اپنی ماں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ توجہ

Read more